پاکستان سپر لیگ کے لاہور میں فائنل کے لیے آن لائن ٹکٹس چند گھنٹوں میں ہی فروخت ہوگئے اور بینکوں سے ملنے والے ٹکٹوں کے لیے کھڑکی توڑ رش دیکھا گیا۔

لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب پورے ملک میں دہشتگرد کارروائیاں کررہے ہیں اور خاص طور پر لاہور کو شدید خطرات لاحق ہیں تو پھر دیوانوں کی طرح ٹکٹس لینے والے کیوں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر فائنل دیکھنے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم جائیں گے؟ کیا ان کرکٹ کے شیدائیوں کو اپنی جانیں پیاری نہیں یا پھر یہ دیوانے دہشتگردوں کو ہلکا لے رہے ہیں؟

میں بھی کرکٹ کے ہزاروں شیدائیوں کی طرح فائنل گراؤنڈ میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ قذافی اسٹیڈیم کے عمران خان اسٹینڈ میں بیٹھ کر لگنے والے چھکے کو کیچ کر کے ایک کروڑ میں سے اپنا حصہ لینا چاہتا ہوں۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے لاکھوں مداحوں کی طرح میں بھی سرفراز کو پی ایس ایل کا چیمپیئن بنتا دیکھنا چاہتا ہوں۔ مگر دل کے کسی کونے میں ایک خوف پنپ رہا ہے، جو کہتا ہے کہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو میرے چھوٹے بچوں کا کیا ہوگا؟

حکومت تو فائنل لاہور میں کرواکر اگلے انتخابات سے پہلے انتخابی مہم چلا رہی ہے، پر اگر کچھ ہوگیا تو ماری تو عوام جائے گی۔ حکمران تو صرف مذمتیں کرتے رہ جائیں گے اور پہلے راہ نجات، پھر ضرب عضب اور پھر ردالفساد کی طرح کا ایک اور آپریشن شروع ہوجائے گا۔

پھر سوچتا ہوں کہ اگر میں ابھی ڈر گیا تو ساری زندگی اسی خوف کے سائے تلے گزر جائے گی جس کے خلاف میں برسوں سے لڑ رہا ہوں۔ زندگی موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، جس نے بچے دیے ہیں، وہ پال بھی لے گا، مجھے بس اللہ پر بھروسہ ہونا چاہیے۔

اس کے علاوہ یہ بھی سوچتا ہوں کہ یہ جو ہزاروں لوگ بینکوں کے باہر لائنیں بنا کر ٹکٹس کے لیے دھکے کھاتے رہے، وہ کیوں اپنی روزمرہ کی مصروفیات کو چھوڑ کر لائنوں میں خوار ہو رہے ہیں، کیا انھیں اپنی زندگیاں پیاری نہیں؟

مجھے لگتا ہے کہ مجھ سمیت ٹکٹس کے لیے لائنوں میں خوار ہونے والے اس خوف سے تنگ آچکے ہیں جوکہ ہمارے ذہنوں پر برسوں سے قابض ہے۔ ہمارے پاس اپنی پریشان زندگیوں میں انجوائے کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں۔

صبح گھر سے نکلتے ہیں اور چیک پوسٹوں سے ہوتے ہوئے دفتر دیر سے پہنچتے ہیں اور پھر دفاتر میں مقررہ گھنٹوں سے زیادہ وقت لگانے کے بعد گھر واپسی پر پھر سیکیورٹی ناکوں سے ہوتے ہوئے گھر پہنچتے ہیں جوکہ ویسے تو ہماری حفاظت کے لیے لگائے گئے ہیں، مگر پھر بھی دہشتگرد دھماکے کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ کرکٹ پاکستانیوں کا جنون ہے اور یہ وہ واحد چیز ہے جس کی وابستگی نا تو کسی سیاسی جماعت سے ہے اور نا کسی فرقے سے۔ اگر 8 سالوں بعد (زمبابوے کے دورے کو نکال کر) پاکستان میں کوئی میچ ہونے ہی لگا ہے تو اسے گراؤنڈ میں دیکھنا تو کرکٹ کے دیوانوں پر فرض بنتا ہے۔ اگر لاہور میں ہی سری لنکن ٹیم پر حملہ پاکستان پر بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بند کر سکتا ہے تو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہی پی ایس ایل کے فائنل کا کامیاب انعقاد انٹرنیشنل کرکٹ کو واپس کیوں نہیں لاسکتا؟

