عالمی ریکارڈ امریکی خاتون سے دو قدم دور

اپ ڈیٹ 14 دسمبر 2016

ای میل

کیسی ڈیپکول میئر کراچی وسیم اختر کے ساتھ — فوٹو بشکریہ میئر کراچی فیس بک پیج
کیسی ڈیپکول میئر کراچی وسیم اختر کے ساتھ — فوٹو بشکریہ میئر کراچی فیس بک پیج

پوری دنیا کے تمام ممالک کا سفر کرنا آج کے دور میں کتنے عرصے میں ممکن ہے؟ اس کا جواب کافی مشکل ہوسکتا ہے مگر یہ 27 سالہ خاتون 19 ماہ کے عرصے میں اسے ممکن بنا کر تیز ترین وقت کا عالمی ریکارڈ بنانے کے قریب ہے۔

جولائی 2015 میں امریکی ریاست کنیکٹیکٹ سے تعلق رکھنے والی کیسی ڈیپکول نے دنیا کے تمام 196 آزاد ممالک کے سفر کا آغاز کیا تھا اور گزشتہ 16 ماہ کے دوران وہ 193 ممالک کا سفر کرچکی ہیں۔

🌲 Between every two pines is a doorway to a new world. - John Muir 🌲 • • • #Expedition196 #EveryCountryinTheWorld #Iguazu

A photo posted by ᶜᴬˢˢᴵᴱ ᴰᴱ ᴾᴱᶜᴼᴸ| ᴼᶠᶠᴵᶜᴵᴬᴸ ᴾᴬᴳᴱ (@expedition_196) on

اب 13 دسمبر کو وہ اس عالمی سفر کے سلسلے میں پاکستان کے صنعتی حب کراچی پہنچی جب کہ وہ لاہور اور اسلام آباد بھی جائیں گی اور اس طرح وہ اپنے عالمی ریکارڈ کے حصول کے مزید قریب ہوگئی ہیں۔

کیسی کو توقع ہے کہ وہ جنوری تک تمام ممالک سفر کرکے مختصر ترین وقت میں یہ ہدف حاصل کرنے والی شخصیت بن جائیں گی۔

تاہم ان کا سفر محض ریکارڈ قائم کرنے کے لیے ہی نہیں بلکہ اس کا مقصد دنیا میں امن کو فروغ دینا بھی ہے۔

اپنے بلاگ ایکسپیڈیشن 196 میں انہوں نے تحریر کیا ' ایک نوجوان خاتون کے طور پر میں ہمیشہ سے جتنے ممکن ہو اتنے متعدد ممالک کے سفر کا خواب اور اپنی دنیا کو ایک بہتر مقام بنتے دیکھنے کا خواب دیکھتی تھی، اس خواب نے مجھے سخت جان بنایا، اس کے بغیر میںاندر کی آگ کو بھڑکانے اور اس کو ممکن بنانے میں ناکام رہتی'۔

اپنے اس ریکارڈ شکن عالمی سفر سے قبل مختلف مقامات کی سیر، بیرون ملک قیام، ماسٹر ڈگری کے حصول اور ڈسکوری چینل کے لیے پاناما کے ایک جنگل کی فلمبندی کے بعد اس خاتون نے دنیا کے ایک بڑے نقشے کو لیا اور اپنے سفر کی منصوبہ بندی شروع کردی۔

