سی ایس ایس 2017 کے پرچوں میں موجود بڑی غلطیاں

اپ ڈیٹ 12 اپريل 2017

ای میل

کسی بھی امتحان میں اگر سیلیکشن کا طریقہ خراب ہو تو ایک بہتر امیدوار کی شناخت ممکن نہیں ہو پائے گی۔ سول سروس کی اہمیت کو نظر میں رکھتے ہوئے میں نے سی ایس ایس کے حالیہ تحریری امتحانات کا جائزہ لیا، جس میں دانشورانہ نااہلی اور خراب معیار جیسے سنجیدہ مسائل پائے گئے۔

2015 اور 2016 کے امتحانی پرچوں میں دیے گئے سوالات کا جائزہ لیا گیا جن کی اسکین شدہ نقول فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کی ویب سائٹ پر دستاب ہیں۔ مندرجہ ذیل سوالات ایمانداری کے ساتھ ہجے (اسپیلنگ)، کیپیٹلائزیشن، اوقاف (پنکچوئیشن) یا گرامر کی غلطیوں کو ٹھیک کیے بغیر پیش کیے جا رہے ہیں جنہیں کوئی بھی محتاط قاری باآسانی پکڑ سکتا ہے۔

پڑھیے: سی ایس ایس میں انگلش 'لازمی' ہے ہی کیوں؟

پرچے میں زیادہ جگہ نہ ہونے کی وجہ سے سوالات واضح طور پر پیش نہیں کیے گئے جس کی وجہ سے سوالات جہاں پڑھنے والوں کے لیے لطف کا باعث بنے وہاں انہیں مسائل میں بھی گھیر دیا۔ چند سوالوں نے امیدواروں کو الجھا دیا اور چند سوالوں نے انہیں اپنے طور پر سمجھنے پر مجبور کر دیا جو کہ فیل ہونے کا رسک اپنے سر لینے کے برابر ہے۔

آئیے کم سنجیدہ غلطیوں اور چھوٹے مسائل والے سوالات سے شروعات کرتے ہیں، لازمی انگلش پریسی اور کمپوزیشن کے پرچے سے ایک سوال امیدواروں سے مندرجہ ذیل جملہ درست کرنے کو کہتا ہے:

برٹش ہسٹری کے پیپر سے ایک سوال ہے، "مارگریٹ تھیچر کو انگلینڈ میں جنگ کے بعد کی سب سے بہترین وزیر اعظم سمجھا جاتا ہے۔ تبصرہ کریں." اس میں برطانوی وزیرِ اعظم مارگریٹ تھیچر کے نام کے ہجے غلط ہیں۔

تاریخ پاک و ہند کے پرچے میں آنے والا ایک سوال "سیاسی جماعتیں پاکستان میں مارشل لاء کی ذمہ دار ہیں۔ تبصرہ کریں۔" اس میں 'مارشل' کے ہجے غلط ہیں۔

اکنامکس کے پرچے میں سوال "پاکستان کے خصوصی تناظر میں روسٹو کے اسٹیج آف گروتھ پر تبصرہ کریں." میں 'اسٹیجز' ہونا چاہیے تھا۔

بین الاقوامی تعلقات کے پرچے میں دو سوالات آئے کہ: "یونان اقتصادی بحران" (یونانی ہونا چاہیے تھا) کے بنیادی عناصر پر تبصرہ کریں، جس کے لیے یورپی یونین اور آئی ایم ایف سے قرضہ معافی کی صورت میں بھاری مالی مدد درکار ہے، تاکہ معیشت کو سانس لینے کا "تھوڑا موقع" مل سکے اور بحران زدہ ملک کے لیے ایک بالکل نیا حل سمجھائیں (حل سمجھایا نہیں پیش کیا جاتا ہے۔)

اور، "پاک افغان تعلقات" (کی بہتری میں ہونا چاہیے تھا) میں حائل اہم سیاسی، سماجی و اقتصادی اور اسٹریٹجک رکاوٹوں کا تنقیدی جائزہ بیان کریں اور کس طرح دونوں ملک سرد جنگ کے منظر نامے سے باہر نکل سکتے ہیں؟

