صحافیوں پر تشدد، یواے ایف کے39 عہدیداروں کے خلاف مقدمہ درج

اپ ڈیٹ 23 جون 2017

ای میل

یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد (یو اے ایف) کے 39 عہدیداروں کے خلاف صحافیوں پر تشدد کے الزام پر مقدمہ درج کرادیا گیا۔

خیال رہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں یو اے ایف میں طلبہ کے حوالے سے ایک معاملے کی کوریج کے لیے موجود کئی ٹی وی چینلوں کے صحافیوں کو یونیورسٹی کے گارڈز نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

سما ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ان کے رپورٹر، کمیرامین اور ڈرائیور کو 'یواے ایف کے سیکیورٹی گارڈز نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا'۔

ایکپریس نیوز کا کہنا تھا کہ ان کا کمیرامین محمد عثمان زخمی صحافیوں میں شامل ہے جنھیں یونیورسٹی کے احاطے میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ آج ٹی وی، میٹرو ٹی وی، دنیا ٹی وی اور نیوٹی وی کے صحافی واقعے میں زخمی ہوئے۔

مزید پڑھیں:فیصل آباد: زرعی یونیورسٹی کے گارڈ کا صحافیوں پر تشدد

واقعے کی ایف آئی آر سما کے رپورٹر یوسف چیما کی مدعیت میں درج کرادی گئی ہے۔

ایف آئی آر میں شامل مشتبہ افراد میں ڈائریکٹر اسٹوڈنٹ افیئرز شہباز طالبان، پرنسپل افسر ڈاکٹر جلال عارف، سیکیورٹی چیف عامر بٹ، پرنسپل افسر اسٹیٹ منیجمنٹ ڈاکٹرہارون زمان اور سیکیورٹی افسر لطیف نیازی بھی شامل ہیں۔

یونیورسٹی کے 30 سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی ایف آئی آر میں نامزد کردیا گیا ہے تاہم ان کے نام نہیں بتائے گئے۔

دوسری جانب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد کا نام ابتدائی طور پر ایف آئی آر میں شامل کیا گیا تھا تاہم ان کی جانب سے متاثرہ چینلز کے دفاتر کے دورے کے بعد ان کا نام خارج کردیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق وائس چانسلر نے واقعے پر معافی مانگی اور کہا کہ معاملے کی تفتیش شروع کی جاچکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تین کلیات کے ڈین معاملے پر کام کررہے ہیں اور کیمروں سے حاصل فوٹیج اور ریکارڈنگ کا جائزہ لےرہے ہیں۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ 'میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس معاملے سے میرا کوئی تعلق نہیں اس وقت میں اسلام آباد میں تھا اور واقعے کی اطلاع میڈیا کے ذریعے ملی'۔

وائس چانسلر کی یقین دہانی کے بعد صحافی کی جانب سے تازہ درخواست جمع کرادی گئی جس میں ڈاکٹر اقرار احمد کا نام شامل نہیں۔

پولیس کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔

یاد رہے کہ یواے ایف نے انتظامیہ کے بارے میں فیس بک پر تبصرہ کرنے پر چار طلبا کو معطل کردیا تھا۔