ٹرمپ کی پالیسیوں کی مخالفت پر اٹارنی جنرل برطرف

اپ ڈیٹ 31 جنوری 2017

ای میل

واشنگٹن: امریکا کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مرکزی حکومت کی قائم مقام اٹارنی جنرل سیلی یئیٹس کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔

واضح رہے کہ سیلی یئیٹس نے محکمہ انصاف کے اٹارنی جنرل کو ٹرمپ کے متنازع امیگریشن احکامات پر عمل کرنے اور ان کی حمایت سے روکا تھا۔

امریکی ٹی وی سی این این کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے سخت بیان میں کہا گیا کہ 'غیری قانونی امیگریشن اور سرحدی معاملات پر سیلی یئیٹس کی گرفت بہت کمزور ہے۔

بیان میں اب تک ڈیموکریٹس کی جانب سے نامزد اٹارنی جنرل جیف سیشنز کی منظوری نہ دیے جانے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

مزید پڑھیں: 7 مسلمان ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی

وائٹ ہاؤس کے مطابق قائم مقام اٹارنی جنرل سیلی یئیٹس نے امریکی شہریوں کے تحفظ کے لیے تشکیل دیئے گئے متنازع قانونی آرڈر کی عملدرآمد سے انکار کرتے ہوئے محکمہ انصاف کے موقف کی مخالفت کی تھیں۔

بیان کے مطابق سیلی یئیٹس کی برطرفی کے بعد نامزد اٹارنی جنرل کی سینیٹ سے تصدیق مکمل ہونے تک وفاقی پروسیکیوٹر ڈانا بوئنیٹ قائم مقام اٹارنی جنرل کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

واضح رہے کہ 7 مسلمان ممالک پر عائد کردہ متنازع سفری پابندیوں کے احکامات کے بعد نئے امریکی صدر کو عوام کے احتجاج کے ساتھ ساتھ متعدد قانونی معاملات کا سامنا کرنا پڑچکا ہے جبکہ اسی دوران سیلی یئیٹس کی مخالفت نے بھی ٹرمپ کے خلاف مشکلات میں اضافہ کیا۔

محکمہ انصاف کے افسران کی ایک یادداشت میں وفاقی وکیل نے ٹرمپ کے فیصلے کی قانونی اور اخلاقی حیثیت پر تشویش کا اظہار کیا۔

سیلی یئیٹس کے مطابق ان کی ذمہ داری اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ محکمہ انصاف امریکا کے آئین اور قانون کے عین مطابق رہے۔

یادداشت میں خاتون سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ جب تک وہ قائم مقام اٹارنی جنرل کے عہدے پر ہیں، اس وقت تک محکمہ انصاف ٹرمپ کے ایگزیکٹیو آرڈر کی حمایت میں دلائل نہیں دے گا۔

ان کے اس بیان کا مطلب یہ تھا کہ آئندہ چند گھنٹوں کے لیے امریکی حکومت کو اپنی مخالفت میں دائر مقدموں کی پیروی کے لیے کوئی نمائندگی حاصل نہیں۔

تاہم نئے قائم مقام اٹارنی جنرل نے اپنی تقرری کے چند گھنٹوں کے بعد جاری ہونے والے بیان میں امریکی صدر کے حکم کی حمایت کا اعلان کیا۔