بھارت: ٹرک میں گائے لے جانے پر مسلمان قتل

05 اپريل 2017

ای میل

الوار : بھارت میں گائے ذبح کرنے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ہندو انتہا پسندوں کے تشدد سے گائے کی ترسیل کرنے والا مسلمان شخص ہلاک ہوگیا۔

رپورٹس کے مطابق مغربی ریاست راجھستان کے علاقے الوار کی ایک شاہراہ پر مویشیوں سے لدا ٹرک لے جانے والے 55 سالہ پہلو خان پر مشتعل ہجوم نے حملہ کیا۔

حملے سے زخمی ہونے والا پہلو خان دو روز تک زیرعلاج رہنے کے بعد ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

خیال رہے کہ اکثریتی ہندو آبادی کے ملک بھارت میں گائے کو مقدس سمجھا جاتا ہے جبکہ ملک کی کئی ریاستوں میں اس کے ذبح کرنے پر پابندی ہے۔

ہندوستان میں گائے کے ذبیحہ کے معاملے پر جاری حالیہ کشیدگی کے دوران بھارت کی شمالی اور مغربی ریاستوں میں انتہاپسندوں کے گروہ شاہراہوں سے لے جائے جانے والے مویشیوں کی ٹرکس کی نگرانی کررہے ہیں تاکہ ذبح کرنے کے غرض سے جانوروں کی ترسیل کرنے والے افراد کی نشاندہی کی جاسکے۔

الوار کے پولیس چیف راہول پرکاش کے مطابق حالیہ واقعے میں 6 افراد زخمی ہوئے تھے تاہم دیگر زخمیوں کو اب ہسپتال سے ڈسچارج کیا جاچکا ہے۔

پولیس چیف کا مزید کہنا تھا کہ پولیس حملہ آوروں کی تلاش میں ہے جبکہ قتل کا مقدمہ درج کیا جاچکا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مسلمان شخص کے موت کی وجہ پوسٹ مارٹم میں واضح ہوجائے گی، ‘ہمیں اب تک رپورٹ موصول نہیں ہوئی تاہم ہلاک ہونے والے شخص کی متعدد پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں‘۔

راہول پرکاش نے کہا کہ متاثرہ شخص اور اس کے ساتھی اپنے آبائی علاقے ہریانہ واپس لوٹ رہے تھے جب ہجوم نے ان پر حملہ کیا۔

خیال رہے کہ گذشتہ دو سال کے دوران گائے اسمگل کرنے یا گائے کا گوشت کھانے کے شبے میں ہندو انتہا پسندوں کے حملوں کے واقعات میں 10 مسلمان مارے جاچکے ہیں۔

2015 میں بھی ایک مسلمان شخص کو اس کے پڑوسیوں نے اس شبے میں قتل کردیا تھا کہ اس نے گائے کو ذبح کیا ہے تاہم بعد ازاں پولیس کا کہنا تھا کہ مقتول کے گھر سے برآمد ہونے والا گوشت بکرے کا ہے۔

ناقدین کے مطابق 2014 کے انتخابات میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور نریندر مودی کی وجہ سے ان انتہاپسند افراد کو زیادہ حوصلہ ملا۔

گذشتہ سال بھی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے گائے کی حفاظت کرنے والے افراد پر تنقید کرتے ہوئے ان افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا جو مذہب کا استعمال کرکے جرم کررہے ہیں۔

علاوہ ازیں گذشتہ ماہ بھارتی وزیراعظم کی جانب سے ملک کی سب سے زائد آبادی والی ریاست اترپردیش کے لیے وزیر اعلیٰ کیلئے دائیں بازو کے ہندو پجاری کی تقرری کی تھی جس نے صورتحال مزید گھمبیر کر دی ہے۔

یو پی کے نئے سربراہ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد پولیس نے قصاب کی دکانوں کو بند کیے جانے کے سلسلے کا آغاز ہوا جس کے بعد اتر پردیش میں گائے کی فروخت پر پابندی عائد ہے۔