اسٹینٹ اسکینڈل: دل کے مریضوں کی زندگیاں داؤ پر

اپ ڈیٹ 28 مارچ 2017

ای میل

پاکستان میں میڈیکل ٹیکنالوجی اور علاج کے طریقوں میں ترقی کے ساتھ ساتھ شعبہ صحت کی ریگولیشن بھی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ اس شعبے میں کئی اسکینڈلز کمزور قوائد ہی کا نتیجہ ہیں۔ جہاں امراض قلب عام طور پر زندگی کو خطرے میں ڈال دینے والے حالات پیدا کر دیں وہاں غیر اخلاقی طور پر پیسے بنانے کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔ حالیہ 'اسٹینٹس جعلسازی' کا کیس یہاں زیر غور ہے۔

اسٹینٹ ایک نالی نما، خود کو پھیلانے کی صلاحیت کا حامل ایک طبی آلہ ہے جو دل کی شریانیوں میں کسی قسم کی روکاوٹ کو دور کرنے کے لیے داخل کیا جاتا ہے۔ یوں دل کے مریضوں کو زیادہ جینے کا موقع مل جاتا ہے اور ان کی زندگی کا معیار بھی بہتر ہو جاتا ہے۔ اسٹینٹس کی صنعت نے اس وقت سے زبردست ترقی کرنا شروع کی جب 1994 میں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے اس آلے کو منظوری دی گئی تھی۔ پاکستان میں بھی دل کے مریضوں کی بڑھتی تعداد کے ساتھ اسٹینٹس مارکیٹ نے خود کو وسیع کیا ہے۔

اس طرح طبی ماہرین اور دوا ساز صنعتوں کے لیے مریضوں کی جیب سے تجارتی فوائد حاصل کرنے کے دروازے کھول دیے ہیں۔ اگرچہ عوام کی یاداشت کمزور ہے مگر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیولوجی کا اسکینڈل کون بھول سکتا ہے جہاں غیر معیاری ادوایات دینے کی وجہ سے 200 سے زائد افراد موت کا شکار ہوئے تھے۔

پاکستان میں دیگر جرائم کی طرح، اس کیس میں بھی مجرموں کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کیے بغیر یہ جرم بھی دفتری فائلوں میں مدفن ہو کر رہ گیا۔ اس حوالے سے قوائد کی مسلسل غیر موجودگی سے اب اگر اسٹینٹس جعلسازی کا معاملہ منظر عام پر آیا ہے تو اس میں کوئی حیران کن بات نہیں۔ جب لاہور کے ایک بڑے ہسپتال میں بھاری تعداد میں غیر معیاری اسٹینٹس پائے گئے تو اس معاملے کا انکشاف میڈیا نے کیا۔

اس کے ساتھ ساتھ میڈیا تحقیقات میں اسٹینٹ لگانے کی مارکیٹ میں ہونے والے کئی پریشان کن عوامل اور اس کے ساتھ جڑے کئی ریگولیٹری اور اخلاقی مسائل سے بھی پردہ اٹھایا گیا۔ اول، یہ مارکیٹ غیر رجسٹرڈ اور غیر معیاری اسٹینٹس سے بھری ہوئی ہے۔

دوسرا، سستے اسٹینٹ اکثر طبی بنیادوں پر نہیں بلکہ خالصتاً کاروباری بنیادوں پر ڈالے جاتے ہیں جس کے عوض مریضوں سے غیر ضروری اسٹینٹ ڈلوانے کے پیسے لیے جاتے ہیں۔ تیسرا، اکثر و بیشتر مریضوں کو یقین دلایا جاتا ہے کہ ان کے قلب میں مطلوبہ اسٹینٹس ڈال دیا گیا ہے اور ان سے اسٹینٹ ڈلوانے کے پیسے لیے جاتے ہیں اور حقیقت میں اسٹینٹ ڈالا ہی نہیں گیا ہوتا۔

چوتھا، یہاں اسٹینٹس مغرب کی نسبت کہیں زیادہ مہنگے داموں پر فروخت کیے جاتے ہیں۔ مثلاً، میڈیا رپورٹس کے مطابق ہندوستانی اسٹینٹس کی قیمت 13 ہزار سے 26 ہزار روپے کے درمیان ہوتی ہے، پاکستان میں جعلی لیبل کے ساتھ 2 لاکھ سے 3 لاکھ کے درمیان فروخت کیے جاتے ہیں۔ پانچواں، یہاں نہ صرف مضبوط قوائد موجود نہیں ہیں بلکہ نگران ادارے بھی کمزور ہیں اور ان کا کہیں کردار نظر نہیں آتا۔

