بھارت: ڈکیتی کے دوران 4 خواتین کا ’گینگ ریپ‘

اپ ڈیٹ 25 مئ 2017

ای میل

بھارت کے علاقے گریٹر نوئیڈا میں جیوار-بلند شیر ہائی وے پر کچھ مسلح افراد نے ایک گاڑی پر حملہ کرکے ڈکیتی کے دوران 4 خواتین کو مبینہ گینگ ریپ کا نشانہ بنایا جبکہ مزاحمت پر ایک شخص کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاندان اپنے ایک عزیز کی عیادت کے لیے ہسپتال جارہا تھا۔

پولیس نے بتایا کہ ملزمان نے مذکورہ خاندان کے افراد کو اسلحے کے زور پر کار میں محصور کیا جبکہ کار میں سے خواتین کو نکالا اور ان کا مبینہ گینگ ریپ کیا تاہم اس کی میڈیکل تصدیق ہونا باقی ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت: چلتی کار میں 22 سالہ خاتون کا گینگ ریپ

این ڈی ٹی وی کے مطابق متاثرہ خاندان نے گاڑی راستے میں سڑک پر موجود کسی چیز کے ٹکرانے کے بعد روکی تھی، گاڑی میں خاندان کے 8 افراد سوار تھے، جن میں 4 مرد اور 4 خواتین شامل تھیں۔

پولیس نے بتایا کہ ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر خاندان کے ایک مرد کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔

دوسری جانب ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ملزمان کی تعداد 6 سے 7 تھی، جنھوں نے اسلحہ کے زور پر خاندان کے افراد سے ان کے موبائل فون، نقدی اور جواہرات چھین لیے۔

اس کے بعد ملزمان خواتین کو کار سے کچھ دور لے گئے اور انھیں مبینہ گینگ ریپ کا نشانہ بنایا، انھیں روکنے کے لیے ایک مرد نے مزاحمت کی جسے ٹانگ اور سینے پر گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان واقعے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، واقعے کے بعد پولیس جائے وقوع پر پہنچی اور تفیش کا آغاز کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: ہندوستان: کم عمرلڑکی کاگینگ ریپ، 6افراد گرفتار

خیال رہے کہ گذشتہ روز 9 مئی سے لاپتہ ایک 23 سالہ خاتون کی لاش ملی تھی جسے گینگ ریپ کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ جمہوریت کے دعویدار بھارت میں خواتین کا تحفظ تاحال ایک مسئلہ ہے جہاں 16 دسمبر 2012 کو نئی دہلی میں ایک طالبہ کو چلتی بس میں گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا، بعد ازاں کئی روز تک ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد وہ دم توڑ گئی تھی۔