پارا چنار کے بازار میں دھماکا، 22 افراد جاں بحق

اپ ڈیٹ 31 مارچ 2017

ای میل

پاراچنار: وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کی کرم ایجنسی میں دھماکے کے نتیجے میں 22 افراد ہلاک جبکہ 57 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔

اطلاعات کے مطابق دھماکا کرم ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر پاراچنار کے نور بازار میں ہوا، یہ ایجنسی ہیڈ کوارٹر کا مصروف ترین علاقہ ہے، جہاں بہت سی دکانیں ہیں جبکہ اسی علاقے میں امام بارگاہ بھی موجود ہے۔

ایجنسی کے ہسپتال میں موجود سرجن معین بیگم کا کہنا تھا کہ ’22 میتیں ہسپتال لائی گئی ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں‘۔

ڈاکٹر معین بیگم کے مطابق ہسپتال لائے گئے زخمیوں کی تعداد 57 ہے۔

عینی شاہدین نے دعویٰ کیا کہ چند حملہ آوروں نے بازار سے کچھ فاصلے پر موجود پھاٹک پر لیویز اہلکاروں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا، جس کے بعد بازار میں دھماکا ہوا۔

دھماکے کے چند گھنٹوں کے بعد کالعدم تنظیم جماعت الاحرار نے ویڈیو پیغام کے ذریعے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی۔

’دھماکا خودکش تھا‘

پاراچنار سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی ساجد حسین طوری کا کہنا تھا کہ دھماکا خودکش تھا جبکہ حملے سے قبل فائرنگ بھی کی گئی۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ساجد حسین طوری کا کہنا تھا کہ دھماکا بازار کے مصروف علاقے میں ہوا، اس کا نشانہ مسجد بھی ہوسکتی تھی۔

'ہلاک شدگان میں خاتون اور 2 بچے شامل'

اب تک دھماکے کی ذمہ داری کسی کی جانب سے قبول نہیں کی گئی—فوٹو: ڈان نیوز
اب تک دھماکے کی ذمہ داری کسی کی جانب سے قبول نہیں کی گئی—فوٹو: ڈان نیوز

دوسری جانب ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ڈاکٹر ممتاز حسین کا بتانا تھا کہ ہسپتال لائی گئیں لاشوں میں ایک خاتون اور 2 بچوں کی میتیں شامل تھیں.

ڈاکٹر ممتاز حسین نے زخمیوں کے لیے درکار خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے لوگوں سے خون کا عطیہ دینے کی اپیل بھی کی.

زخمیوں کی منتقلی کیلئے فوجی ہیلی کاپٹرز روانہ

پارا چنار سے زخمیوں کی منتقلی کے لیے فوج نے ہیلی کاپٹرز بھی روانہ کیے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق دھماکے کے مقام سے زخمیوں کو نکالنے کے لیے ہیلی کاپٹر روانہ کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: پارا چنار کی سبزی منڈی میں دھماکا،25 جاں بحق

دھماکے کی مذمت

دھماکے کے مقام پر تباہ شدہ گاڑی کو دیکھا جاسکتا ہے—فوٹو: ڈان نیوز
دھماکے کے مقام پر تباہ شدہ گاڑی کو دیکھا جاسکتا ہے—فوٹو: ڈان نیوز

وزیراعظم نواز شریف نے پاراچنار دھماکے میں قیمتی جانی نقصان پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پاراچنار میں دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کے بہتر علاج کے لیے بندوبست کیا جائے۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا۔

قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی خورشید شاہ نے پاراچنار میں دہشت گرد حملے پر مذمتی بیان جاری کیا۔

آصف زرداری کا شہدا کے لواحقین سے ہمدردی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پارٹی کارکن اور عہدیدار زخمیوں کی زندگی بچانے کیلیے خون کے عطیات دیں۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں پارا چنار میں دھماکے کی شدید مذمت کی۔

یاد رہے کہ رواں برس جنوری میں بھی پارا چنار میں ریموٹ کنٹرول دھماکے کے نتیجے میں 25 افراد جاں بحق جبکہ 40 سے زائد زخمی ہوگئے تھے، جس کی ذمہ داری کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی العالمی نے قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے الگ ہونے والے شہریار محسود گروپ کے ساتھ مل کر یہ کارروائی کی۔

