پاناما کیس: 'حکومت نے خاموش رہنے کیلئے 10 ارب روپے کی پیشکش کی'

اپ ڈیٹ 26 اپريل 2017

ای میل

پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے جیسے ہی سپریم کورٹ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل کا حکم دیا، اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے جے آئی ٹی پر اعتراض اور وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ زور پکڑتا گیا۔

اس سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سب سے پیش پیش ہے تاہم گذشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے کیا گیا ایک 'انکشاف' خصوصی اہمیت اختیار کرگیا۔

گذشتہ روز (25 اپریل) کو پشاور میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے دعویٰ کیا کہ انہیں وزیراعظم نواز شریف نے پاناما پیپر لیکس کے معاملے پر خاموشی اختیار کرنے کے عوض 10 ارب روپے کی پیشکش کی تھی۔

عمران خان کے فیس بک اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی اس ویڈیو میں عمران خان کو کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ جے آئی ٹی کے معاملے پر 'اگر ہم چپ کرکے بیٹھ جائیں تو وزیراعظم نواز شریف کے پاس بہت وسائل ہیں'۔

عمران خان کا مزید کہنا ہے کہ 'ہمیں اس بات کا خطرہ ہے کہ تحقیقات کرنے والے سارے ادارے ان کے ماتحت ہیں'۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق 'اب وزیراعظم اس معاملے سے نکل نہیں سکتے تاہم اگر ہم چپ کرکے بیٹھ جائیں تو ان کے پاس بہت وسائل ہیں، جب مجھے چپ کرنے کے لیے 10 ارب روپے آفر کرسکتے ہیں تو یہ اداروں کو کتنا آفر کرسکتے ہیں؟'۔

یہ بھی پڑھیں: پاناما لیکس جے آئی ٹی: 'فوج شفاف، قانونی کردار ادا کرے گی'

انہوں نے کہا 'اس لیے ہم عوامی دباؤ قائم رکھیں گے، اب صرف 2 مہینے کی بات ہے، جمعے (28 اپریل) سے عوامی دباؤ کے سلسلے کا آغاز ہوگا اور ہم بھرپور شو کریں گے'۔

'عمران خان آفر کرنے والے کا نام بتائیں'

وزیر قانون پنجاب نے رانا ثناءاللہ عمران خان کے دعوے پر انہیں 'الزام خان' پکارتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ الزام صرف اس لیے دھرا ہے تاکہ ان معاملات سے ملوث تمام افراد میرٹ اور سچائی پر بات کرنے سے پہلے دباؤ کا شکار ہوجائیں کہ اگر میں شریف کاندان یا پاکستان مسلم لیگ (ن) سے متعلق بات کروں گا تو مجھ پر پیسے لینے کا الزام لگ جائے۔

پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں عمران خان، شیخ رشید، سراج الحق پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) 'ان افراد پر لعنت بھیج سکتی ہے روپیہ نہیں دے سکتی'۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ 'عمران خان اس الزام کی وضاحت کریں اور نام بتائیں کہ کون ان کے پاس یہ پیش کش لے کر آیا تھا'۔

رانا ثناءاللہ نے اس معاملے پر چیف جسٹس آف پاکستان سے ازخود نوٹس لینے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ 'عمران خان کو طلب کریں اور ان سے پوچھا جائے کہ کون ان کے پاس یہ پیش کش لے کر آیا تھا، اس کی تحقیقات کی جائے اور اگر کوئی ملوث ہے تو اسے قرار واقع سزا دی جائے لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو عمران خان کی جانب سے مسلسل لگائے جانے والے الزامات کا کوئی بندوبست ہونا چاہیئے'۔

مریم نواز نے دعویٰ مسترد کردیا

عمران خان کے مذکورہ بیان کی ویڈیو سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے بھی اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا اور عمران خان کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے انہیں 'جھوٹا' قرار دیا۔

خیال رہے کہ رواں ماہ 20 اپریل کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کے تاریخی فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا حکم دیا تھا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے کورٹ روم نمبر 1 میں پاناما لیکس کے معاملے پر آئینی درخواستوں کا فیصلہ سنایا جسے رواں سال 23 فروری کو محفوظ کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: پاناما کیس: سپریم کورٹ کا جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ

فیصلے کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے سینئر ڈائریکٹر کی سربراہی میں 7 دن کے اندر جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی جو 2 ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی، جبکہ جے آئی ٹی کو ہر 2 ہفتے بعد سپریم کورٹ کے بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ جے آئی ٹی میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، قومی احتساب بیورو (نیب)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کا نمائندہ شامل کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: پاناما لیکس کیس: جے آئی ٹی کی عالمی اداروں تک رسائی نہیں

تاہم پاناما کیس کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں نے نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ کردیا جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس حوالے سے باقاعدہ مہم کا بھی آغاز کردیا گیا، جس میں پیپلز پارٹی نے پہلے مرحلے میں سندھ میں احتجاج کیا جبکہ دوسرے مرحلے میں پنجاب سمیت ملک کے دیگر حصوں میں مظاہرے کیے جائیں گے، پاکستان تحریک انصاف بھی جمعہ (28 اپریل) کے روز جلسے کا اعلان کرچکی ہے۔

دوسری جانب رواں ہفتے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کور کمانڈرز اجلاس میں بھی اس عزم کا اظہار کیا گیا تھا کہ فوج اپنے ارکان کے ذریعے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما لیکس کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) میں شفاف اور قانونی طریقے سے کردار ادا کرے گی۔