سی پیک : کراچی - پشاور ریلوے ٹریک سگنل فری ہوگا

اپ ڈیٹ 18 دسمبر 2016

ای میل

چائنا پاکستان اقتصادی راہدری کے دوسرے مرحلے میں کراچی تا پشاور ریلورے ٹریک کو سگنل فری کردیا جائے گا۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق سی پیک کے اگلے مرحلے میں کراچی سے پشاور ریلوے ٹریکس کو نہ صرف سگنل فری کیا جائے گا بلکہ گیٹ (پھاٹک) فری بھی کیا جائے گا۔

اس منصوبے پر جنوری میں کام شروع کردیا جائے گا اور پہلے توجہ راولپنڈی پشاور ٹریکس پرمرکوز رکھی جائے گی۔

سرکاری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ریلوے ٹریکس کے اطراف موٹر وے طرز کا جنگلہ بھی نصب کیا جائے گا اور راستے میں آنے والے تمام گیٹس پر انڈر پاس اور اوور ہیڈ برج تعمیر کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: سی پیک کوکرپشن سے بچانے کیلئے مشترکہ نگرانی

ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام نے اس پروجیکٹ کی منصوبہ بندی کو حتمی شکل دے دی ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان ریلویز وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کو پشاور اور طورخم سے ملانے کے لیے ریلوے ٹریکس کی فزیبلٹی رپورٹ بھی تیار کررہی ہے۔

پاکستان ریلویز چمن تا اسپن بولدک ریل کے متبادل راستے کے لیے بھی حکمت عملی تیار کررہی ہے تاکہ طورخم کے ذریعے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی حاصل کی جاسکے۔

اس کا مقصد پاکستان کے دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی حجم میں اضافہ کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: 46 ارب ڈالر: پاکستان فائدہ کیسے اٹھائے؟

واضح رہے کہ حکومت نے چائنا -پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت نئی ریلوے لائنیں بچھانے اور انہیں بہتر بنانے کی منصوبہ بندی کررکھی ہے۔

منصوبے کے تحت گوادر سے بذریعہ بیسیمہ کوئٹہ اور جیکب آباد تک نئی پٹڑی بچھائی جائے گی۔

مین لائن ٹو پر بوستان سے کوٹلہ جام بذریعہ ژوب اور ڈیرہ اسماعیل خان تک 560 کلومیٹر طویل ٹریک بچھایا جائے گا۔ اس کے علاوہ حویلیاں سے خنجراب تک 682 کلو میٹر طویل نئی ریلوے لائن بچھائی جائے گی۔

منصوبے کے تحت کراچی سے پشاور تک براستہ کوٹری، ملتان ،لاہور ٹیکسلا، حویلیاں سمیت راولپنڈی ایک ہزار آٹھ سو بہتر کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کو بہتر بنانے کے ساتھ شاہدرہ سے پشاور تک ٹریک کو دوریہ بھی کیا جائے گا۔

کوٹری سے اٹک شہر تک بذریعہ دادو، لاڑکانہ، جیکب آباد، ڈیرہ غازی خان، بھکر، کنڈیاں 1254 کلو میٹر طویل ٹریک کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