Rainy day in Riyadh 🇸🇦🌧🇸🇦 • • • Last December, my coordinator over at Guinness World Records told me that a couple of women who were attempting the same record requested that the record be broken into two separate categories; male and female, and that women should have more time than men to complete the record because "women have more challenges entering countries", is what they said. So, Guinness abided, and separated the record into two categories (6 months into my Expedition) giving men 3 years to break the record and women, 4. When I asked her who on earth and why on earth would that/those woman/women think that women in general need more time than men to travel, they told me that they said it's because "women can't go alone into Saudi Arabia, therefore using that as an example, it takes women longer". Made me question if these women had even attempted to enter Saudi? Nevertheless, I emailed Guinness on several occasions to change the record back to how it was, EQUAL, but never received a response. I'm still so thrown off and upset about it, but actions speak louder than words and I'm about to shatter the previous (men's) record in over half the time. I also am here in Riyadh, after not only ENTERING the country ALONE as a woman, but walking around the streets, taking this photo ALONE, as a woman. My visa and nothing about entering or preparing for Saudi Arabia delayed me in any way, shape or form. In fact, I have not been delayed entry into ANY COUNTRY, because of the fact that I'm a woman. Ludicrous and obscured. I hope to stand for women's equality now and forever and hope that my record breaking attempt will prove that point by speaking for itself. • • • I loved Saudi, I went in wearing my abaya AND hijab only to find that half the woman in the airport weren't wearing a hijab. I was soon told that it wasn't necessary to, but that the abaya was. Thankfully, I have a 5 year visa, and I plan on going back (alone) to spend more than just a couple days there and really dive into the history and culture. I have several friends from Saudi and am eager to learn more from them. Until next time ❤️🇸🇦

A photo posted by ᶜᴬˢˢᴵᴱ ᴰᴱ ᴾᴱᶜᴼᴸ| ᴼᶠᶠᴵᶜᴵᴬᴸ ᴾᴬᴳᴱ (@expedition_196) on

اپنے ایک بلاگ میں انہوں نے لکھا ' اب لگ بھگ دو ماہ اور 18 ممالک کے سفر کے بعد میری ترجیحات بہتری کی جانب منتقل ہوگئی ہے، میں اپنے لیے دیگر افراد اور ہماری دنیا سے زیادہ نہیں پانا چاہتی'۔

ان کا کہنا تھا ' ہر ملک کے سفر کا ابتدائی مقصد آغاز میں اتنا بامقصد نہیں تھا، مگر نوجوانوں کی آنکھوں کو دیکھنے اور ان کی باتیں سن کر ان کی صلاحیتوں اور لامحدود مواقعوں کو جاننے کے بعد میں نے جانا یہ وہ زندگی ہے جو میں نے جینی ہے'۔

اگرچہ انہوں نے اپنے اس سفر کے اخراجات کا تخمینہ دو لاکھ ڈالرز لگایا تھا تاہم یہاس سے تجاوز کرچکا ہے تاہم کیسی کے لیے اتنا زیادہ بجٹ اسپانسرز کے عطیات سے ممکن ہوا، جو دنیا بھر میں مخصوص ہوٹلوں میںمفت قیام کرتی ہیں جس کے عوض وہ ان کی انسٹاگرام پر ایڈورٹائزنگ کرتی ہیں۔

کیسی یہ سفر انٹرنیشنل انسٹیٹوٹ فار پیس تھرو ٹور ازم کی امن اور گلوبل سیٹزن کی سفیر کے طور پر بھی کررہی ہیں جبکہ پاکستان میں وہ پیسیفک ٹریول ایسوسی ایشن کی پاکستان شاخ کی مہمان ہیں۔

عام طور پر کیسی کسی ملک میں دو سے پانچ دن تک قیام کرتی ہیں اور اتنے زیادہ ممالک کے سفر کے لیے ویزوں کے باعث ان کے چار پاسپورٹس بھر چکے ہیں۔

Will probably go through one more of these bad boys before I finish #expedition196 💅🏽 #braggingrights

A photo posted by ᶜᴬˢˢᴵᴱ ᴰᴱ ᴾᴱᶜᴼᴸ| ᴼᶠᶠᴵᶜᴵᴬᴸ ᴾᴬᴳᴱ (@expedition_196) on

دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام ممالک کے ویزوں کے حصول کے دوران انہیں پاکستان کے ویزے کے لیے سب سے زیادہ انتظار کرنا پڑا اور لگ بھگ 4 ماہ کی کوششوں کے بعد وہ اس میں کامیاب ہوسکیں جس کی وجہ سے ان کا ستمبر میں پاکستان آنے کا منصوبہ دسمبر میں پورا ہوا۔

