'فواد نے کبھی نہیں کہا کہ آؤ میرا ایک ساتھ کام کریں'

اپ ڈیٹ 03 جولائ 2017

ای میل

میں اپنے آپ کو بہت زیادہ سنجیدہ نہیں لیتی، مجھے ہنسنا پسند ہے—۔فوٹوگرافی عاکف الیاس
میں اپنے آپ کو بہت زیادہ سنجیدہ نہیں لیتی، مجھے ہنسنا پسند ہے—۔فوٹوگرافی عاکف الیاس

لولی وڈ اداکارہ میرا ہمیشہ ہی کوئی تاثر قائم کرنا چاہتی ہیں، اب چاہے وہ تاثر اچھا ہو یا برا، انھیں اس کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔

کسی بات کا درست ہونا ان کے لیے معنیٰ نہیں رکھتا، وہ بس بے دھڑک جملے بول جاتی ہیں، متنازع بیانات دے دیتی ہیں، حتیٰ کہ خود کو مذاق کا نشانہ بننے کی بھی اجازت دے دے دیتی ہیں۔

میرا کے کراچی کے ایک حالیہ دورے کے دوران میری ان سے ملاقات ہوئی، جس کے بعد میں یہ سوچنے پر مجبور ہوئی کہ ان کے وہ بیانات جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا اور عام گفتگو کے دوران لگائے جانے والے ان کے الزامات کے برعکس اس حوالے سے ان کے خیالات کہ ایک 'اچھی' خاتون کو کیسا ہونا چاہیے اور اپنی 'خوبصورتی' اور 'شہرت' کے حوالے سے ان کے حوالہ جات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ میرا ایسی ہی ہیں، ہم سب کی طرح وہ بھی اپنی زندگی میں نشیب و فراز سے گزرتی ہیں، لیکن ان کی خوداعتمادی انھیں ہمیشہ چمکتا دمکتا اور خوش باش رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

میرا نے مجھے بتایا، 'میں اپنے آپ کو بہت زیادہ سنجیدہ نہیں لیتی، مجھے ہنسنا پسند ہے اور جب میں ریڈ کارپٹ میں شرکت یا پریس کانفرنس کرنے جارہی ہوتی ہوں تو میں چٹکلے (جوک) پہلے سے اپنے ذہن میں ترتیب دے لیتی ہوں۔ لوگ مجھ سے میری عمر کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور میں انھیں کرنے دیتی ہوں، میں اس بارے میں صرف مذاق کرتی ہوں، میں اس ملک کی سب سے مشہور اداکارہ ہوں اور یہ چیزیں میرے نزدیک غیر اہم ہیں، میں انھیں اپنی زندگی کا بنیادی مقصد نہیں بننے دے سکتی'۔

انھوں نے مزید کہا، 'یہ اتنا اہم نہیں ہے کہ اس پر بات کی جائے، مجھ سے دیگر سوالات کریں، میرے کریئر کے بارے میں، میری شادی، میرا خاندان، میرے مستقبل کے منصوبے وغیرہ' اور میں نے پھر یہی کیا۔

'2017 میرے لیے دلچسپ سال بننے والا ہے'

میرا نے بتایا، 'میں ایک بالکل نئی لُک اپنانے والی ہوں اور میرے پاس کچھ بہت دلچسپ منصوبے ہیں'، ایم ڈی پروڈکشنز کا ایک پراجیکٹ اس عید پر ہم ٹی وی پر آن ایئر ہوا، جس کا نام 'سوچا تھا پیار نہ کریں گے' تھا، جبکہ فلم 'شور شرابہ' میں بھی ان کا ایک مختصر کردار تھا، جو اس عید پر سینما میں ریلیز نہیں ہوئی۔

