پنجاب نے بھٹو کو سر آنکھوں پر کیوں بٹھایا

اپ ڈیٹ 04 اپريل 2017

ای میل

وہ سر شاہنواز کے گھر 5 جنوری 1928 کو پیدا ہوا، وہ شاہنواز بھٹو جو محض 33 برس کی عمر میں بمبئی کی اسمبلی میں سندھ سے 1921 میں منتخب ہوا تھا۔ سندھ جو پنجاب کی طرح انگریزوں کے قبضے سے قبل بھی ایک مسلم اکثریتی صوبہ تھا، اسے 1847 سے انگریزوں نے بمبئی کے زیرنگیں کر ڈالا تھا۔

یہ سر شاہنواز ہی تھا جس نے سندھ کو بمبئی سے الگ کرنے کے لیے انتھک کام کیا اور جب نہرو رپورٹ میں یہ کہا گیا کہ سندھ معاشی طور پر بمبئی سے الگ ہو کر اپنے پیروں پر نہیں کھڑا ہوسکتا تو شاہنواز کو سیاست کی سمجھ آ گئی۔

سندھ کی غیر مسلم برادری کا ایک مؤثر گروہ سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کے محض اس لیے خلاف تھا کہ علیحدگی کے بعد سندھ میں مسلمان سندھیوں کی اکثریت انہیں 'وارا' نہیں کھاتی تھی۔

1933 میں سندھ کو بمبئی سے الگ کرنے کا اصولی فیصلہ ہو گیا تو شاہنواز بمبئی میں وزیر بھی بنے۔ پنجاب یونینسٹ پارٹی کی طرز پر انہوں نے 1937 کے انتخابات سے قبل سندھیوں کے لیے سیکولر پارٹی، سندھ یونائیٹڈ پارٹی بنائی جس میں سر عبداللہ ہارون کا ساتھ انہیں حاصل تھا۔

پڑھیے: بھٹو کی پھانسی: انصاف یا عدالتی قتل؟

1937 کے انتخابات میں یہ جماعت سب سے بڑی جماعت تھی، مگر انگریز گورنر نے دوسرے نمبر پر نشستیں جتنے والے سر غلام حسین ہدایت اللہ کو وزارت دینے کی آفر کی تو شاہنواز کو پارلیمانی سیاست میں ڈنڈیاں مارنے کی بھی سمجھ آ گئی۔

شاہنواز کو جس محلاتی سیاست نے شکست دی تھی اس کا سبق نوجوان زلفی سے زیادہ کسے یاد نہ ہوگا۔ 1953 میں لنکنز اِن سے وکالت کرنے والے بھٹو کو آزادی کے بعد جاری طاقت کی سیاست اور نوآبادیاتی تسلسل کا بخوبی اندازہ تھا کیوں کہ اقتدار کی غلام گردشوں میں عوام کے بجائے محلاتی سازشوں کا جال بچھا تھا۔

1956 میں پاکستان نے پہلا آئین بنایا تو اس آئین کے تحت بننے والی حکومت میں بھٹو تجارت کے وزیر بنے۔ ایوب خان کے مارشل لاء میں بھی انہیں وزارت کا قلمدان دیا گیا۔ جب جنرل ایوب نے مارشل لاء کے بدترین مخالف اخبار پاکستان ٹائمز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا تو اخبار کے ایڈیٹر مظہر علی خان سے آخری مذاکرات کرنے کے لیے بھٹو کو بھیجا گیا۔

بھٹو اور مظہر کے دیرینہ خاندانی تعلقات تھے۔ جب مظہر علی خان نے ایوب حکومت کا ساتھ نہ دینے کا اعلان کیا تو بھٹو کو یہ سمجھ آ گئی کہ اس ملک میں محض اشرافیہ کا قبضہ نہیں بلکہ ایسے مرد قلندر بھی رہتے ہیں جو دریا کے مخالف تیرنا جانتے ہیں۔

