رسول اللہ ﷺ سے محبت کا تقاضہ

اپ ڈیٹ 12 دسمبر 2016

ای میل

قرآن میں ہے کہ: "محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ خدا کے پیغمبر اور نبیوں (کی نبوت) کی مہر (یعنی اس کو ختم کردینے والے) ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے" (سورۃ الاحزاب، آیت 40)

نبی اکرم ﷺ پر قرآن 23 سال کے عرصے میں نازل ہوا، اور انہوں نے ظلم و جبر کا سامنا کرتے ہوئے اپنے لوگوں کو خدا کا پیغام قرآن کی صورت میں پہنچایا۔ ان کے ساتھیوں نے جسمانی و ذہنی جبر کا سامنا کیا، اور مکہ سے نکال دیے جانے پر مدینہ کی جانب ہجرت کی۔ یہاں اللہ کے احکامات ملنے پر رسول اللہ ﷺ نے قریش سے کئی جنگیں لڑیں، اور آخر کار حج کے لیے مکہ واپس آئے؛ اسی کعبہ کے سامنے جہاں ان کے اور ساتھیوں کے آنے پر پابندی تھی۔

جنگ و امن کے دوران ان کی قائدانہ صلاحیتیں غیر معمولی تھیں۔ انہیں بہترین منصوبہ سازوں میں قرار دیا جاتا ہے، جنہوں نے دنیا بھر میں بے شمار لوگوں کی زندگیوں پر اثر ڈالا ہے۔ عسکری اور عوامی فیصلوں کے لیے وہ ہمیشہ اپنے اصحاب سے رائے لیتے، اور اتفاقِ رائے سے عمل کرتے۔

جنابِ عیسیٰ علیہ السلام اور جنابِ موسیٰ علیہ السلام سمیت دیگر انبیاءِ کرام کے برعکس ان کی زندگی کے حالات کافی نمایاں ہیں۔ ان کے الفاظ اور اعمال مسلماںوں کی کئی نسلوں کے ذریعے ہم تک پہنچے ہیں، جنہیں محدثین نے محفوظ کیا ہے اور احادیث کی کتابوں کی صورت میں جمع کیا ہے۔ جب بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کیسے تھے، تو انہوں نے کہا کہ وہ قرآن کی عملی تفسیر تھے۔

قرآن میں ہے کہ: (اور اپنے) پیغمبر (بھی بھیجے ہیں) جو تمہارے سامنے خدا کی واضح المطالب آیتیں پڑھتے ہیں تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ہیں ان کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے آئیں اور جو شخص ایمان لائے گا اور عمل نیک کرے گا ان کو باغہائے بہشت میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہیں ہیں ابد الاآباد ان میں رہیں گے۔ خدا نے ان کو خوب رزق دیا ہے." (سورۃ الطلاق، آیت 10 سے 11)۔ درحقیقت قرآن رسول اللہ ﷺ کی درست ترین سوانحِ عمری ہے۔

مسلمانوں اور عقلیت پسند غیر مسلموں کے درمیان اس بات پر کوئی اختلاف نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی سچائی، ایمانداری، اور غریب و مجبور طبقے کے حقوق کے لیے تھی۔ فرانسیسی لکھاری الفونسے ڈی لامارٹین کے مطابق: "ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ انسانی عظمت جانچنے کے جتنے بھی معیار ہیں، کیا ان میں سے کسی بھی معیار پر کوئی انسان ان سے زیادہ عظیم ہے؟"

لکھاری ریویرنڈ بوس ورتھ اسمتھ کے مطابق وہ بیک وقت قیصر بھی تھے اور پوپ بھی، مگر ان کی شخصیت پوپ کی طرح بناوٹی نہیں تھی اور نہ ہی ان کے پاس قیصر کی طرح زبردست لشکر تھے۔ کسی فوج کے بغیر، ذاتی محافظوں کے بغیر، محل کے بغیر، اور باقاعدہ آمدنی کے بغیر، اگر کسی شخص کو یہ کہنے کا حق حاصل ہے کہ وہ اپنی حکومت کو اللہ کا حکم قرار دے، تو وہ محمد تھے؛ کیوں کہ ان کے پاس کسی بھی مادی ذریعے کے بغیر ہی تمام تر طاقت موجود تھی۔"

