سفر کہانی: دریائے جہلم کے پار

اپ ڈیٹ 26 فروری 2017

ای میل

یہ خطہ پاکستان میں خوراک فراہم کرنے کے حوالے سے قلب کی حیثیت رکھتا ہے
یہ خطہ پاکستان میں خوراک فراہم کرنے کے حوالے سے قلب کی حیثیت رکھتا ہے

لاہور سے تھوڑی ہی ڈرائیو پر سیاحت اور سفر سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے کئی مقامات ہیں۔ حالیہ دنوں میں ہی ہفتہ وار چھٹی کے موقع پر دوستوں کے ایک گروپ نے جہلم ندی میں موجود ایک جزیرے پر کیمپنگ کا انتہائی شوق رکھنے والے جوڑوں کے ساتھ کیمپنگ اور ٹیم بلڈنگ کی غرض سے سیر و تفریح کے پروگرام میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔

منصوبہ کچھ یوں تھا کہ پہلے سرگوھا کے قریب واقع ایک تاریخی شہر بھیرہ تک گاڑی میں جانا تھا، جہاں سے بیڑی یا لکڑی کی کشتی پر سوار ہو کر جہلم کو چیرتے ہوئے جزیرے پر پہنچنا تھا اور پھر وہاں پوری رات کیمپنگ کرنی تھی۔ ہم نے مختلف سرگرمیوں میں مصروف ہو کر دن گزارنے اور پھر خشکی کا رخ کر کے اپنے گھر واپس لوٹ آنے کا منصوبہ بنایا۔

ہم نے کراچی سے لاہور کی پرواز پکڑی اور اگلی صبح سویرے ہم جہلم ندی کے بائیں کنارے کے ساتھ ساتھ لاہور موٹر وے پر ڈرائیو کو نکل پڑے۔ اچھی حالت میں موجود موٹروے، ٹول بوتھ، اور دیگر طعام و قیام کی جگہوں کی وجہ سے سفر کافی آرامدہ ثابت ہوا۔

لہلہاتے سر سبز شاداب کھیت، نیلا آسمان اور سرخ اینٹوں سے بنے مکان اور دیگر عمارتیں کسی خوبصورت رنگین پینٹنگ کی منظر کشی کر رہی تھیں۔ افسوس کہ یہ اینٹیں جہاں شہر کو نہایت خوبصورت بناتی ہیں اور اپنے کمال حسن سے گندگی کی پردہ پوشی کرتی ہیں وہاں یہ ان بھٹوں میں تیار ہوتی ہیں جو ماحول میں آلودگی یا اسموگ کا باعث بنتے ہیں اور ان بھٹوں کو اکثر و بیشتر قید میں رکھے گئے مزدور اور یہاں تک کہ چھوٹے بچے بھی چلاتے ہیں۔ لیکن روشن پہلو دیکھیں تو یہ دیکھ کر انتہائی خوشی ہوتی ہے کہ ان میں زیادہ تر عمارتیں فعال اسکولوں کی ہیں۔

یہ خطہ پاکستان میں خوراک فراہم کرنے کے حوالے سے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ آبپاشی کی نہریں گنے، سرسوں، پالک، مولی، چاول، شلجم اور گندم کے کھیتوں میں بہتی ہیں جن پر سے سورج کی کرنیں ٹکراتی ہیں۔ کرسمس ٹریز کا تصور دینے والے نارنگیوں کے درخت موٹر وے کے ساتھ ساتھ کھڑے نظر آئے اور وہاں شہد کے فارمز کی بہتات بھی تھی۔ پانی کی نہریں، زرخیز زمین اور کھیت کھلیان کو دیکھ کر نہ جانے کتنے پرندے نیچے اتر آتے ہیں۔

یہاں مرد و خواتین اور بچے کھیتوں کی سنچائی، بوائی اور فصل کی کٹائی کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ لوگ تو غریب ہیں مگر زمین اس قدر زرخیز ضرور ہے جو یہ اپنی زندگی کا تسلسل جاری رکھ سکیں۔

اینٹوں اور گارے سے بنے کچے مکانوں کے باہر زمین کے چھوٹے چھوٹے حصوں پر کیلوں، پالک، ٹماٹر اور پیٹھا کدو کی فصلیں کھڑی تھیں، مکانوں کی باہری دیواروں پر گوبر کے ٹکڑے چسپاں نظر آئے۔ ان خشک ٹکڑوں کو آگ جلانے کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ زرخیزی، گیلی مٹی اور لکڑیوں کے جلنے کی بو میں گھلی سرد ہوائیں چل رہی تھیں۔