واضح رہے کہ پارا چنار پاک افغان سرحد پر قبائلی علاقے کرم ایجنسی کا انتظامی ہیڈ کوارٹر ہے، یہ زیادہ آبادی والا علاقہ نہیں ہے، اس علاقے کی آبادی 40 ہزار کے قریب ہے جس میں مختلف قبائل، نسل اور عقائد کے لوگ شامل ہیں، یہ علاقہ 1895 میں انگریزوں نے تعمیر کیا تھا۔

نور بازار کے قریب بہت سی دکانیں اور امام بارگاہ بھی موجود ہے۔—فوٹو: ڈان نیوز
نور بازار کے قریب بہت سی دکانیں اور امام بارگاہ بھی موجود ہے۔—فوٹو: ڈان نیوز

2007ء میں اس علاقے ہونے والی فرقہ ورانہ جھڑپوں کے بعد فوج اور نیم فوجی دستوں نے یہاں کی شاہراہوں پر چوکیاں قائم کی تھیں۔

اگرچہ یہاں فوج اور مقامی قبائلی رضا کاروں پر مشتمل چوکیاں قائم ہیں لیکن کرم ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی میں دشوار گزار پہاڑی راستے ہیں جہاں سے عسکریت پسند دوسرے علاقوں میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پارا چنار دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 22 ہو گئی

پاکستان کی قبائلی علاقوں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب-عضب اور خیبرایجنسی میں آپریشن خیبر (ون اور ٹو) کے بعد عسکریت پسند ردعمل کے طور پر دوسرے علاقوں میں حملوں کی کوشش کر رہے ہیں۔

دہشت گردی کی نئی لہر

واضح رہے کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران دہشت گردی کی تازہ لہر نے ملک کے مختلف شہروں کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا ہے، جس کے بعد افواج پاکستان نے فسادیوں کے خاتمے کے لیے ’آپریشن ردالفساد‘ شروع کرنے کا اعلان کیا۔

  • گذشتہ ماہ 13 فروری کو لاہور کے مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے سامنے دہشت گردوں نے خودکش حملہ کیا، جس کے نتیجے میں پولیس افسران سمیت 13 افراد ہلاک اور 85 زخمی ہوئے، جس کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروپ 'جماعت الاحرار' نے قبول کی تھی۔

  • 13 فروری کو ہی کوئٹہ میں سریاب روڈ میں واقع ایک پل پر نصب دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بناتے ہوئے بم ڈسپوزل اسکواڈ (بی ڈی ایس) کمانڈر سمیت 2 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

  • 15 فروری کو وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے فاٹا کی مہمند ایجنسی میں خودکش حملے کے نتیجے میں خاصہ دار فورس کے 3 اہلکاروں سمیت 5 افراد جاں بحق ہوگئے تھے، اس حملے کی ذمہ داری بھی’جماعت الاحرار’ نے قبول کی تھی۔

  • 15 فروری کو ہی پشاور میں ایک خود کش حملہ آور نے ججز کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں گاڑی کا ڈرائیور ہلاک ہوگیا تھا، جس کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

  • 16 فروری کو صوبہ سندھ کے شہر سیہون میں درگاہ لعل شہباز قلندر کے احاطے میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں خواتین و بچوں سمیت 80 سے زائد افراد جاں بحق اور 200 سے زائد زخمی ہوئے، جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

  • خود کش دھماکوں کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے قافلوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے، جمعرات 16 فروری کو ہی بلوچستان کے علاقے آواران میں سڑک کنارے نصف دیسی ساختہ بم پھٹنے سے پاک فوج کے ایک کیپٹن سمیت 3 اہلکار جاں بحق ہوگئے تھے۔

  • 21 فروری کو خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ میں ضلع کچہری پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور 15 سے زائد افراد زخمی ہوئے جبکہ 3 خود کش حملہ آوروں کو بھی ہلاک کردیا گیا۔

  • 23 فروری کو پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں دھماکے کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق اور 21 زخمی ہوگئے۔