لاہوریوں کی یہ بھی بدقسمتی ہے کہ لاہور کا جو تہوار بسنت پوری دنیا میں لاہور کی پہچان تھا، دھاتی ڈور کے ہاتھوں یرغمال ہونے کی وجہ سے اس پر پابندی لگا دی گئی۔ اب اگر لاہور میں پی ایس ایل کا فائنل ہونے والا ہے تو ہم کیوں نا اسٹیڈیم جاکر میچ دیکھیں۔ پتا نہیں پھر یہ موقع کب ملے۔

ہم لاہوریوں کی مزید بدقسمتی کا اندازہ اس سے بھی لگائیے کہ دیگر شہروں میں جو ادبی میلے تین دن کے لیے ہوتے ہیں، وہ وہ ادبی میلہ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے لاہور میں ایک دن تک محدود کردیا گیا ہے جس کے بعد ہم لاہوری ادبی بیٹھکوں سے بھی محروم ہونے لگے ہیں۔ اگر ہم دہشتگردوں سے ڈرتے رہے تو میلہ ایک دن کا ہو یا تین دن کا، ہم گھروں میں بیٹھے اپنے پسندیدہ ادیبوں کی باتیں سننے کی تمنا لیے اس دنیا سے کوچ کر جائیں گے۔

جہاں تک بات ہے دہشتگردی کی تو 2001 میں امریکہ پر ہونے والے حملے کے بعد سے اب تک ہزاروں لوگ اس پرائی جنگ میں ہلاک ہوچکے۔ ہزاروں افراد مساجد میں، سینکڑوں مسیحی گرجا گھروں میں، درجنوں شیعہ جلوسوں اور امام بارگاہوں میں اور تو اور 125 بچے پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے بزدلانہ حملے میں ہلاک ہوچکے۔ کیا لوگوں نے ان جگہوں پر جانا چھوڑ دیا؟ کیا والدین نے اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا بند کر دیا؟ اگر نہیں تو پھر دہشتگردوں کے خوف سے ہم ڈر جائیں اور فائنل گراؤنڈ میں جاکر نا دیکھیں، ایسا ممکن نہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ پنجاب حکومت سمیت وفاقی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے علاوہ پاک فوج بھی پی ایس ایل فائنل کے لیے سیکیورٹی فراہم کررہی ہے، لیکن یہ تمام ادارے تو ہمیشہ سے ہی پورے ملک میں سیکیورٹی فراہم کر رہے ہیں، لیکن ۔۔۔ خیر چھوڑیے، آگے بڑھیے۔

ابھی فائنل میں کچھ دن باقی ہیں اور مجھے امید ہے کہ حکومت کی طرف سے پی ایس فائنل کے لیے کیے گئے اقدامات کی وجہ سے پی ایس ایل کا فائنل بخیر و عافیت ہوجائے۔ لیکن کیا حکومت کی ذمہ داری صرف فائنل کے دن اور قذافی اسٹیڈیم کے اطراف کے علاقوں میں سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے؟ کیا لاہور کے علاقے گلبرگ کے علاوہ باقی لاہور میں انسان نہیں رہتے جن کی حفاظت بھی حکومت کی ذمہ داری ہوگی؟

کیا حکومت دہشتگردوں کو اتنا بیوقوف سمجھتی ہے کہ وہ فائنل والے دن قذافی اسٹیڈیم کے اطراف کے علاقوں میں ہی دہشتگردی کریں گے؟ کیا جن دہشتگردوں کا مقصد لاہور کے چیئرنگ کراس پر خودکش حملے کے ذریعے فائنل کو ملتوی کروانا تھا کیا وہ فائنل سے پہلے لاہور کے ہی کسی اور علاقے میں کارروائی کر کے یہ کوشش دوبارہ نہیں کرسکتے؟

یہ وہ چند سوالات ہیں جو کہ میرے دل میں پنپنے والے خوف سے اٹھنے والے سیاہ دھوئیں میں سے امڈ رہے ہیں۔

لیکن میں ان تمام سوالات، احساسات اور مفروضات کو اپنے خوف سمیت دفنا کر پی ایس ایل کا فائنل لاہور کے قذافی اسٹیڈیم دیکھنے ضرور جاؤں گا، بشرطیکہ مجھے کہیں سے ٹکٹ مل جائے تو۔