بھٹو ایوبی حکومت میں وزارتِ خارجہ تک جا پہنچے اور اب انہیں اندازہ ہوا کہ بڑے ممالک بھی وہی کرتے ہیں جو اشرافیہ قومی سطح پر کرتی ہے۔ چین سے قربت کو وہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ازحد ضروری سمجھتے تھے، چنانچہ مارچ 1963 میں انہوں نے اس تاریخی معاہدے پر دستخط کیے جو پاک چین دوستی کا سنگ میل ثابت ہوا۔

1965 کی جنگ جیتنے کی دعویدار فوجی حکومت جب تاشقند میں مذاکرات کی میز پر کشمیر ہار گئی تو بھٹو نے وزارتِ خارجہ کے اہم عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ یہیں سے بھٹو کی زندگی میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ ایک ایسا آغاز جس نے بھٹو کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔

چین کے دورے پر جب وہ ماؤزے تنگ سے ملے تو انہیں اشرافیہ اور عوامی اقتدار کا فرق نظر آ گیا تھا۔ اب وہ وزارت کا طوق اتارنے کے بعد ایک عوامی لیڈر بننا چاہتے تھے۔

1967 سے 4 اپریل 1979 تک 12 برس کے مختصر عرصے میں انہوں نے پاکستانی سیاست پر اپنے گہرے نقوش چھوڑے۔ وہ شاہنواز کے بیٹے تھے، سندھ کلب کے ممبر تھے، ان کی فارسی بولی بولنے والی بیوی کے تعلقات بھی شہر کراچی میں تھے۔ مگر زیرک بھٹو کو سندھ کی سیاست سے شاہنواز کا نکالا جانا بھی یاد تھا اور اقتدار کی غلام گردشوں میں ہونے والی سازشوں کے بارے میں بھی وہ خوب آگاہی حاصل کر چکے تھے۔ ان کے سامنے نیشنل عوامی پارٹی دو حصوں میں بٹ چکی تھی۔ صوبائی قوم پرستوں کو اقتدار کی غلام گردشوں میں گھومتا وہ خود دیکھ چکے تھے۔

پڑھیے: تاریخ کے صفحات سے: جب وزیراعظم کو پھانسی دی گئی

اپنے سیاسی ورثے اور سیاسی بصیرت ہی کی وجہ سے انہوں نے پارٹی کا سنگِ بنیاد پنجاب کے دل 'لہور' جا کر رکھا کہ 56 فیصدی عوام اگر ان کے ساتھ ہوں گے، تب ہی وہ اقتدار کے ٹھیکے داروں کو چیلنج کر سکیں گے۔ ولی خان وغیرہ کی طرح انہوں نے پنجاب کو گالیاں نہیں دیں بلکہ پنجابی عوام کے دل جیتنے کے جتن کیے۔

ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہندوستان مخالف بیانیے کی وجہ سے پنجاب میں مقبول ہوئے۔ حلانکہ اس دور میں ہندوستان مخالف بیانیے کے مبلغ جماعتِ اسلامی اور شوکت اسلام والے تھے۔ مگر انہیں تو کسی پنجابی نے گھاس بھی نہیں ڈالی۔

جو بات پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنے ہمعصروں سے ممتاز کرتی ہے وہ تھا پنجابیوں کو اعتماد میں لے کر طبقاتی سوال کے حوالے سے اشرافیہ کی سیاست پر سیدھا سیدھا حملہ، اسلامی سوشلزم سے وابستگی اور مڈل کلاسیوں کی بطور انتخابی اْمیدوار سلیکشن۔

روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے نے محکوموں کے دل میں ایسا گھر کیا کہ کیا متوسط طبقہ اور کیا بچھڑے ہوئے طبقات، سب نے پنجاب میں بھٹو کو اپنا لیڈر بنایا۔ وہ پنجاب کو فتح کرنے نہیں بلکہ پنجابیوں کے دلوں میں گھر کرنے آیا تھا، جواب میں پنجاب نے انہیں پاکستان کا وزیراعظم بنا دیا۔

20 دسمبر 1971 سے 5 جولائی 1977 تک کے وقت کا تجربہ کرتے ہوئے دو باتوں کا خیال رکھنا لازم تھا۔ ٹوٹے ہوئے پاکستان کو مزید ٹوٹنے سے بچانا پہلا کام تھا۔ اندرا گاندھی اعلان اور کسنجر انتباہ کر چکا تھا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت گذشتہ 23 سال میں عوام کے ووٹوں سے بننے والی پہلی عوامی سرکار تھی، چنانچہ اس کا تجزیہ بھی پہلے عوامی تجربے کے حوالے سے ہی کیا جانا چاہیے۔

جنرل ایوب اور معاہدہ تاشقند کے برعکس بھٹو ایک ہار چکی جنگ، ایک ٹوٹ چکے ملک اور 93 ہزار قیدیوں کے بوجھ کے ساتھ شملہ گئے تھے۔ خود ہندوستانی مصنفین بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ جو جنگ پاکستان پلٹن میدان میں ہار چکا تھا اسے شملہ میں مذاکرات کی میز پر بھٹو نے جیتا تھا۔ اس کے اس جرم کو بھی کبھی معاف نہ کیا گیا۔

یحییٰ خان اور اس کے ٹولے نے اقتدار منتقل کرنے کے بجائے فوجی کارروائی کر کے ملک توڑ ڈالا تھا مگر بھٹو نے شملہ مذاکرات کو کامیاب اور آئین بنا کر ملک کو مزید ٹوٹنے سے بچایا تھا۔ بھٹو تو 16 دسمبر کو بھی اقوام متحدہ میں پاکستان کی جنگ لڑ رہا تھا جبکہ اسلام آباد میں براجمان ٹولہ یحییٰ خان کو اقتدار میں رہنے کے مشورے دے رہا تھا۔

پڑھیے: بھٹو کی روح اور پیپلز پارٹی

بقول جنرل گل حسن، جب یونٹوں میں 'شور' بلند ہوا تو پھر بھٹو کو اقوام متحدہ سے واپس بلا کر اقتدار دینے کا فیصلہ ہوا۔ 18 دسمبر کا وہ دن بھی سب کو یاد ہے جب بھٹو کے بجائے اصغر خان کو اقتدار دینے کے لیے لیاقت باغ میں جلسہ کروانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ اس کے گواہ ابھی زندہ ہیں جو پی پی پی راولپنڈی کے کارکن تھے۔

جس طرح دسمبر 1971 سے دسمبر 1972 کے درمیان طوفانوں میں بھٹو نے پاکستان کا علم تھامے رکھا وہ داستان ابھی لکھی نہیں گئی کہ کوئی عراق اور افغانستان سے مدد لینے پہنچا ہوا تھا اور کوئی اندرون ملک اُردو، سندھی جھگڑا کھڑا کر کے اس طوفان کو گرم رکھنا چاہتا تھا۔

بھٹو نے 131 کے ایوان میں 6 نشستیں جیتنے والی نیشنل عوامی پارٹی (ولی گروپ) کے ساتھ مذاکرات کیے، سرحد اور بلوچستان میں اپنا اختیار استعمال نہ کیا اور نیپ (ولی) کے گورنر بنوائے تو نیپ نے ایک مذہبی جماعت کے سربراہ کو صوبہ سرحد کا وزیر اعلیٰ بنا ڈالا۔ جب اس وزیرِ اعلیٰ نے اپنی سیاست چمکانے کے لیے صوبے میں 'نفاذِ اسلام' شروع کیا تو اکثریتی پارٹی یعنی سیکولر نیپ (ولی) خاموش تماشائی بنی بیٹھی رہی۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے بانی رکن رحیم بلوچ اپنے انٹرویو میں اقرار کر چکے ہیں کہ 1971 میں ہی وہ اور ان کے ساتھی عراق میں ایران مخالف تربیت حاصل کرنے گئے تھے۔ بھٹو ان کو پاکستانی سیاست میں لا کر پاکستان میں ترقی پسند اقدامات کے خواہاں تھے اور یہ مختلف بیرونی حکومتوں کی مدد سے کچھ اور کاموں میں غلطاں۔