اسٹینٹ ڈالنے سے جڑے غیر اخلاقی عوامل کے بارے میں میڈیا کے انکشافات پر سپریم کورٹ نے اس مسئلے کا از خود نوٹس لیا ہے۔ وہاں سینٹ نے بھی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈراپ) کو ایک ماہ کے اندر اندر قیمتوں سے جڑی پالیسی کو ترتیب دینے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ ادویاتی اور طبی ٹیکنالوجی کی صنعت نے مسئلے میں بڑی سطح پر موجود کاروباری مفاد کی وجہ سے تیز تر رجسٹریشن کے لیے منفی تشہیر کا استعمال کیا۔

وہیں سپریم کورٹ اور سینٹ نے تیزی سے اقدام اٹھاتے ہوئے ڈراپ کو ہدایت دی ہے کہ صرف ان اسٹینٹس کو منظوری دی جائے جنہیں مغرب کے مضبوط ریگولیٹری اداروں کی جانب سے منظوری حاصل ہے جب کہ ڈراپ نے رجسٹریشن کے مرحلے کو تیز تر بنانے میں مہارت کی کمی کو تسلیم کیا ہے۔ پھر بھی صنعت کی جانب سے پڑنے والے دباؤ کے پیش نظر ہی انہوں نے مرحلے میں جلد بازی کی ہے۔

ڈراپ کی جانب سے نئی اسٹینٹ کی تفتیش کے حوالے سے مہارت کی کمی مریضوں کی زندگی سے جڑے سنگین خدشات کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ میڈیا کی جانب سے صرف رجسٹریشن پر بے پناہ توجہ مرکوز کرنے کی وجہ سے اضافی قیمت اور غیر ضروری اسٹینٹس ڈالے جانے سے جڑے غیر اخلاقی عوامل سے توجہ ہٹ گئی ہے۔

اسٹینٹ جعلسازی نے اسٹینٹ مارکیٹ میں موجود کئی خرابیوں کی نشاندہی کی ہے۔ سب سے بڑھ کر تو ان میں ظاہر ہے ایک مضبوط قانون سازی کی کمی ہے۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر، جس طرح مریضوں کی زندگی کو سنگین نوعیت کے خطرے میں ڈالنے جیسے غیر اخلاقی عوامل بڑھتے جا رہے ہیں، اس مارکیٹ کو فوری طور پر ایک سرگرم نگرانی اور مضبوط قوائد کی ضرورت ہے۔

ڈراپ ابھی تک اپنا وعدہ وفا نہیں کر پایا ہے جس کا ثبوت 2012 میں اس کے قیام سے لے کر اس کے کردار اور اہلیت سے جڑی ہولناک منفی کہانیاں ہیں۔ جہاں ادوایات اور طبی آلات کی ضابطہ کاری بڑی سطح پر تکنیکی فیلڈ کی صورت اختیار کر رہی ہے ایسے میں ڈراپ کو بھی خود کو نئے منظر نامے کے ساتھ اپنے کردار پر دوبارہ جائزہ لینا چاہیے۔

اسی لیے ضروری ہے کہ ریگولیٹری اتھارٹی خود کو درست قسم کی افرادی قوت سے لیس کرے اور شفاف فیصلہ سازی کے تقاضوں کو پورا کرے۔ ڈراپ اپنے اندر اہل اور تجربہ کار افراد کو شامل کرنے کے ساتھ اپنی فیصلہ سازی میں بڑی حد تک سول سوسائٹی گروپس کو بھی شامل کرے اور اپنے فیصلوں کو ویب سائٹ پر فراہم کر کے عوام کے لیے عام کرے۔

مزید برآں، جتنی ضرورت مضبوط ضابطہ کار کے نفاذ کی ہے اتنی ہی ضرورت 1976 کے ڈرگز ایکٹ پر دوبارہ جائزہ لینے کی ہے جس میں تبدیلیاں لائی جائیں اور لفظی اور عملی طور پر عمل درآمد کیا جائے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ دل کے مریضوں کے علاج کا خرچہ کم ہونا چاہیے اور انہیں اسٹینٹس کی قیمت بتائی جائے اور اس کے سائیڈ افیکٹس سے بھی آگاہ کیا جائے۔

یہ مضمون 28 مارچ 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