میرا نے بتایا، 'مجھے ہم ٹی وی کی ٹیلی فلم میں کام کرکے مزہ آیا کیونکہ پہلی مرتبہ میں نے اس میں کامیڈی کردار ادا کیا، میں 'شور شرابہ' سے کچھ زیادہ خوش نہیں ہوں، جس میں مجھے مختصر کردار کرنا تھا لیکن فلمسازوں نے جان بوجھ کر کردار کو طول دیا اور چونکہ میں سائن کرچکی تھی، لہذا میں اس سے انکار نہیں کرسکی، 'شور شرابہ' کے پروڈیوسر نے میری رقم بھی دینی ہے، ہم نے 2008 میں پی ٹی وی کے ڈرامے 'اقرا' میں کام کیا تھا اور انھوں نے مجھے 60 لاکھ روپے دینے ہیں'۔

مزید پڑھیں: ماضی کی میرا ہر لولی وڈ مداح کا خواب

اس کے باوجود بھی 'شور شرابہ' میں کام کرنے کے سوال پر میرا نے جواب دیا، 'کبھی کبھار آپ ڈائریکٹر کی بات مان جانتے ہیں، ہمیں اس انڈسٹری میں کام کرنا ہے اور یہاں اچھے اور برے لوگ ہر جگہ موجود ہیں'۔

'انڈیا کے خانز کے ساتھ کام کرنا میرا ہمیشہ سے خواب'

ماضی میں میرا ہندوستانی سرزمین پر کام کرچکی ہیں، جنھیں 'بولڈ' قرار دیا جاسکتا ہے، اس حوالے سے میرا کا کہنا تھا، 'میں نے بھارت میں جو کام کیا، مجھے اس پر فخر ہے، میں نے وہاں مہیش بھٹ کے ساتھ فلم ڈیبیو کیا، میری پہلی ہندوستانی فلم 'نظر' میں میرا مرکزی کردار تھا اور اس فلم میں میرے گانے اب تک پوری دنیا میں سنے جاتے ہیں'۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ان کا کہنا تھا، 'یہ صورتحال پر منحصر ہے، اگر کوئی بہتر موقع ملتا ہے تو میں کیوں وہاں کام نہیں کرنا چاہوں گی؟ شاہ رخ خان، عامر خان اور سلمان خان کے ساتھ کام کرنا ہمیشہ سے میرا خواب رہا ہے، شاہ رخ کنگ خان ہیں اور سچ کہوں تو اگر کوئی گدھا بھی ان کے مقابل کاسٹ کیا جائے تو اسے بھی سراہا جائے گا'۔

جب میں نے ان سے پوچھا کہ ماہرہ خان کے شاہ رخ خان کے مدمقابل مرکزی کردار کو وہ کس نظر سے دیکھتی ہیں تو انھوں نے جواب دیا، 'میرا خیال ہے میں فلم میں ماہرہ کے کردار کی جانچ کو فلم نقادوں پر چھوڑ دوں گی، انھیں پاکستان میں کارپوریٹ اداروں کی حمایت حاصل تھی جس سے انھیں مثبت ریویوز حاصل کرنے میں بہت فائدہ ہوا، ساتھ ہی میرا نے کہا، 'میرا خیال ہے کہ یہ بات قابل تحسین ہے کہ ماہرہ فلم میں مرکزی کردار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں اور ہمیں اس بات کو سراہنا چاہیے'۔

میرا بھارت کے خانز کے ساتھ کام کرنے کی خواہش مند ہیں—۔فائل فوٹو
میرا بھارت کے خانز کے ساتھ کام کرنے کی خواہش مند ہیں—۔فائل فوٹو

میرا کا کہنا تھا، 'پاکستان میں ہم ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، میں نے بھی ہندوستان میں کام کیا، لیکن مجھے ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا'۔

ساتھ ہی انھوں نے اعتراف کیا، 'میں جانتی ہوں کہ میں نے کچھ غلطیاں کیں، لیکن ابھی تک پاکستان میں میری کوششوں کو سراہا نہیں جاتا، میں انڈیا گئی اور وہاں پاکستان کی نمائندگی کی، میں نے مفت میں کام نہیں کیا اور اپنے کام کے بدلے معقول معاوضہ لیا، میں نے رول کے حصول کے لیے کسی بھی غیر مناسب سرگرمی کا حصہ بننے سے انکار کیا، میں نے عزت اور وقار کے ساتھ کام کیا، کیا مجھے اس بات پر عزت نہیں ملنی چاہیے تھی'؟