Comparitive Studies of Major Religions [کمپیریٹو کی اسپیلنگ غلط ہے] کے پرچے میں دو سوال کچھ یوں پوچھے گئے کہ، بدھ مت کی کامیابی اور اس کے ہندومت پر ہونے والے اثرات کا راز کیا تھا؟ تبصرہ کریں۔

ہندومت کے عظیم مبلغ "شری رام چندر جی" کی سوانح حیات اور تعلیمات سے معاشرے پر پڑنے والے اثرات کی وضاحت کریں۔ (شری رام چندر جی کے نام میں کیپٹلائزیشن کی غلطی ہے۔)

پڑھیے: کیا سی ایس ایس صرف 'تابعداری' کا امتحان ہے؟

سوشیالوجی (عمرانیات) کے پرچے میں دو سوال آئے کہ،

نوجوان نسل کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتا ہے مگر پاکستانی نوجوانوں کا رجحان یوتھ بلج (ملکی آبادی میں نوجوانوں کے زیادہ تناسب کی طرف ہے۔ آپ ایک ماہر کے طور پر نوجوانوں کو مثبت راہ پر گامزن کرنے کے لیے ریاست کو کیا تجاویز دیتے ہیں؟ اپنی تجاویز سوشولوجیکل تھیوریز یا عمرانی نظریات کی روشنی میں دیجیے۔)

اور ایک سماج کے لیے سماجی طبقہ بندی ایک ناگزیر کیوں ہے؟ (an اضافی ہے) اس کے اہم نکات کو پاکستانی معاشرے کے تناظر میں تفصیل سے بیان کریں۔

چند سوالات کا تو مضمون سے ہی کوئی تعلق نہیں تھا۔ اینتھروپولوجی (بشریات) کے پرچے میں سوال ہے کہ، موجودہ دور میں پاکستان کے اہم سماجی مسائل کون سے ہیں؟

چند میں بامعنی تفصیل ہی موجود نہیں تھی۔ انگریزی ادب کے پرچے میں سوال آیا کہ، "تحائف کے تبادلے کے بعد کیا ڈیلا اور جم پہلے سے زیادہ امیر ہیں، غریب ہیں، یا صرف ذرا سے بہتر ہیں۔ کیا انہوں نے اپنی سب سے قیمتی اشیاء کی قربانی دے کر عقلمندانہ فیصلہ کیا ہے؟"

چند سوالوں میں بے ترتیبی نظر آئی جس وجہ سے سوال کو ٹھیک طرح سمجھنے میں دشواری میں مشکل پیدا ہوئی۔ جنرل نالیج کے اس سوال پر غور کریں، "جناح نے مارچ 1940 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کے موقعے پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ، "ہندوستان میں مسئلہ بین الصوبائی نوعیت کا نہیں بلکہ واضح طور پر بین الاقوامی ہے، اور اسے اسی تناظر میں حل ہونا چاہیے۔"اس بیان کی روشنی میں دو قومی نظریہ اور مارچ 1940 کی لاہور قرارداد پر نوٹ لکھیں۔"

گورننس اینڈ پبلک پالیسی کے پرچے میں سوال تھا کہ،

کیا آپ پالیسی سازی کے مرحلے میں عوامی رائے سے حاصل معلومات کی شمولیت کی حمایت کرتے ہیں؟ پالیسی ایڈووکیسی کے تناظر میں درست جواز کے ساتھ اپنا جواب ثابت کریں۔

پڑھیے: مِس امپورٹنٹ سوال بتا دیں!

زیادہ مسئلے کا باعث وہ سوالات ہیں جو امیدواروں کو اپنی رائے کے مطابق جواب دینے کے بجائے صرف ایک ہی جواب دینے کا موقعہ فراہم کرتے ہیں۔ جنرل نالیج کے پرچے میں شامل اس سوال کو ہی لیجیے، "پاک چین اقتصادی راہداری" کی تعمیر کے امکانات اور چیلنجز کا جائزہ پیش کریں۔ سی پیک کس طرح خطے کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا؟"

اسلامک ہسٹری اینڈ کلچر یا اسلامی تاریخ و تہذیب کے پرچے میں سوال تھا،

پوری تاریخ کے دوران مسلمان حاکموں کی پالیسی "انصاف کی فراہمی" رہی ہے۔ وضاحت کریں۔

