بنگلہ دیش: شدید بارشوں سے 134 افراد ہلاک

شائع June 13, 2017
بنگلہ دیش کے جنوبی علاقوں میں کئی مکانات تباہ ہوگئے—فوٹو: اے پی
بنگلہ دیش کے جنوبی علاقوں میں کئی مکانات تباہ ہوگئے—فوٹو: اے پی

بنگلہ دیش میں شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ سے کم از کم 134 افراد ہلاک اور کئی گھر تباہ ہوگئے۔

پولیس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بنگلہ دیش کے جنوبی علاقوں میں ہونے والی بارش سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے تاہم امدادی کارکن چٹاگانگ کے دوردراز علاقوں میں پہنچ گئے ہیں جہاں پر ٹیلی فون اور ذرائع آمد ورفت کا سلسلہ منقطع ہوگیا ہے۔

اے ایف پی سےبات کرتے ہوئے شدید متاثرہ علاقے ضلع رنگاماتی کے حکومتی منتظم مزمل منان نے کہا کہ صرف اس پہاڑی علاقے میں 98 کے قریب افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔

مزمل منان نے کہا کہ 'ہلاکتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے'۔

حکام کا کہنا ہے کہ چٹاگانگ اور قریبی علاقوں میں 30 افراد جبکہ بندرابن میں 6 افراد ہلاک ہوئے جن میں تین بچے بھی شامل ہیں جبکہ 15 افراد لاپتہ ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ سیلاب یا کیچڑ میں دب گئے ہیں۔

بھارت کی سرحد سے ملحق بنگلہ دیش کا ایک پسماندہ ضلع رنگاماتی جو بارش سے شدید متاثر ہوا ہے جہاں سیلاب سے کئی گھر تباہ ہوچکے ہیں۔

مقامی خاتون نے میڈیا کو بتایا کہ 'چند خاندانوں نے ایک گھر میں پناہ لیا ہوا تھا تاہم صبح ہوتے ہی پہاڑ کا ایک حصہ اس گھر پر آگرا اور چھ افراد تاحال لاپتہ ہیں'۔

ضلعی پولیس سربراہ سید طارق الحسن کا کہنا تھا کہہ سیلاب کےاکثر ریلے صبح سویرے آئے اور اس وقت 'کئی افراد اپنے گھروں میں سو رہے تھے کہ لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجےمیں ان کے گھروں پر پہاڑ آگرے'۔

پولیس اور مقامی انتظامیہ نےچٹاگانگ کے قریبی پہاڑی علاقے کے لوگوں کو فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کا حکم جاری کردیا ہے جہاں 30 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جاچکی ہے۔

ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اور ریلیف کے وزیر مفضل حسین چوہدری مایا کا کہنا تھا کہ حکام نے شدید بارش سے متاثرہ پہاڑی علاقے میں 18 کیمپ قائم کر دیے ہیں جہاں 4 ہزار 500 افراد موجود ہیں۔

خیال رہے اسی ضلعےمیں دس برس قبل شدید بارش اور لینڈ سلائیڈ کے نتیجے میں 126 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

کارٹون

کارٹون : 8 فروری 2026
کارٹون : 7 فروری 2026