میلبرن میں شکست پر افسردہ مصباح کا ریٹائرمنٹ پر غور
آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں اننگز اور 18 رنز سے عبرتناک شکست کے بعد پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے ریٹائرمنٹ پر غور شروع کر دیا۔
پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں اظہر علی کی ڈبل سنچری کی بدولت 443 رنز بنا کر انگز ڈکلیئر کر دی تھی لیکن آسٹریلیا نے ڈیوڈ وارنر اور اسٹیون اسمتھ کے ساتھ ساتھ عثمان خواجہ اور مچل استارک کی عمدہ بیٹنگ کی بدولت بارش سے متاثرہ میچ میں بھرپور انداز میں واپسی کی اور 624 رنز بنا کر 181 رنز کی برتری حاصل کی۔
ڈرا کی جانب گامزن میچ میں پاکستان کو آخری دن 65 اوورز کھیلنے موقع دیا اور میزبان باؤلرز کی جارحانہ باؤلنگ اور غیر ذمے دارانہ شاٹس کے سبب پاکستان کو حیران کن طور پر اننگز اور 18 رنز ے شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔
اس میچ میں شکست کے ساتھ ہی پاکستانی ٹیم سیریز بھی 2-0 سے گنوا دی اور اس شکست پر رنجیدہ قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتے ہوئے جلد فیصلہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
مصباح دورہ نیوزی لینڈ سے مستقل خراب فارم کا شکار ہیں اور چھ اننگز میں محض 64 رنز بنا سکے ہیں جس میں ان کا سب سے زیادہ اسکور 31 رنز رہا۔

میلبرن ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بھی وہ صرف 11 رنز بنا سکے اور دوسری اننگز میں دوسری ہی گیند پر بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے۔
جب میچ کے بعد ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا کیریئر ختم ہو گیا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ میرا ہمیشہ سے ماننا رہا ہے اگر میں ٹیم کیلئے کچھ کردار ادا نہ کر سکوں تو پھر ٹیم میں کھیلنے کا کوئی جواز نہیں۔
'یہ وہ وقت ہے کہ جب اگلے میچ سے قبل یا سیریز کے بعد مجھے اس بارے سوچنے کی ضرورت ہے۔ آئندہ دو دنوں میں اس بارے میں سوچوں گا اور فیصلہ کروں گا کہ کیا کرنا ہے کیونکہ محض ٹیم کے ساتھ رہنے اور کچھ نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں'۔
مصباح نے کہا کہ میں کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں ٹیم میں ایک کمزور حصے کے طور پر کھیلوں گا۔ اگر میں ٹیم کیلئے کچھ کر سکوں تو ٹھیک ورنہ یہ بہتر ہے کہ اگر میں بحیثیت بلے باز رنز نہیں کر رہا تو کسی اور بلے باز کو موقع فراہم کروں۔
یاد رہے کہ مصباح کی زیر قیادت پاکستان نے عالمی نمبر ایک بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا اور نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے دوران وہ 50 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی قیادت کرنے والے پہلے کپتان بن گئے تھے۔
سابق کپتان سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف پر پابندی کے بعد مشکل حالات سے شکات پاکستان کرکٹ کی باگ ڈور چلانے کی ذمے داری مصباح الحق کو سونپی گئی تھی جنہوں نے اس ذمے داری کو احسن طریقے سے نبھاتے ہوئے ایک کامیاب ٹیم کی شکل دے کر فتوحات کی راہ پر گامزن کیا۔
وہ 24 فتوحات کے ساتھ پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے سب سے کامیاب ٹیسٹ کپتان ہیں اور پاکستان کی جانب سے بحیثیت کپتان سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے قائد ہونے کے ساتھ ساتھ کئی اعزاز اپنے نام رکھتے ہیں۔












لائیو ٹی وی