دیگر یک طرفہ سوالات میں بھی سوال کے دوسرے حصے کی وجہ سے ابہام پیدا ہو جاتا ہے۔ اسلامیات کے پرچے میں سوال آیا، زکوٰۃ کی کی اہمیت کو واضح کریں اور ثابت کریں کہ اس پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کے ذریعے معاشرے میں معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔"

چند سوالات ایسے کئی مسائل کو آپس میں ملا دیتے ہیں، اسلامک ہسٹری اینڈ کلچر کے پرچے میں سوال آتا ہے کہ، ہسپانوی مسلمانوں نے اس علم کی بنیاد ڈالی جو آگے چل کر یورپ میں ترقی کا سنگ میل ثابت ہوا۔ وضاحت کریں۔

اور یہ بھی سوال آتا ہے کہ، "پاکستان میں مسلم ثقافت پر یورپی اور ہندو ثقافت غالب آ رہی ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ ہمیں نشاۃ ثانیہ اور اصلاح کی ضرورت ہے؟ وضاحت کریں۔"

پولیٹیکل سائنس یا سیاسیات کے پرچے میں سوال آیا، "ترک سیاست میں مسلح افواج کی ممتاز حیثیت ("مد نظر" غائب ہے جو سوال میں ابہام کا باعث بنتا ہے) رکھتے ہوئے ترک جمہوریت کے خدو خال پیش کریں۔"

پبلک ایڈمنسٹریشن کے پرچے میں سوال ہے: "آئین بنانا آئین چلانے (آئین چلانے؟) سے زیادہ مشکل کام ہے۔ اس پر سیاست اور انتظامیہ کے درمیان خلیج کی روشنی میں بحث کریں۔

بین الاقوامی تعلقات کے پرچے میں سوال ہے، "پاکستان کے جوہری پروگرام کی "اخلاقی جہتیں" بیان کریں۔ اس کی اہم خصوصیات کی وضاحت پیش کریں اور اس کی جارحانہ روش کو درست ثابت کریں جس نے قومی اور علاقائی اسٹریٹجک توازن کو قائم رکھا۔"

سوالوں سے یہ مسائل عیاں ہیں: سوالوں میں انگریزی زبان پر دسترس نظر نہیں آتی اور لگتا ہے جیسے سوالات کو اردو میں سوچتے ہوئے تحریر کیا جا رہا ہے۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ امیدواروں کو ایسی زبان میں جوابات لکھنے کا کہا جاتا ہے جس پر خود ممتحن کو ہی بہتر دسترس حاصل نہیں۔

پڑھیے: سی ایس ایس کا فرسودہ امتحانی نظام

حقیقت یہ ہے کہ پرچوں میں غلط، نامکمل اور بے ترتیب سوالات پوچھے گئے۔ سب سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ صرف ایک درست جواب والے سوالات زیادہ پوچھے گئے جن میں عقائد کو سائنسی بنیادوں پر ثابت کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔

آسکر وائلڈ نے کیا خوب کہا تھا کہ، "امتحانوں میں احمق سوال پوچھیں تو عقلمند جواب نہیں دے پاتے۔" اس قسم کے امتحان میں یقینی طور پر کند ذہن اور خوفزدہ افراد — وہ جو درست جوابات کو رٹ لیتے ہیں، ذہن کے دروازے بند رکھتے ہیں، اور خوشامد بھری تحریر لکھتے ہیں— معقول اور ذہین افراد پر سبقت لے جاتے ہیں۔

امیدواروں کی جانچ کرنے کے لیے قائم نظام امتحان لینے والوں سے زیادہ دانا امیدواروں کا پتہ نہیں لگا سکتا۔ یوں سول سروس کی مشکل عیاں ہو جاتی ہے جس میں ہر بیچ اپنی گزشتہ بیچ سے کمزور ہے۔ آگے بڑھنے والے معاشروں میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔

اور ذرا سوچیے ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں کے لیے ہونے والے امتحان کی یہ صورتحال ہے تو چھوٹے عہدوں کی ٹیسٹنگ کی کیا حالت ہوگی جو کسی قسم کے جائزے سے رہ جاتے ہیں۔

یہ مضمون 11 اپریل 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