حماد صدیقی کو وطن واپس لانے کیلئے وزارت داخلہ سے رابطہ

اپ ڈیٹ 13 جنوری 2017

ای میل

کراچی: پولیس نے انسداد دہشت گردی عدالت سے بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کے کیس میں ضمنی چارج شیٹ جمع کرانے کیلئے مزید وقت مانگ لیا جبکہ مرکزی ملزم حماد صدیقی کو انٹرپول کے ذریعے وطن واپس لانے کے لیے وزارت داخلہ سے رابطہ کرلیا گیا۔

عدالت نے پولیس کو ضمنی چارج شیٹ جمع کرانے کیلئے وقت دے دیا جبکہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رکن صوبائی اسمبلی رؤف صدیقی، حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے تاجر بھائیوں، علی حسن قادری اور عمر حسن قادری اور دیگر ملزمان کی قبل از گرفتاری عبوری ضمانت میں 25 جنوری تک کے لیے توسیع کردی ہے۔

مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران تحقیقاتی افسر سپریٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) اختر فاروق نے حال ہی میں گرفتار ہونے والے ملزم عبدالرحمٰن بھولا کے خلاف ضمنی چارج شیٹ پیش کرنے کیلئے مزید وقت مانگا تھا جس پر عدالت نے انھیں 25 جنوری تک کی مہلت دے دی۔

تحقیقاتی افسر نے عدالت کو مزید بتایا کہ اس کیس میں اشتہاری قرار دیئے گئے ملزم اور ایم کیو ایم کی تنظیمی کمیٹی کے چیف حماد صدیقی کو انٹرپول کے ذریعے وطن واپس لانے کیلئے وزارت داخلہ سے رابطہ کیا گیا ہے تاکہ ملزم کے ریڈ وارنٹ حاصل کیے جاسکیں۔

خیال رہے کہ ایم کیو ایم کے سابق سیکٹر انچارج عبدالرحمٰن عرف بھولا نے گذشتہ سال 22 دسمبر کو مجسٹریٹ کے سامنے اپنے ایک اعترافی بیان میں کہا تھا کہ اس نے زبیر عرف چریا اور دیگر افراد کے ساتھ مل کر حماد صدیقی کے کہنے پر بلدیہ میں قائم گارمنٹس فیکٹری کو آگ لگائی تھی کیونکہ فیکٹری کے مالکان نے بھتے کی رقم اور فیکٹری میں شراکت داری دینے سے انکار کردیا تھا۔

اس نے مزید انکشاف کیا تھا کہ واقعے کے بعد رؤف صدیقی نے صنعتی یونٹ کے مالکان پر مقدمہ قائم کرایا اور اس کے بعد ملزم کے علم میں یہ بات بھی آئی کہ رؤف صدیقی اور حماد صدیقی نے فیکٹری مالکان کے خلاف کیس 'ہلکا' کرنے کیلئے 40 سے 50 لاکھ روپے کی رقم بھی وصول کی تھی۔

یاد رہے کہ عبدالرحمٰن عرف بھولا کو گذشتہ ماہ انٹرپول کے ذریعے بینکاک میں گرفتار کیا تھا اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اسے بعد ازاں کراچی منتقل کیا۔

استغاثہ کا کہنا تھا کہ ستمبر 2012 میں بلدیہ میں قائم گارمنٹس فیکٹری میں ہونے والی آتشزدگی میں 250 مزدور ہلاک ہوگئے تھے۔

قاتل کو عمر قید

کراچی کی مقامی عدالت نے قتل کا جرم ثابت ہونے پر ایک مجرم کو عمر قید کی سزا سنادی ہے۔

محمد سفیان پر الزام ثابت ہوا ہے کہ اس نے فروری 2011 میں مبینہ ٹاؤن کے علاقے میں حنیف نامی شخص کو قتل کیا تھا۔

مذکورہ کیس میں نامزد دیگر دو ملزمان کو مقتول کے اہل خانہ کی جانب سے معاف کیے جانے پر بری کردیا گیا تھا۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (شرقی) نے مجرم کو 500000 روپے جرمانہ بھی ادا کرنے کی سزا سنائی اور اور عدم ادائیگی کی صورت میں مجرم کو اضافی 6 ماہ قید برداشت کرنا ہوگی۔

عسکریت پسند کو 14 سال قید کی سزا

انسداد دہشت گردی عدالت نے دھماکا خیز مواد رکھنے کا جرم ثابت ہونے پر مبینہ عسکریت پسند کو 14 سال قید کی سزا سنائی۔

محمد آصف کو دسمبر 2015 میں کراچی کے علاقے کورنگی سے دھماکا خیز مواد رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ مجرم کا تعلق کالعدم فرقہ وارانہ تنظیم سے ہے۔

یہ رپورٹ 13 جنوری 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی