الطاف حسین کے بعد ایم کیو ایم کا پہلا یوم تاسیس

19 مارچ 2017

ای میل

تصویر: ایم کیو ایم پاکستان
تصویر: ایم کیو ایم پاکستان

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی 32 سال کی تاریخ میں یومِ تاسیس کی مرکزی تقریب میں سب سے اہم خطاب الطاف حسین کا ہی ہوتا آیا ہے، تاہم 33 واں یوم تاسیس الطاف حسین کی تقریر کے بغیر منایا گیا۔

گزشتہ برس 22 اگست کو پاکستان مخالف اور اشتعال انگیز تقریر کرنے کے بعد ایم کیو ایم کی پاکستان میں موجود قیادت نے الطاف حسین سے علیحدگی اختیار کرلی تھی، اور تنظیم بظاہر دو حصوں پاکستان اور لندن میں تقسیم ہوگئی تھی۔

ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 33 ویں سالگرہ 18 مارچ کو کراچی میں منائی گئی، تقریب سے فاروق ستار، خالد مقبول، وسیم اختر اور خواجہ اظہار سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔

یہ بھی پڑھیں: الطاف حسین کے بغیر ایم کیو ایم کچھ نہیں

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ انہیں 24 گھنٹے پہلے یوم تاسیس کی تقریب کرنے کی اجازت ملی، پھر بھی جلسے گاہ میں بیٹھنے کی جگہ نہیں اور اگر انہیں 15 دن قبل اجازت ملتی تو اس سے بھی بڑا جلسہ کرتے۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ 33 سال میں ایم کیو ایم کے خلاف متعدد آپریشن کیے گئے، مگر اتار چڑھاؤ کے باوجود آج بھی ان کی پارٹی متحد و منظم ہے، کیوں کہ ہماری جماعت متوسط طبقے اور عام لوگوں کی نمائندہ جماعت ہے۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم 18 مارچ 1984 کو بنی تھی، تب سے لے کر 18 مارچ 2016 تک یوم تاسیس کی مرکزی تقریب میں سب سے اہم خطاب بانی متحدہ الطاف حسین کا ہوتا تھا، مگر گزشتہ برس کے واقعے کے بعد متحدہ پاکستان کے رہنماؤں نے خود کو متحدہ لندن اور الطاف حسین سے الگ کر لیا تھا۔

مزید پڑھیں: ایم کیو ایم کے فیصلے اب پاکستان میں ہوں گے

الطاف حسین کی جانب سے 22 اگست کو کی جانے والی اشتعال انگیز تقریر کے بعد ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار کو حراست میں بھی لیا گیا تھا، جن کو بعد ازاں رہا کردیا گیا تھا، جب کہ گزشتہ روز بھی چند گھنٹوں کے لیے فاروق ستار کو دوبارہ حراست میں لے کر آزاد کردیا گیا تھا۔

ایم کیو ایم کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ جس شخص نے پارٹی بنائی تھی، اسی شخص کے بغیر یوم تاسیس کی مرکزی تقریب منعقد کی گئی۔

ایم کیو ایم پاکستان مسلسل یہ باور کروانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اب یہ تسلیم کرلینا چاہئیے کہ ایم کیو ایم لندن ایک الگ جماعت ہے، جس سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