پشاور: مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے مقتول طالب علم مشعال خان کے والد محمد اقبال خان نے اپنے بیٹے کے کیس کو مردان سے منتقل کرنے کے لیے درخواست پشاور ہائی کورٹ میں جمع کرادی۔

محمد اقبال خان کے وکیل عبدالطیف آفریدی نے پشاور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں امن و امان کی صورتحال اور علاقے میں ملزمان کے اثر و رسوخ کو بنیاد بناتے ہوئے کیس کو مردان سے منتقل کرنے کی استدعا کی۔

انہوں نے درخواست میں موقف اختیا کیا کہ مردان یونیورسٹی میں مشعال خان کے ہولناک قتل کے بعد اسی علاقے میں یہ کیس چلانا علاقے کی امن و امان کی صورتحال کو خراب کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: مشعال خان قتل کیس مردان سے باہر منتقل کرنے کا مطالبہ

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملزمان کے دوستوں کی بڑی تعداد اور چند مذہبی جماعتیں گرفتار طالب علموں اور دیگر ملزمان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔

درخواست میں کہا گیا کہ تقریباً 57 ملزمان کو مشعال خان کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے جبکہ کچھ ملزمان مفرور ہیں لہٰذا کیس میں ملزمان کی اتنی بڑی تعداد اور دونوں جانب سے گواہان اور حامیوں کی وجہ سے محاذ آرائی ہوسکتی ہے اور علاقہ امن و امان کی صورتحال سے دوچار ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مشعال خان کے قتل پر حیرانی کیوں ہو؟

درخواست میں مشعال خان کے والد کے حوالے سے بتایا گیا کہ درخواست گزار ایک متوسط طبقے کے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں سیکیورٹی کے حوالے سے مسائل کا سامنا ہے اور چونکہ ملزمان با اثر افراد ہیں لہٰذا انہیں ملزمان کے گھر والوں اور حامیوں کی جانب سے خدشات سامنا ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ اس کیس کی تحقیقات مکمل ہیں اور انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) کے جج کے سامنے ٹرائل کے لیے پیش ہونا ہے جبکہ کیس میں درجنوں افراد کی ضمانتیں بھی عدالت میں جمع کرائی جاچکی ہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ محمد اقبال خان اس کیس کو مردان میں جاری رکھنے کی حالت میں نہیں ہیں، لہٰذا ہائی کورٹ سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اسے ہری پور کی اے ٹی سی یا پھر کسی دوسری محفوظ جگہ منتقل کرے۔

واضح رہے کہ رواں برس اپریل میں صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں واقع عبدالولی خان یونیورسٹی میں دیگر طلبہ کے تشدد سے 23 سالہ طالب علم مشعال خان ہلاک جبکہ ایک طالب علم زخمی ہوگیا تھا۔

ایک اور خبر پڑھیں: 'مشعال خان کا قتل منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا'

مشعال خان پر الزام تھا کہ اس نے فیس بک پر ایک پیج بنا رکھا تھا، جہاں وہ توہین آمیز پوسٹس شیئر کیا کرتا تھا اور اسی الزام کے تحت مشتعل طلبہ کے ایک گروپ نے مذکورہ طالب علم پر تشدد کیا تھا جس سے وہ ہلاک ہوگیا تھا۔

تاہم چند روز قبل پیش کی جانے والی جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشعال خان کا قتل باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پی ایس ایف کے صدر صابر مایار اور یونیورسٹی ملازم نے واقعہ سے ایک ماہ قبل مشعال کو قتل کرنے کی بات کی تھی، مزید کہا گیا کہ مخصوص سیاسی گروہ کو مشعال کی سرگرمیوں سے خطرہ تھا۔