مگر یہ امریکی لکھاری واشنگٹن اروِنگ ہیں جو ان کی شخصیت کی بہترین خاکہ نگاری کرتے ہیں۔ "وہ سادہ خوراک پسند کرتے اور باقاعدگی سے روزے رکھا کرتے۔ غریبوں اور امیروں، دوستوں اور اجنبیوں، طاقتوروں اور کمزوروں سب کے ساتھ مساوی سلوک کرتے، اور عام لوگوں میں محبت سے ملنے اور ان کی شکایتوں پر توجہ دینے کی وجہ سے مقبول تھے۔ طاقت کے عروج کے دنوں میں بھی انہوں نے اپنے مشکلات کے دور والا سادہ رویہ اور حلیہ برقرار رکھا۔ اگر کمرے میں داخل ہونے پر ان کے لیے کوئی غیر معمولی آداب بجائے لائے جاتے تو وہ ناپسندیدگی کا اظہار کرتے۔" کیرن آرمسٹرانگ انہیں ایک رحم دل شخص اور مصلح کے طور پر بیان کرتی ہیں۔

رسول اللہ ﷺ پیر کے روز پیدا ہوئے تھے، اس لیے وہ اس دن روزہ رکھا کرتے۔ وہ مردوں اور عورتوں سے ایک سا رویہ رکھتے۔ اپنا زیادہ تر وقت یا تو عبادات میں گزارتے، یا لوگوں کو مشورے دینے میں۔ وہ بچوں سے محبت کرتے تھے اور گھر کے کام میں ازواج کی مدد کرتے۔ جیسا کہ حدیث مبارک میں ہے، "وہ خود کو اپنے گھرانے کی خدمت میں مصروف رکھتے، اور جب نماز کا وقت ہوتا، تو اس کی طرف توجہ کرتے۔" (بخاری)

زندگی کے ہر شعبے میں انہوں نے جو بھی کردار ادا کیا — رہنما کا، شوہر کا، باپ کا، رشتے دار کا، دوست کا — ان کی مثال دنیا کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے شادی کی، خاندان بسایا، اور اپنے لوگوں کے ساتھ زندگی گزاری اور تجارت کی۔ انہوں نے ذاتی مسئلے، غربت، بھوک، اور سخت ترین حالات کا سامنا کیا۔ انہوں نے اپنے دشمنوں کے ظلم کے جواب میں صبر کیا، ان پر رحم کیا، اور جنگی قیدیوں کے ساتھ اچھے سلوک کو یقینی بنایا۔ انہوں نے لوگوں کو تمام انسانوں کے ساتھ اچھے سلوک اور وسائل کے عقلمندانہ استعمال کی تلقین کی۔ ان کی دانائی کا کوئی مقابلہ نہیں تھا۔

دنیا بھر کے مسلمان رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتے ہیں اور ان کی سنت کو خود کے لیے مشعلِ راہ سمجھتے ہیں۔ انہیں اس بات پر ضرور سوچنا چاہیے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کا طرزِ عمل اپناتے ہوئے ایمانداری، شفقت، اور رحم دلی کا مظاہرہ کرنا چاہیے، یا جلوسوں، نعرے بازیوں اور گھسی پٹی تقریروں میں وقت ضائع کرنا چاہیے۔

کیا رسول اللہ ﷺ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ ہمارے ارکانِ پارلیمنٹ ان کے میلادِ مبارک کی خوشی میں سرکاری خرچ پر مدینہ گئے، اور ساتھ ہی ساتھ خود کی تنخواہوں میں اس وقت بے پناہ اضافہ کر لیا جب غریب مزدور دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں؟

افسوس کی بات ہے کہ دولت اور طاقت کی دوڑ میں ہم نے منافقت سے کام لیتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی بے نفسی، سادگی، اور انسانوں سے محبت کرنے کی اقدار کو بھلا دیا ہے۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 12 دسمبر 2016 کو شائع ہوا۔