اس بارے میں انہوں نے اپنے انسٹاگرام پر یہ لکھا ' آج ایکسپیڈیشن 196 کے لیے ایک یادگار دن ہے،،، کیوں؟ کیونکہ 4 ماہ کے بعد میرا پاکستانی ویزے کی آخرکار منظوری مل گئی ہے'۔

Once we realize the extraordinary power we have to compose our lives, we’ll move from passive, conditioned thinking to being co-creators of our fate. - Jason Silva • • • #expedition196 #somalia

A photo posted by ᶜᴬˢˢᴵᴱ ᴰᴱ ᴾᴱᶜᴼᴸ| ᴼᶠᶠᴵᶜᴵᴬᴸ ᴾᴬᴳᴱ (@expedition_196) on

اپنے پاکستان میں قیام کے دوران کیسی کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے اہم مقامات کو دیکھیںگی، جبکہ کراچی میں انہوں نے میئر وسیم اختر سے ملاقات کرکے ایک پودا بھی لگایا۔

فوٹو بشکریہ میئر کراچی فیس بک پیج
فوٹو بشکریہ میئر کراچی فیس بک پیج

اسی طرح وہ کراچی میں آئی بی ایم کے طالبعلموں سے ملیں جبکہ وہ پاکستان میں ان کے سفر سے متاثر ہونے والوں سے ملاقات کا ارادہ بھی رکھتی ہیں۔

پاکستان آمد کے بعد اپنے ایک انسٹاگرام پوسٹ میں انہوں نے لکھا ' پاکستان میں اب تک ہونے والی میزبانی خاص طور پر کراچی میں شاندار رہی، پاکستان آنے کے دوران گلف ائیر میںمیری نشست کو مفت بزنس کلاس میںاپ گریڈکیا گیا، جبکہ آئیبی ایم میںطالبعلموں، میئر کراچی وسم اختر سے ملاقاتیں کیں اور پودا لگایا، میرا پاکستان میں وقت اب شروع ہوا ہے جو کہ اس سفر کے تعلیمی اور ثقافتی تجربے کے چند زبردست تجربات میں سے ایک ہے، کسی کتاب کو اس کے رنگ یا کسی ملک کو میڈیا سے جج نہ کریں، پاکستان کے لیے بہت زیادہ محبت'۔

The hospitality I've received so far in #Pakistan and specifically #Karachi has been astounding! From being offered a random, free upgrade to business class on @gulfair to being graced with the amazing hospitality of the crew and entering the cockpit and meeting the Pilot (the Captain knew about my Expedition before I even told him!), speaking to the students at the Institute of Business Administration, meeting the Mayor of Karachi, Mr. Wasim Akhtar, for the planting of the Cedrus Deodara tree (the National Tree of Pakistan) 🌲, coming back to my beautiful (sponsored) hotel and seeing my story and Mission on the front page of Traveller International, and finally, meeting with @rotaryinternational tonight! So incredibly humbling. Also, just comes to show (for those who think I'm not seeing anything in the countries I visit and that 2-5 days isn't enough) that it's all about time management and maximizing every moment of your time to make the most with what you have. But same applies to everything else in life, doesn't it? My time here in Pakistan has just begun and has been one of the many wonderfully educational and culturally enriching experiences on #Expedition196. Don't judge a book by its color or a country by the media. Much love ❤️🇵🇰 #peacethroughtourism • • • ✨Snapchat @ cassiedepecol To view all videos from today including the tree planting and meeting with the Mayor, head to Facebook.com/expedition196 ✨

A photo posted by ᶜᴬˢˢᴵᴱ ᴰᴱ ᴾᴱᶜᴼᴸ| ᴼᶠᶠᴵᶜᴵᴬᴸ ᴾᴬᴳᴱ (@expedition_196) on

واضح رہے کہ اس سے پہلے تیز ترین عالمی سفر کا ریکارڈ 2014 میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے گراہم ہیویز نے قائم کیا تھا اور چار سال کے دوران تمام ممالک کا سفر کیا۔