امریکی بحریہ کی خواتین اہلکاروں کی برہنہ تصاویر کو انٹرنیٹ پر شائع کرنے کا اسکینڈل صرف بحریہ تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ امریکا کی تمام مسلح افواج تک پھیلا ہوا ہے۔

بزنس انسائیڈر کی رپورٹ کے مطابق ساتھی خواتین اہلکاروں کی برہنہ تصاویر فیس بک کے پرائیوٹ گروپ میں شائع کرنے کے الزام میں امریکی بحریہ کے سیکڑوں مرد اہلکاروں کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔

لیکن خواتین اہلکاروں کی برہنہ تصاویر شائع کرنے کا اسکینڈل صرف امریکی بحریہ اور ایک فیس بک گروپ تک محدود نہیں ہے اور مسلح افواج کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے اہلکار ایک امیج شیئرنگ میسج بورڈ پر خواتین فوجیوں کی سیکڑوں نازیبا تصاویر شائع کرتے رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ امیج شیئرنگ سائٹ ’اینَن آئی بی‘ کا ایک میسج بورڈ امریکی فوجی اہلکاروں کے لیے مخصوص ہے، جہاں مرد اہلکاروں کی درجنوں موضوعات پر بات چیت کا سلسلہ موجود ہے۔

اس میسج بورڈ پر مرد اہلکار ساتھی خواتین اہلکاروں کی برہنہ تصاویر، جنہیں وہ ’وِنز‘ کہتے ہیں، شیئر کرتے رہے ہیں اور تصاویر کے ساتھ اس خاتون اہلکار کے نام اور تعیناتی کی تفصیلات بھی پیش کی جاتی ہیں۔

امریکی خواتین فوجی اہلکاروں کی برہنہ تصاویر کا اسکینڈل صحافی تھومس برینَن کی رپورٹ میں سامنے آیا تھا۔

انہوں نے چند روز قبل اپنی خبر میں انکشاف کیا تھا کہ امریکی بحریہ کے مرد اہلکار ساتھی خواتین اہلکاروں کی برہنہ تصاویر اور ان کی ذاتی معلومات سوشل میڈیا کی مشہور ویب سائٹ فیس بک کے 30 ہزار صارفین پر مشتمل پرائیوٹ گروپ ’مَرینز یونائیٹڈ‘ پر شائع کرتے ہیں۔

اس اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد امریکی مَرین کور نے معاملے کی تحقیقات کا آغاز کیا، جبکہ یہ اسکینڈل میڈیا اور کانگریس میں بھی جنگل میں آگ کی طرح پھیلا اور مرین کور کی جانب سے اس پر سخت مذمت بھی سامنے آئی۔

امریکی بحریہ کے جرائم سے متعلق محکمے ’این سی ایس آئی‘ کا کہنا تھا کہ تفتیش کار اہلکاروں پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کر رہے ہیں اور الزام ثابت ہونے پر اہلکاروں کو 7 سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

تمام معاملے سے آگاہ ایک عہدیدار نے بزنس انسائیڈر کو بتایا کہ ’مرین کمانڈر جنرل روبرٹ نیلر، ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کو اسکینڈل سے متعلق آئندہ ہفتے بریف کریں گے۔

تبصرے (0) بند ہیں