سیکیورٹی کلیئرنس کا انتظار: 1 لاکھ 75ہزار شناختی کارڈ تاحال بلاک

07 مارچ 2017

ای میل

اسلام آباد: ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک بھر میں جاری سرچ آپریشنز کے دوران نسلی امتیاز برتے جانے کا تنازع زیر بحث ہے، حکومت نے سینیٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 3 لاکھ سے زائد شناختی کارڈز کو شبہ کی بنیاد پر بلاک کیا جاچکا ہے، جن میں سے ایک تہائی کارڈز غیر ملکی شہریوں کے ہیں۔

حکومت کی جانب سے پہلی بار سینیٹ میں اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمٰن نے لاکھوں شناختی کارڈز کو بلاک کیے جانے کے تاثر کو مسترد کردیا۔

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ حال ہی میں بلاک کیے گئے شناختی کارڈز کی تعداد 3 لاکھ 45 ہزار 510 ہے ، جس میں سے ایک لاکھ 75 ہزار شناختی کارڈز تاحال انٹیلی جنس ایجنسیز اور 52 ہزار کارڈز نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی ( نادرا) کی کلیئرنس کے منتظر ہیں۔

بلیغ الرحمٰن نے بتایا کہ غیر ملکیوں سے ایک لاکھ 17 ہزار 459 شناختی کارڈز قبضے میں لیے گئے۔

وزیر مملکت بلیغ الرحمٰن نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نادرا کے پاس ان افغان شہریوں کا بہت بڑا ڈیٹا جمع ہے، جنہوں نے پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کے لیے درخواست دے رکھی تھی، جب کہ شناختی کارڈز کو کمپیوٹر سسٹم کے ذریعے چہرے کی شناخت یا انگوٹھے کے ریکارڈ سے مشابہت کے بعد بلاک کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں 90 ہزار شناختی کارڈز بلاک

انہوں نے واضح کیا کہ کسی کو بھی اپنی مرضی سے کسی کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

وزیر مملکت نے بتایا کہ ماضی میں جوائنٹ ویری فکیشن کمیٹی مشکوک شناختی کارڈز رکھنے والے افراد کی اسناد کی تصدیق کرتی تھی، تاہم یہ بہت ہی سست رفتاری سے چلنا والا سسٹم تھا، جب کہ گزشتہ برس اپریل میں اس کام کو دیکھنے کے لیے88 زونل اور 8 علاقائی بورڈز کو قائم کیا گیا۔

بلیغ الرحمٰن کے مطابق تصدیقی عمل کو تیز کرنے کے طریقے وضع کرنے کے لیے تشکیل دی گئی پارلیمانی کمیٹی کا 2 ماہ کے دوران 2 بار اجلاس ہوا، جب کہ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی کا اجلاس 8 مارچ کو ہوگا۔

انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ کمیٹی اس حوالے سے آگے بڑھنے کا راستہ وضع کرےگی۔

سینیٹ چیئرمین میاں رضا ربانی نے وزیر مملکت کو درخواست کی وہ سیکیورٹی ایجنسیز کو شناختی کارڈ کے تصدیقی عمل میں تاخیر سے متعلق سینیٹ کے خدشات کے حوالے سے ایک خط لکھیں اور بتائیں کہ تاخیر سے بہت سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمٰن نے مبینہ نسلی امتیاز اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) منڈی بہاؤ الدین کی جانب سے مبینہ طور پر پختونوں کو علاقے سے نکالنے کے خلاف لکھے گئے خط کے مندرجات کے حوالے سے پنجاب حکومت سے بھی رابطہ کیا۔

وزیر مملکت نے سینیٹ کو آگاہ کیا کہ اس حوالے سے جو خط سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے، وہ جعلی ہے،اگر خط اصلی ہوتا تو اس میں صرف منڈی بہاؤ الدین کی بات نہیں ہوتی کیوں کہ یہاں پختونوں کا تناسب صوبے کے دیگر شہروں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

مزید پڑھیں: شناختی کارڈز کی دوبارہ تصدیق تکنیکی مسائل کا شکار

خیال رہے کہ اسی طرح کا ایک سرکاری سرکلر لاہور کے علاقے بلال گنج میں بھی دکانداروں کو تقسیم کیا گیا تھا، جس کا نہ تو پنجاب حکومت اور نہ ہی پولیس سے کوئی تعلق ہے۔

وزیر مملکت بلیغ الرحمٰن نے بتایا کہ وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر امیر مقام کی سربراہی میں ایک کمیٹی نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ملاقات کرکے انہیں پختونوں کے خدشات سے آگاہ کیا اور تجویز پیش کی کہ چھاپوں کے دوران قبائلی عمائدین کو اعتماد میں لیا جائے، جو پہلی بار ہی قبول کرلی گئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب میں حالیہ دھماکوں کے بعد 2 لاکھ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی، جب کہ 441 افراد کو گرفتار کیا گیا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ گرفتار کیے گئے افراد میں صرف 34 پختون ہیں۔

وزیر مملکت کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد وشمار کو سینیٹر عثمان کاکڑ اور سردار اعظم موسیٰ نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اصلی اعداد و شمار اس سے زیادہ ہیں، جس پر سینیٹ چیئرمین نے انہیں کہا کہ وزیر مملکت کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد شمار کو چیلنج کرنے کے لیے وہ اپنے اعداد و شمار پیش کریں۔

یہ بھی پڑھیں: شناختی کارڈ کی تصدیق: ایس ایم ایس سروس متعارف

سینیٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’اسلامی دہشت گردی‘ کی اصطلاح استعمال کرنے کے خلاف پیش کی گئی قرارداد بھی منظور کرلی، قرارداد کو سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے پیش کیا۔

سینیٹ نے ایک اور قرارداد کے ذریعے امریکا اور کینیڈا میں مساجد پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی اور متعلقہ حکومتوں پر زور دیا کیا کہ مسلمانوں کی مذہبی آزادی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