جنرل غفور کی ٹوئیٹ ہمارے سیاسی نظام کا نوحہ ہے

اپ ڈیٹ 06 اپريل 2017

ای میل

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی ٹوئیٹ ہے کہ "ویزوں کے اجرا کے معاملے پر حسین حقانی کا بیان پاکستانی ریاستی اداروں کے مؤقف کی تائید کرتا ہے اور اس بیان سے ویزوں کے اجرا میں سابق سفیر کے کردار کے حوالے سے تحفظات کی تصدیق ہوتی ہے."

حسین حقانی نے گزشتہ ہفتے اپنے آرٹیکل میں اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے امریکیوں کو ویزے حکومتی رضا مندی سے جاری کیے۔ یادداشت پر ذرا زور دیجئے، پاناما لیکس سے پہلے وکی لیکس نے کچھ حقائق سے پردہ اٹھایا تھا جس میں جنرل کیانی کی تین شخصیات سے متعلق نا پسندیدگی کا اظہار بھی تھا۔

جنرل کیانی نواز شریف کو ناپسند، خان کو کمزور فریق اور صدر آصف علی زرداری کو ناقابل بھروسہ سمجھتے تھے۔ تب یہ باتیں پس آئینہ تھیں، آج سر آئینہ کہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق اگر حسین حقانی کی تحریر سے ان کی بدنیتی ثابت ہوتی ہے تو کیا یہ اخذ کرنا غلط ہے کہ اداروں کی نظر میں قومی سلامتی کی پامالی کے ذمہ دار سابق صدر آصف علی زرداری بھی ہیں۔ کیا اس ایک ٹوئٹ سے بہت سی ان کہی باتیں بھی نہیں کہہ دی گئیں؟

چند الفاظ کی یہ ٹوئیٹ اس نظام کا نوحہ ہے جسے لکھتے لکھتے ہم نے انگلیوں کے پور گھسائے ہیں، جن کی پردہ داری میں اس نظام نے 70 کی دہائی سے اب تک قومی سانحات پر بننے والے تحقیقاتی کمیشنوں پر پردے ڈالے ہیں، وہ حق بجانب ہیں کہ سابق سفیروں سے لے کر منتخب وزرائے اعظم کے کردار کے پردے چاک کریں۔

یہ ماضی بعید کا قصہ نہیں ہے کہ اذہان سے اپنے نقش چھوڑ گیا ہو، ایبٹ آباد آپریشن تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جس میں قومی سلامتی اور خود مختاری اپنی اصل روح کے ساتھ 'بریچ' ہوئی۔ عسکری، سیاسی اور حساس ادارے عین معمول کے مطابق چل رہے تھَے۔ نہ آئی ایس آئی کے سربراہ شجاع پاشا چھٹی پر تھے نہ فوج کے سربراہ غیر حاضر تھے اور نہ ہی وزیرِ اعظم ہاؤس میں تالے پڑے تھے۔ یہ اور بات ہے کہ سانحہ آ کے گزر گیا تو ملک کے چیف ایگزیگٹو کو تب اسٹیٹ کے اندر اسٹیٹ کے وجود کا احساس ہوا۔

صد افسوس کہ گیلانی صاحب نے جو جرات بھرے ایوان میں سوال اٹھانے کی کی، وہ جرات ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ پبلک کرنے میں نہیں دکھا سکے۔ خیر یہ بھاری بھرکم دباؤ اتنا شدید تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف بھی اپنے تمام تر دعووں کے باوجود یہ ہمت نہیں باندھ سکے۔

آج اگر ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ عوام کے سامنے رکھ دی جاتی تو سابق سفیر کے ایک غیر مصدقہ بیان کی تصدیق اور تردید کرنے کی جرات پھر کوئی نہ کرتا۔ یہ ترازوئے اختیار کا غیر متوازن پہلو ہی تو ہے کہ قومی سلامتی سے نتھی کیے گئے میمو گیٹ کی باز گشت پر منتخب حکومت کو ناکوں چنے چبوا دیے گئے۔

جمہوری اختیار کے لبادے میں چھپی بے بسی پر کہاں تک دل جلائیں کہ جمہوری نمائندے اپنے ایوان کی بھر پور حمایت سے سائبر کرا٘ئم میں وہ شق تو پاس کرتے ہیں جس میں حساس ادروں پر تنقید قومی سلامتی کی حد پار کرنے کے مترادف سمجھی جائے گی مگر اس بل میں ایسا کوئی ذکر نہیں کہ عسکری اداروں میں بیٹھ کر سیاسی ٹوئیٹ کرنے والے کس زمرے میں آئیں گے۔

پچھلے تین سالوں میں جنرل عاصم باجوہ کی کئی ٹوئیٹس منتخب جمہوری نمائندوں کو تنبیہ اور تصحیح سے متعلق تھیں اور آج جنرل غفور بھی سابق سربراہان کے نقشِ قدم پر چلنے کی ابتدا کر چکے ہیں۔ ریاست پاکستان میں جمہوریت اس عشق کا نام ہے جسے اہل جمہور کر تو بیٹھے ہیں مگر نبھانے کی سکت نہیں رکھتے۔ ہم یہ عہد وفا کرنے کی سکت رکھتے تو حکومت کے ماتحت ادارے حکومت کو ہی سبق سکھانے کی مشقیں یوں سرِ عام نہ کرتے۔

ڈاکٹر عاصم 19 ماہ اور کئی ریمانڈز کے بعد ضمانت پر رہا ہو رہے ہیں ان کے خلاف 462 ارب روپے کی کرپشن اور دہشت گردوں کی معاونت کرنے کے سنگین ریفرنس دائر تھے۔ وزیرِ داخلہ چوہدری نثار میڈیا کو بارہا بتا چکے کہ ڈاکٹر عاصم کے خلاف ٹھوس ثبوت بھی موجود ہیں اور ویڈیوز بھی، تو پھر وہ ضمانت پر کیسے اور کیوں رہا ہو گئے؟ کیس کمزور تھا، استغاثہ ناکام ہوا یا پھر دیا گیا پیغام کامیاب ہو گیا؟

ایسا ہی پیغام فاروق ستار کو دو بار مل چکا ہے۔ جمہوریت کے بھرم اپنی جگہ، یہاں بقول خواجہ آصف خاکی آج بھی مقدس ہے اور رہے گی، جب تک سیاستدان قلیل مدتی انتخابی مفادات کے لیے نظام اور ادارہ جاتی اصلاحات سے گریز کرتے رہیں گے۔