کوہستان اسکینڈل کیس: مدعی پر 3 بچوں کو جلاکر قتل کرنے کا الزام

اپ ڈیٹ 06 جون 2017

ای میل

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں نامعلوم افراد نے ایک مکان کو نذر آتش کردیا جس کے نتیجے میں دو نومولود سمیت 3 بچے جل کر ہلاک ہوگئے۔

متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او نے ڈان کو بتایا کہ ’واقعے نے کوہستان ویڈیو اسکینڈل کیس کو نیا رخ دیا ہے، واقعے کے حوالے سے مکان کے مالک نے دعویٰ کیا ہے کہ گادر پالاس میں اس کے مکان کو آگ افضل کوہستانی اور اس کے 3 بھائیوں نے لگائی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ واقعے میں 15 ماہ کی حسینہ، 9 ماہ کی عاصمہ اور 3 سال کا عارف جل گئے جبکہ صرف حسینہ کی لاش برآمد ہوئی ہے تاہم دیگر بچوں کی لاشیں نہیں مل سکیں۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ واقعہ بظاہر کوہستان ویڈیو اسکینڈل کیس کا بدلہ معلوم ہوتا ہے۔

مزید پرھیں: نادرا کو کوہستانی لڑکیوں کی شناخت کی ہدایت

تباہ حال مکان کے مالک محمد شریف نے ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا کہ افضل کوہستانی اور اس کے تین بھائی رات میں آئے اور مکان کو آگ لگا کر فرار ہوگئے۔

دوسری جانب افضل کوہستانی نے ڈان سے واٹس اپ کے ذریعے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے یہ جرم نہیں کیا اور یہ ان کے خلاف مخالفین کی سازش ہے۔

افضل کوہستانی کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے انسانوں کو نہیں مارا اور کوہستان میں ہمارا داخلہ منع ہے، میرے بھائیوں اور لڑکیوں کے قتل کیس کو واپس لینے کیلئے مخالفین مجھ کو بلیک میل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، میں عدالت میں اس کیس کا دفاع کررہا ہوں تو قانون کو ہاتھ میں کیوں لینا چاہوں گا‘۔

انھوں نے ایک ویڈیو کے ذریعے حکومت سے خود کو اور ان کے اہل خانہ کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مخالفین میرے دیگر بھائیوں کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کوہستان ویڈیو کیس: سپریم کورٹ کا مزید تحقیقات کا حکم

پولیس نے بچوں کی ہلاکت سے متعلق ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

واضح رہے کہ محمد شریف پر کوہستان ویڈیو اسکینڈل میں نظر آنے والی لڑکیوں اور لڑکوں کو قتل کرنے کا الزام ہے۔

یاد رہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان کے ایک نوجوان نے 2012 میں میڈیا پر آکر یہ الزام عائد کیا تھا کہ ان کے 2 چھوٹے بھائیوں نے شادی کی ایک تقریب کے دوران رقص کیا، جس پر وہاں موجود خواتین نے تالیاں بجائیں۔

تقریب کے دوران موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیو بعد میں مقامی افراد کے ہاتھ لگ گئی، جس پر مقامی جرگے نے ویڈیو میں نظر آنے والی پانچوں لڑکیوں کے قتل کا حکم جاری کیا جبکہ بعد ازاں ان لڑکیوں کے قتل کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

قبائلی افراد کی جانب سے ویڈیو میں موجود لڑکوں اور لڑکیوں کو قتل کرنے کے احکامات جاری ہونے کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد اپیکس کورٹ نے 2012 میں معاملے پر ازخود نوٹس لیا تھا۔

تاہم وفاقی اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے اس واقعے کی تردید کی، بعد ازاں سپریم کورٹ کے حکم پر کوہستان جانے والی ٹیم کے ارکان نے بھی لڑکیوں کے زندہ ہونے کی تصدیق کردی تھی۔

مزید پڑھیں: کوہستان ویڈیو کیس: 'لڑکیاں زندہ نہیں یا پھر لاپتہ ہیں'

گذشتہ سال اکتوبر میں سپریم کورٹ میں زیر سماعت کوہستان ویڈیو اسکینڈل کے معاملے پر سماجی رضاکار فرزانہ باری نے بھی لڑکیوں کے قتل سے متعلق شواہد پر مبنی دستاویزات اور ویڈیو عدالت میں جمع کرائی تھیں، جس کے مطابق جو لڑکیاں کمیشن کے سامنے پیش کی گئیں تھیں وہ ویڈیو میں نہیں تھیں۔

ویڈیو میں دکھائی دینے والے لڑکوں میں سے ایک لڑکے کے بھائی محمد افضل کوہستانی نے قتل سے قبل بذریعہ میڈیا اپنے بھائی کی جان بچانے کی درخواست بھی کی تھی۔