بھیرہ سے ہم نے آدھا گھنٹہ ڈرائیو کر کے ملک وال کا رخ کیا اور پھر ہم گھوم کر چک نظام میں وکٹوریا برج کا رخ کیا جہاں ہمارا استقبال مقامی گاؤں کے بچوں اور سو رہی بھینسوں نے کیا۔

لوہے سے بنا وکٹوریا برج برٹش حکومت کے دوران 1890 میں بننے والا ایک خوبصورت ریلوے برج ہے۔ سرخ برج کے نیچے سے بہتی ندی، برج کے پیلی اینٹوں سے بنے ستونوں اور ان کے ساتھ کھڑے گھنے ہرے درخت واقعی ایک خوبصورت منظر پیش کر رہے تھے۔

اور یہ وہ جگہ تھی جہاں سے ہم نے کشتی میں بیٹھ کر ندی کا سفر شروع کیا۔ وکٹوریا برج پر لنگر انداز دو بیڑیوں پر کیمپنگ کا سامان لادنے اور بیک اپ کے طور پر ایک اسپیڈ بوٹ کو ساتھ لینے کے بعد ہم بھی بیڑی پر سوار ہو گئے۔ بیڑیاں مقامی طور پر لکڑی سے بنائی گئی کشتیاں ہیں جن پر بانس کو چپو کے طور پر استعمال کیا جاتا اور اس میں ایک موٹر نصب ہوتی ہے جو کشتیوں کو دھکیلتی ہے۔ پانیوں پر سفر کرنے کی صلاحیت کا جہاں تک سوال ہے تو ان کشتیوں میں ٹریکٹرز اور بس جتنے باراتیوں کا بوجھ اٹھا کر ندی کے دوسرے پار لانے کی گنجائش ہیں۔

کیچڑ والی زمینوں اور جزیروں سے اپنا راستہ بناتے ہوئے یہ بیڑیاں منگلا ڈیم سے بہہ کر آنے والے جہلم ندی کے تازہ اور صاف و شفاف پانی تک ہمیں لے گئیں۔ ہماری کشتیاں آہستہ آہستہ ندی کے بہاؤ کی مخالف سمت پر گامزن تھیں۔ ہم کشتی پر کھلی سردیوں کی دھوپ کا مزہ لینے، سینڈوچز اور تازہ درخت سے توڑی گئی نارنگیوں کو ظہرانے کے طور پر کھانے میں مصروف تھے۔

ایک گھنٹے بعد ہم نے فلیمنگو آئی لینڈ پر مختصر وقفہ لیا جہاں سرد جگہوں سے لال لم ڈھینگ پرندے دسمبر سے فروری تک یہاں بسیرا کرتے ہیں۔ بے تحاشا لم ڈھینگوں کے پیروں کے نشان تھے اور ندی کی لہروں سے بنے پانی سے بھرے گڑھے تھے جو کہ چھوٹی مچھلیوں سے بھرے تھے یوں یہ پانی کے گرھے لم ڈھینگ پرندوں کے لیے بہترین آماجگاہ بنتے ہیں۔

ہم دوپہر کے درمیان اپنی آخری منزل تک پہنچ گئے، اس جزیرے پر جہاں ہمیں ایک پوری رات کیمپنگ کرنی تھی۔ چونکہ یہ ایک لگژری سفر تھا، لہٰذا ہمارے سونے کے ٹینٹ، ٹوائلٹ ٹینٹ، کچن ٹینٹ، خشک خوراک اور چائے کا بار، اس کے ساتھ ساتھ بے تحاشا چائے کا سامان، چپس، خشک میواجات اور دیگر خشک خوراک، صاف پانی اور دیگر سہولیات وہاں ہمارے پہنچنے سے قبل ہی موجود تھیں۔ کیمپ کے منتظمین نے تحفظ اور پرسکون تفریح کے لیے دو بار جگہ کا معائنہ کیا۔

ہم نے جہلم ندی کے یخ ٹھنڈے پانی میں تیراکی کی، جو کہ آپ کو لائف جیکٹ اور سوئمنگ شوز کے ساتھ صرف کسی کی نگرانی میں کرنی چاہیے، جبکہ ندی کے اندر موجود پودوں اور پانی کی لہروں کی قوت اور سمت کا اندازہ بھی بخوبی ہونا چاہیے۔

