کیا ہم اپنے دشمن خود ہیں؟

16 مارچ 2017

ای میل

لکھاری ماہر معاشیات ہیں۔
لکھاری ماہر معاشیات ہیں۔

میں اس موضوع پر ایک ماہر کے طور پر تو نہیں بلکہ ایک عام آدمی کے طور پر آپ سے ہم کلام ہوں اور ہو سکتا ہے کہ یہاں مجھ سے کئی اہم پہلو چھوٹ بھی جائیں مگر مجھے بڑی حد تک یوں محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں جس طرح دہشتگردی کا مقابلہ کیا جا رہا ہے اس طریقہ کار میں کچھ تو غلط ہے۔ اگر میں غلطی پر ہوں، اور دعا ہے کہ میں ہی غلط ہوں، تو پھر جو کچھ ہو رہا ہے اس بارے میں کوئی مہربان ہی مجھے وضاحت فرما دے۔

ملک میں خود کش بم دھماکوں کی تازہ لہر کے بعد سے دہشتگردوں کے خلاف تند و تیز مہم کا آغاز ہو چکا ہے اور اگر خبروں پر اعتبار کیا جائے تو محض دو دنوں کے اندر ہی 100 سے زائد افراد کا خاتمہ کر دیا گیا تھا۔

جو بات مجھے الجھن میں ڈال دیتی ہے، وہ یہ ہے کہ کس طرح اتنی جلدی ان دہشتگردوں کی شناخت کر کے اور ان کے ٹھکانوں کا پتہ لگا کر ان کا خاتمہ کر دیا گیا۔

کیا ہمیں پہلے سے پتہ تھا کہ وہ کہاں تھے مگر چند وجوہات کی بنا پر انہیں چھوڑے رکھا تھا؟ اگر ہم نے انہیں چھوڑے رکھا تھا تو کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے پاس ان افراد کے دہشتگردی میں ملوث ہونے کو ثابت کرنے کے لیے شواہد ناکافی تھے؟

اگر واقعی یہی بات ہے، تو ہم کس طرح بغیر کسی حتمی ثبوت کے ان کا خاتمہ کر سکتے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں؟ اور اگر ہم شواہد رکھتے تھے اور جانتے تھے کہ وہ کہاں ہیں، تو ہم نے انہیں پہلے ہی حراست میں کیوں نہیں لیا اور ایک عام مہذب طریقہ کار کے ساتھ ان کی ملوث ہونے کو ثابت کیوں نہیں کیا گیا؟

میرے مذکورہ سوالات الجھن کا شکار ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں سچ نہیں بتایا جا رہا۔ یا تو ایسا ہے یا پھر ہمارے حکمرانوں کی انوکھی نااہلی کا تقاضا ٹھہرا کہ انہیں بھی معلوم نہیں کہ وہ آخر کر کیا رہے ہیں۔

دونوں باتیں ہیبت ناک بھی ہیں اور بے تکلفی سے کہوں تو ناقابل قبول۔ ایک بار پھر ہمارا سامنا اسی صورتحال ہے جسے ہم اپنے صبر آزما حالات سے تعبیر کر سکتے ہیں، یہاں میری مراد بن لادن معاملے سے ہے — کہ ہم جانتے تھے یا ہم نہیں جانتے تھے؟ ان میں کسی ایک سوال کا جواب بھی ہمارے لیے باعث فخر نہیں ہے۔

مجھے یوں لگتا ہے کہ دیوانہ وار کارروائیوں سے جذباتی ماحول بنانے کا مقصد پختہ عزم اور بامعنیٰ کارروائی کا تاثر دینا ہے تا کہ عوام کو ٹھنڈا کیا جاسکے اور زیادہ وقت کی مہلت حاصل کی جا سکے۔

کوئی کیا جانے کہ اس تماشے کو جاری رکھنے میں نہ جانے کتنے اور لوگ قربانی کے بکرے بنائے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف احمقانہ بیانات دیے جاتے ہیں کہ نئے اسلام آباد ایئر پورٹ کے افتتاح سے پاکستان کے مثبت تاثر کو فروغ ملے گا اور کرکٹ میچ کے انعقاد سے ہم عالمی دنیا کو اس بات پر قائل کر دیں گے کہ ملک دہشتگردی سے محفوظ ہے اور یوں سپر اسٹارز کے جھنڈ کے جھنڈ دوبارہ اس ملک میں لوٹ آئیں گے۔

میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کس طرح مٹھی بھر غیر ملکی کھلاڑیوں کو ایک بنکر نما جگہ پر کھیلنے کی رشوت دینے کی خاطر لاکھوں ڈالرز کا خرچہ ایک تسلی بخش ثبوت ہو سکتا ہے کہ ملک دوبارہ اپنی نارمل صورتحال کی جانب گامزن ہے۔ یا تجارتی راہداری کے تحفظ کے لیے 15 ہزار فوجی اہلکاروں کی ایک مستقل فورس کی تعیناتی کے اعلان سے کس طرح سرمایہ کاروں کا دوبارہ اعتماد بحال کیا جاسکتا ہے کہ ملک تجارت کے لیے محفوظ ہے۔ یہ سنجیدگی سے عاری خود فریبی ہے۔

اور آپ کو اس بات کو کیسے دیکھتے ہیں کہ اب دہشتگردوں کا تعاقب دیگر ممالک میں کیا جائے گا؟ اگر کوئی دوسرا ملک اس بات کو بہانہ بنا کر ہمارے ملک کے اندر کارروائی کرنے لگے تو اس پر آپ کا رد عمل کیا ہوگا؟

ایسا کرنا ایک بدتر صورتحال سے بچنے کے لیے بدترین صورتحال کا رخ کرنے کے مترادف ہے، ایسی صورتحال ممکنہ طور پر پورے خطے کو آگ کی طرح لپیٹ میں لے سکتی ہے. کیا کوئی اپنی زبان سے لفظوں کی بلا روک ادائیگی سے قبل کچھ سوچتا بھی ہے یا نہیں؟

اسی کے ساتھ ساتھ الزامات کا ایک انبار بھی لگا ہے کہ ہمارے دشمن ہمارے مسائل کو اور بھی سنگین بنا رہے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ہم کامیاب ہوں یا یہاں تک کہ ہم کرکٹ میچ کا انعقاد بھی کریں۔

ہاں یہ بات قبول کرنے کا دل تو چاہتا ہے، مگر اتنا ہی زیادہ اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کہ وہ ہمارے دشمن ہی تھے جنہوں نے ہمیں پہلے پہل ان حیوانوں کو پیدا کرنے پر قائل کیا تھا۔

یا پھر یہ کہ ہمارے دشمن وہ ہیں جو ہمیں اچھے اور برے دہشتگردوں، حقیقی دہشتگردوں اور محض فرقہ وارانہ قاتلوں کے درمیان، اور دہشتگردوں اور انسان دوستوں، کہ جب سیلابوں اور زلزلوں کے وقتوں میں ریاست اپنا فرض ادا کرنے میں ناکام جاتی ہے تب وہی غریبوں اور ضرورتمندوں کی مدد کو بھاگتے ہیں، کے درمیان تمیز کرنے پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

اگر ایسا نظریہ تشکیل دیا جاسکتا ہے کہ جس کے نزدیک دونوں سرگرمیاں ’موافق’ محسوس ہوں تو لوگ ایک ہی وقت میں انسان دوست اور دہشتگرد بھی ہو سکتے ہیں، کیا یہ ساری بات سمجھنا کافی مشکل ہے؟

سمجھ نہیں آتا کہ آخر ہم خطے سے دہشتگردی کا خاتمہ کرنے کی خاطر ریاستوں کا اتحاد قائم کرنے کے نارمل مرحلے کے ساتھ ان معاملات کو حل کرنے کا طریقہ اختیار کیوں نہیں کر سکتے جس کا نتیجہ سب کی جیت کی صورت میں نکلے گا۔

یا شاید ایسا نہ ہو۔ تو بصورت دیگر ہم اچھائی یا فائدہ مندی کے پیمانوں کے ساتھ دہشتگردوں کی درجہ بندی کے کھیل میں کھڑے محسوس کیوں ہوتے ہیں؟ اگر واقعی ایسی ہی بات ہے تو کیا کوئی، یہ واضح کرتے ہوئے کہ کس طرح چند دہشتگرد دیگر کے مقابلے بہتر ہیں اور اچھے والوں کا کیا کرنا ہے، قوم کو اعتماد میں لینے کی کرم فرمائی کر سکتا ہے؟

اور جہاں ہمیں اس حد تک شعور دیا جا رہا ہے وہاں کیا ہمیں یہ بھی بتایا جاسکتا ہے کہ ہم اس میں کامیاب ہو رہے ہیں یا نہیں اور ہم اس عظیم مقصد، جو ہم اپنے لیے ترتیب دے چکے ہیں، اور وہ مقصد جو کچھ بھی ہے، کو پانے سے کتنا دور ہیں؟

تسلی بخش جوابات ملنے میں ناکامی سے صرف ایک ہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ: ہم دشمن سے ملاقات کر چکے ہیں اور وہ دشمن خود ہم ہی ہیں۔

یہ مضمون 7 مارچ 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