3 فروری 1972 کو بھٹو نے دولتِ مشترکہ سے پاکستان کے نکلنے کا اعلان اس لیے کیا تھا کہ دولت مشترکہ نے پاکستان سے پوچھے بغیر بنگلہ دیش کو تسلیم کرلیا تھا۔ ان کے اس جرم کو بھی کبھی معاف نہ کیا گیا۔

آج بھٹو دور کے فیصلوں پر تنقید کرنا آسان، مگر 1972 کے پرآشوب سال کا جسے کماحقہ اندازہ ہو وہ سمجھ سکتا ہے کہ ایک ٹوٹ چکے ملک کو مزید ٹوٹنے سے بچانے کے لیے پرجوش، ولولہ انگیز اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔ اداروں کو قومی تحویل میں لینے جیسے اقدامات سے اسلامی سربراہ کانفرنس کے انعقاد تک کیے تمام فیصلوں کو 1972 کی عینک ہی سے دیکھنا چاہیے۔

دیکھیں: بھٹو کی یاد (نایاب تصاویر)

اب تو نیپ کے انقلابی کارکن جمعہ خان صوفی کی اعترافی کتاب بھی سامنے آ گئی کہ کیسے پختون زلمے کو کھڑا کر کے پاکستان میں افغان جہاد سے کئی سال قبل دہشت گردی کا آغاز کابل سے کیا گیا تھا۔

1976 میں سردار داؤد پاکستان کے جوابی حملوں کے بعد شاہ ایران کے ضمانتی بننے پر ڈیورینڈ لائن تسلیم کرنے پر تیار ہوا مگر بڑی طاقتوں کو یہ منظور نہ تھا۔ لیکن وہ کون تھے جو ان تینوں ممالک میں مقامی سہولت کار بنے؟ تینوں سربراہوں کو جیسے ہٹایا گیا، ان کہی کہانی ابھی لکھی نہیں گئی۔

بقول جمعہ خان صوفی قومی اتحاد بنانے سے قبل ہی جیل میں ولی خان اور جرنیلوں میں ملاقات ہو گئی تھی۔ ولی خان اور ان کی نیپ کو سپریم کورٹ غدار قرار دے چکا تھا مگر جب ایجنڈا ایک ہو تو متحارب کردار بھی ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔ بھٹو کو ہٹانے کے لیے دھاندلیوں کا روایتی حربہ استعمال کیا گیا۔ مارشل لا لگانے کے بعد ضیاالحق نے ولی خان کو رہا کیا تو ولی خان نے پہلے احتساب پھر انتخاب کا نعرہ لگا کر 'شکریہ' ادا کیا۔

ضیا نے عدالت کے ذریعے بھٹو کو قتل کروایا مگر 7 ججوں میں سے ایک لاہور کے جسٹس نسیم حسن شاہ مرنے سے پہلے سچ بول گئے۔ بھٹو کی نظرِ ثانی کی آخری پٹیشن کو ساتوں ججوں نے مسترد کیا مگر یہ جھوٹ پھیلایا گیا کہ بھٹو کو پنجاب کے ججوں نے پھانسی دی ہے۔

پنجاب اور پیپلز پارٹی کو الگ الگ کرنا بنیادی ایجنڈا تھا اور اس کی تکمیل کے لیے مختلف کھلاڑی متحرک کر دیے گئے۔ بھٹو کے عدالتی قتل نے جمہوریت کو ایک شہید دیا کہ آج جس جمہوری تسلسل پر ہم سب نازاں ہیں اس میں سب سے بڑا حصہ اس شہید ہی کا ہے۔