رات ہوتے ہی درجہ حرارت 5 ڈگری تک گر گیا اور ہم الاؤ کے جتنا ممکن ہوا اتنا قریب گھیر کر بیٹھے، مونگ پھلی کھاتے، گرما گرم سوپ اور چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے ہم ایک دوسرے کو لطیفے اور کہانیاں سنا رہے تھے، جس کے بعد ہم نے نہایت ہی عمدہ عشائیہ کھایا۔

چونکہ یہ قمری ماہ کا 18 واں دن تھا اس لیے ہم نے چاند کے نمودار ہونے سے قبل دو گھنٹے صرف ستاروں کی روشنی میں جگمگاتے آسمان کا نظارہ کیا۔ 4 بجنے پر ہمارے سر کے اوپر ایک روشن اور ٹھنڈی کرنیں پکھیرتا چاند آب و تاب سے آسمان میں روشن تھا۔

صرف دور سے آنے والی پمپ کی مسلسل ایسی آواز تھی جو ہمارے قیام کے دوران دیہی علاقے کے پرسکون ماحول میں خلل کا باعث بن رہی تھی ورنہ یہ مجموعی طور پر نہایت پرسکون رات تھی۔

ہم جتنا ممکن ہو سکے اتنا زیادہ دیر تک، حساب سے لکڑیوں کے ٹکڑے ڈالتے ہوئے، الاؤ کو جلائے رکھنے کے بارے میں فکر مند تھے اور دن کے پھوٹنے تک اس الاؤ کے بجھتے انگاروں سے گرمائش حاصل کر رہے تھے۔ اگرچہ ہمارے خیمے اس قدر آرام دہ تھے کہ ہمیں آرامدہ نیند آ سکے مگر ہم میں سے زیادہ تر سردیوں کے مارے اٹھ گئے اور سنہری صبح کا نظارہ کرنے میں کامیاب رہے۔

ہم نے خالص دیسی کھانوں سے ناشتہ کیا جس میں دیسی گھی میں پکے پراٹھے (جن کی خوشبو ٹھنڈی ہوا میں گھل مل گئی تھی)، چھولے، خگینہ اور سوجی کا حلوہ تھا جس کے بعد چائے اور تازہ نارنگیوں کا دور چلا۔

اگلی صبح رافٹ ریس کا اہتمام تھا ہم نے وہ رافٹس ٹائروں اور بانس کی مدد سے تیار کی تھیں۔ وہاں کھلا میدان بھی تھا؛ ااتنا ضرور تھا کہ جہاں نوجوان اور زندہ دل لوگ فٹ بال کھیل سکیں۔ ایک سوالنامہ خود شناسی کرنے میں کافی مددگار رہا۔

ہمارے اس ٹوئر کے مینیجر "کوئی بھی نشان نہ چھوڑو" کی پالیسی کے بڑے ہی پاسدار تھے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ "ہم سارا کوڑا کرکٹ اپنے ساتھ لاہور اپنے ساتھ لے چلیں گے: چاہے مونگ پھلی کے چھلکے ہوں، پھلوں کے چھلکے، سگریٹس کے ٹوٹے ہوں، پلاسٹک کی تھیلیاں، ٹشو پیپر، یا خالی بوتلیں ہوں، ہم سب کچھ اپنے ساتھ واپس لے جائیں گے۔"

ٹرپ کے آخر میں انہوں نے گروپ میں شامل کم عمر ممبران کے ساتھ مل کر صاف ستھرائی کی سرگرمی کا اہتمام کیا اور ذاتی طور پر صفائی کے عمل کی نگرانی کی، اور پیچھے ٹافی کا ایک ریپر تک بھی نہیں باقی رہنے دیا۔

دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد اور صفائی کے عمل سے گزرنے کے بعد ہم اپنے واپسی کے سفر پر نکل پڑے۔ کشتیوں نے ہمیں ندی کے دائیں کنارے پر واقع ضلع جہلم کے ایک چھوٹے شہر پنڈ دادن خان پر چھوڑا جہاں سے پھر ہم نے موٹروے پر لیہ جنکشن سے لاہور کا سفر کیا، اور پھر وہاں سے ہم کراچی واپس آ گئے۔

یہ مضمون ڈان سنڈے میگزین میں 12 فروری 2017 کو شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں