سمندری آلودگی: ’پاکستان کو سالانہ کئی ارب کا نقصان'

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2017

ای میل

کراچی: سمندری میں مستقل بنیادوں پر زہریلہ مادہ، صنعتوں اور دیگر فضلہ بغیر کسی پروسس کے پھینکے جانے کے باعث یہاں ہونے والی آلودگی سے بحری جہازوں کو بجانے کیلئے پاکستان کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔

یہ بات ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آف پورٹ اینڈ شپنگ اسد رفیق چندانا نے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے ویسٹ ہارف پر سمندری آلودگی کے جائزے کیلئے دورہ کرنے والے جوڈیشنل کمیشن کے ہمراہ صحافیوں سے بات چیت کے دوران بتائی۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے حال ہی میں جسٹس اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں کمیشن کو صوبے سندھ میں ماحولیاتی آلودگی، پینے کے صاف پانی اور صفائی کی سہولیات فراہم کرنے میں ریاست کی ناکامی کے حوالے سے رپورٹ ترتیب دینے کی ہدایت کی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل آف پورٹ اینڈ شپنگ کا کہنا تھا کہ '25 سال قبل یہ پانی نیلے تھے اور ان میں ڈولفن کو دیکھا جاسکتا تھا، آج سمندری مخلوق ناپید ہے کیونکہ بندرگاہ 100 فیصد آلودہ ہوچکی ہے'۔

انھوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ یومیہ 40 لاکھ گیلن میونسپل اور صنعتی فضلہ سمندر میں پھینکا جارہا ہے۔

ان کے مطابق سمندر میں زہریلہ مادہ دو گنا ہونے کی وجہ سے صرف پاکستان نیوی کو ان کے جہازوں کی صفائی کیلئے سالانہ ایک روب روپے کا خرچ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

انھوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ تمام تینوں حکومتوں کی جانب سے فضلے کو ٹھانے لگانے والے ٹریٹمنٹ پلانٹس کے حوالے سے غلط بیانی سے کام لیا گیا جبکہ گریٹر کراچی سیوریج ٹریٹمنٹ پروجیکٹ، جو ایس تھری کے نام سے معروف ہے اور 2007 سے تعطل کا شکار ہے، تاخیر کے باعث منصوبے کا تخمینہ 8 ارب سے بڑھ کر 39 ارب تک پہنچ چکا ہے۔

اس حوالے سے کی جانے والی غفلت کو جرم قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'صنعتی فضلے کو ان کی پیداوار کے مقام پر ہی ٹریٹ کرانے کو یقینی بنانے کیلئے کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے، اور نہ ہی سمندری آلودگی میں اضافے کی نگرانی کی جاتی ہے، اگر ٹریٹمنٹ پلانٹ بنانے کیلئے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے پاس فنڈز کی کمی ہے تو شہر کے بچے اور متعدد کمپنیاں ایسا کرسکتی ہیں'۔

کمیشن کے ساتھ موجود پاکستان فشر فوک فورم کے سعید بلوچ نے اس موقع پر سمندری آلودگی کی وجہ سے مقامی آبادی کو ہونے والے معاشی نقصان کے ساتھ ساتھ شہریوں کو درپیش صحت کے مسائل سے بھی آگاہ کیا۔

کمیشن جسے پانی کے معیار کی جانچ کرنے والے ماہرین کی مدد بھی حاصل ہے، نے سمندری آلودگی کے بحری جہازوں پر ہونے والے اثرات کو دیکھنے کیلئے کے پی ٹی پر موجود بحری جہازوں کو دیکھنا چاہا تاہم بارش کے باعث انھیں اپنا مذکورہ ارادہ ملتوی کرنا پڑا۔

اس موقع پر کمیشن کے ساتھ موجود پاکستان کونسل فار ریسرچ ان واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر) حکام نے پانی کے نمونے حاصل کیے تاکہ ان کی جانچ کی رپورٹ کمیشن کو پیش کی جاسکے۔

اس سے قبل کورنگی اور لانڈھی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے نمائندوں نہال اختر اور اطہر علی خان کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔

صنعتی یونٹس کے ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تفصیلات فراہم کرنے کے حوالے سے دونوں ہی کمیشن کو حتمی تاریخ فراہم کرنے میں ناکام رہے۔

اس کے علاوہ جسٹس کلہوڑو نے سندھ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (سیپا) کی کارکردگی پر وضاحت کو مسترد کیا جیسا کہ ان کے ڈائریکٹر جنرل ادارے کی کارکردگی کے حوالے سے کسی بھی قسم کا ریکارڈ پیش کرنے میں ناکامی رہے تھے۔

یہ رپورٹ 14 جنوری 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی