کارڈف میں سری لنکا کے خلاف جب پاکستانی بیٹنگ لائن پروفیسر کے ہاتھوں تباہی کی جانب گامزن تھی، تب میرے کزن نے مجھے میسج کیا، "حفیظ آخر کیوں اب تک ٹیم میں ہیں؟" پچ کے عین درمیان میں پڑنے والی تین گیندوں پر صفر رنز، اور پھر ایک آسان سی وکٹ۔ حفیظ کے مخصوص انداز میں کریز پر گزارے گئے چھے منٹوں میں ایک واحد رن۔

میں کوشش کرتا ہوں کہ اپنے کزن کو جواب نہ دوں۔ میں نے حفیظ کی سلیکشن کی اتنے سالوں تک حمایت کی ہے کہ اب میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا۔ حفیظ اس وقت دنیا کے دوسرے بہترین آل راؤنڈر ہیں۔

جی ہاں۔ حفیظ بین اسٹوکس سے بہتر آل راؤنڈر ہیں۔ آئی سی سی رینکنگ میں ان کی رینکنگ اینجلو میتھیوز سے بہتر ہے اور وہ رویندرا جدیجا سے پانچ نمبر اوپر ہیں۔

ضرور یا تو آئی سی سی کے حساب کتاب میں کچھ غلط ہے، اور/یا پاکستانی عوام کے ساتھ کچھ مسئلہ ہے جو حفیظ کو بالکل بھی ٹیم میں نہیں دیکھنا چاہتے۔ ٹاپ ٹین آل راؤنڈرز میں سے باقی نو آل راؤنڈرز کو ملک میں ہیرو مانا جاتا ہے، جبکہ حفیظ سے سب نالاں ہیں۔

کیا اس کے پیچھے کوئی ٹھوس وجہ ہے؟

میرے بھائی میرے کزن کو جواب دیتے ہیں، "ہمیں حفیظ کی باؤلنگ کی ضرورت ہے جو عام طور پر کافی اچھی ہوتی ہے۔ وہ نیچے بیٹنگ کرنے سے انکاری ہیں۔ یہ مسئلہ طویل عرصے سے ہے۔ وہ اب بھی اوپننگ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اسے کئی ناکام اننگز کے بعد نمبر تین پر بھیج دیا، اور نمبر تین پر کئی ناکام اننگز کے بعد نمبر چار پر۔ اس طرح تو وہ 2020 تک نمبر چھے پر پہنچ جائیں گے۔"

میں اس تبصرے کے پیچھے موجود حقیقت پر ہنستا ہوں، کراہت اور بے زاری سے۔ پاکستان 236 رنز کے ایک عام سے ہدف کا تعاقب کرنے میں بھی ناکام رہا۔

اب مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا۔ میں جواب دیتا ہوں، "آپ تمام باؤلنگ آل راؤنڈرز سے ہمیشہ ٹاپ آرڈر میں بیٹنگ کرنے کی توقع نہیں کر سکتے۔" پاکستان بیٹنگ آل راؤنڈر کے مغالطے میں ایک عرصے سے پھنسا ہوا ہے اور اب بھی اپنا توازن درست رکھنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔

پاکستان صرف تین اسپیشلسٹ بیٹسمین اظہر، فخر اور بابر کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ حفیظ، ملک، سرفراز، عماد، فہیم، عامر، حسن اور جنید دیگر آٹھ کھلاڑی ہیں۔ میرا اصرار ہے کہ ہمیں مزید اسپیشلسٹ بیٹسمین چاہیئں۔

حارث سہیل باہر کیوں بٹھائے گئے ہیں؟ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کی اوسط 52.01 ہے جبکہ ون ڈے انٹرنیشنل میں 43.00۔ اس کے مقابلے میں حفیظ کی اوسط 34.91 اور 32.69، ملک کی 37.09 اور 35.35، اور عماد کی 41.59 اور 35.00 ہے۔

عماد اور حفیظ 4.63 اور4.13 کے حیران کن اکانومی ریٹ کے ساتھ باؤلنگ کرواتے ہیں۔ اس دور میں یہ نمبرز جوئل گارنر کے دور کے جیسے ہیں۔

عماد آرڈر میں کہیں نیچے 100.26 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ کھیلتے ہیں جبکہ حفیظ اتنا اوپر ہونے کے باوجود صرف 75.21 کا پریشان کن اسٹرائیک ریٹ رکھتے ہیں، جیسے کہ وہ جوئل گارنر کے دور میں کھیل رہے ہوں۔

اب تک پاکستان چھے وکٹوں کے نقصان پر 137 رنز بنا چکا ہے، اور عماد وسیم پویلین واپس لوٹ رہے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ افراد کی بات نہیں ہے۔ ٹیمیں کامبی نیشن اور بیلنس کی بنیاد پر بنتی ہیں۔ موزوں بیٹسمینوں کو ٹاپ آرڈر میں کھلائیں، اور حفیظ یا عماد کو آل راؤنڈر کے خانے میں کھلائیں۔ مجھے غصہ آ رہا ہے۔

80 معجزاتی منٹوں، پاکستانی بیٹنگ اور ناکام سری لنکن فیلڈنگ کے بعد پاکستان بالآخر فنش لائن پار کر لیتا ہے اور سیمی فائنل میں پہنچ جاتا ہے۔

ہماری بحث جشن کی وجہ سے رک جاتی ہے۔

میرے سسر سیمی فائنل سے قبل کہتے ہیں، "انہیں شاداب کو کھلانا چاہیے، انگلینڈ اسپن نہیں کھیل سکتا اور شاداب وکٹ لیتا ہے۔" میں پوچھتا ہوں، "مگر پھر ڈراپ کسے کیا جائے گا؟" وہ عماد کا نام تجویز کرتے ہیں۔

شاداب ایک اچھا انتخاب ہو سکتے ہیں مگر عماد کو ڈراپ کرنے پر پہلے سے کمزور پاکستانی بیٹنگ لائن مزید کمزور ہوجائے گی، یہ میری دلیل ہے۔

انگلینڈ کے خلاف ٹیم کا اعلان ہوتا ہے۔

عامر ان فٹ ہیں، ان کی جگہ نئے آنے والے رومان رئیس نے لی ہے۔ شاداب فہیم اشرف کی جگہ لے لیتے ہیں۔

فہیم؟ وہ 23 سالہ لڑکا جس نے ملنگا کو گراؤنڈ سے باہر بھیج کر پاکستان کو سری لنکا کے خلاف دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کیا تھا؟ وہی نیا آنے والا جس نے 37 رنز دے کر دو وکٹیں لیں؟ جس نے بنگلہ دیش کے خلاف وارم اپ میچ میں 342 کا تعاقب کیا؟ پہلے میچ میں رن آؤٹ ہونے اور پھر اگلے میچ میں ڈراپ ہونے پر بچے کے اعتماد کو ضرور ٹھیس پہنچی ہوگی۔

خیر، یہ سب تو کھیل کا حصہ ہے۔ میں نے سوچا کہ پاکستان نے شاید اب اپنی بیسٹ الیون کا انتخاب کر لیا ہے۔

اور اس بیسٹ الیون نے بیسٹ کارکردگی دکھاتے ہوئے صرف 37.1 اوورز میں انگلینڈ کو آٹھ وکٹ کے مارجن سے کچل کر رکھ دیا۔

پاکستان کے سیمی فائنل جیتنے کے کچھ سیکنڈ میں ہی مجھے اپنے بڑے بھائی کا ایک گروپ میسج ملتا ہے۔ "کیا زبردست جیت ہے، کتنی جامع! عامر کی اس الیون میں کوئی جگہ نہیں ہے۔" میں ہنس دیتا ہوں، سر ہلاتا ہوں، اور جواب دینے سے خود کو روک لیتا ہوں۔

میں خود سے کہتا ہوں، عامر اب بھی تقریباً ہر دفعہ پاکستانی کپتانوں کا پہلا انتخاب ہوتا ہے۔ وہ اب بھی وہ شخص ہے جس کی جانب میدان میں کپتان سب سے زیادہ دیکھتا ہے۔

عامر نے گذشتہ 12 ماہ میں 697 اوورز کروائے ہیں، وہاب نے 443 اور حسن نے 229۔ عامر وہ واحد باؤلر ہیں جو تینوں فارمیٹس میں کھیلتے ہیں۔ وہ کسی بھی فارمیٹ کے لیے پاکستانی ٹیم کا ہمیشہ پہلا انتخاب ہوتے ہیں۔

مگر پھر بھی میرے بھائی کی بات میں وزن ہے۔ رومان نے اپنے پہلے میچ میں پورے دل سے باؤلنگ کروائی، اور انگلینڈ کے خلاف میچ میں 44 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں۔ عامر نے اس ٹورنامنٹ کے تین میچز میں 135 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کی ہیں۔

پاکستان میں ہم سب لوگ سلیکٹر ہیں۔ کسی کپتان کو ہم عام لوگوں سے زیادہ بہتر نہیں پتہ ہوتا کہ حتمی 11 کھلاڑیوں کا انتخاب کیسے کیا جائے۔ اور پی سی اور اس کی سلیکشن کمیٹی؟ جانبدار، کرپٹ، نااہل؛ جتنا کم کہا جائے اتنا ہی اچھا۔ انہوں نے اس ملک کے سیاستدانوں جیسی شہرت حاصل کرنے کے لیے خوب محنت کی ہے۔

پاکستانی عوام بہتر جانتے ہیں۔ یہ جانتے ہیں کہ کس طرح فواد عالم ڈومیسٹک کرکٹ میں سب سے زیادہ اوسط رکھنے والے (56.51)، رنز کے بھوکے دیو ہیں، جن کی ٹیسٹ کرکٹ میں اوسط 41.66 اور ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں 40.25 ہے۔

سلیکٹرز کی جانب سے انہیں اتنے طویل عرصے تک نظرانداز کیا گیا ہے کہ آج ان کا واحد سہارا مصباح الحق کی مثال ہے، جنہوں نے اس ملک میں کرکٹ کھیلنے کی عمر کی حد بدل کر رکھ دی ہے۔ مگر چلیں اس پر پھر کبھی بات کریں گے۔

نئے آنے والوں فہیم اور رئیس نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، جبکہ جنید اور حسن (جن کی ٹانگ میں تھوڑی تکلیف ہے) خودکار انتخاب معلوم ہو رہے ہیں۔ جبکہ عامر کو اتوار تک فٹ ہوجانا چاہیے۔ پاکستانی کپتانوں کے سامنے کئی مسائل ہوتے ہیں۔ مگر کارکردگی رکھنے والے باؤلرز میں سے انتخاب کرنا ان چند اچھے مسائل میں سے ایک ہوگا جس کا سامنا سرفراز کریں گے۔

رئیس کی جگہ عامر کے واپس آنے کا امکان ہے، اور ہندوستان اسپن کس طرح کھیلے گا، اسے دیکھتے ہوئے شاید فہیم کو شاداب پر ترجیح دی جائے۔

فائنل کے لیے مبینہ ٹیم: اظہر علی، فخر زمان، بابر اعظم، محمد حفیظ، شعیب ملک، ٭سرفراز احمد، عماد وسیم، فہیم اشرف، محمد عامر، حسن علی، جنید خان۔

انگلش میں پڑھیں۔