'فواد خان نے آکر کبھی یہ نہیں کہا کہ آؤ ایک ساتھ کام کرتے ہیں'

میرا کے خیال میں نئے اداکار فلم انڈسٹری کے سینئر اداکاروں کی عزت نہیں کرتے، انھوں نے کہا، 'جب ہم لوگ انڈسٹری میں نئے تھے، تو ہمارے سینئرز شمیم آراء، بابرہ شریف، مہیش بھٹ اور سوبھاش گئی نے ہمیں بتایا کہ پرانے اداکاروں کو عزت دیں'۔

اس موقع پر میں نے میرا سے سوال کیا کہ انھوں نے سوبھاش گئی کے ساتھ کب کام کیا؟ جس پر میرا نے جواب دیا،'میں نے کام نہیں کیا لیکن انھوں نے مجھے بہت کچھ سکھایا'۔

ان کا کہنا تھا، آج کل کے نئے اداکاروں نے زیادہ کام نہیں کیا لیکن وہ خود کو سپراسٹارز سمجھتے ہیں، سوشل میڈیا پر ان کی فین فالونگ زیادہ ہوسکتی ہے اور انھوں نے کچھ فلموں میں اداکاری کی ہوگی لیکن انھیں ابھی اپنا کام دکھانا ہے، انڈسٹری ہمیشہ سے لاہور میں تھی، لیکن اب زیادہ تر فلمساز کراچی میں مقیم ہیں اور وہ اصل ٹیلنٹ کو چانس دینے پر یقین نہیں رکھتے'۔

میرا نے بتایا کہ انھیں 'جوانی پھر نہیں آنی'، 'نامعلوم افراد' اور 'سیلوٹ' پسند آئی، ان کا کہنا تھا، 'ہمایوں سعید اچھا کام کرتے ہیں اور فواد خان بہت اچھے اداکار ہیں لیکن فواد نے کبھی آکر مجھے سلام نہیں کیا، میں سینئر ہوں، میں نے بہت سے ایوارڈز جیتے ہیں، 155 فلموں اور 15 ٹی وی سیریلز میں کام کیا ہے اور پھر بھی میں ان کے کام کو سراہ رہی ہوں، لیکن وہ کیوں نہیں ایسا کرتے؟ انھوں نے کبھی مجھ سے رابطہ کرکے یہ نہیں کہا کہ میرا چلیں پاکستان کے لیے ایک ساتھ کوئی پراجیکٹ کرتے ہیں، اس رویے کو درست ہونے کی ضرورت ہے'۔

پاکستان میں میری کوششوں کو سراہا نہیں جاتا—۔فوٹوگرافی/عمیر بن نثار
پاکستان میں میری کوششوں کو سراہا نہیں جاتا—۔فوٹوگرافی/عمیر بن نثار

'دوستوں اور فینز کی محبت مجھے کام جاری رکھنے میں مدد دیتی ہے'

بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں، جنھیں میرا نے اپنا سپورٹ سسٹم قرار دیا، 'شان میرے پسندیدہ ساتھی اداکار ہیں، اس کے علاوہ بھی نبیلہ، عاکف الیاس، خاور ریاض، اطہر شہزاد، نیلوفر شاہد، نومی انصاری، دیپک پروانی اور ٹپو جویری ایسے لوگ ہیں، جن پر میں اعتماد کرتی ہوں، ان لوگوں نے مجھے گروم کیا، میرا ساتھ دیا، مجھے سپورٹ کیا اور کئی سالوں سے میرے ساتھ کھڑے ہیں'۔

ٹوئیٹ ٹوئیٹ!

حال ہی میں ٹوئٹر پر رواں انگریزی میں دیئے گئے تندو تیز تبصروں پر فینز کی حیرانی کے حوالے سے کیے گئے سوال پر میرا نے کہا،'وہ میں ہی ہوں لیکن بعض اوقات میرے دوست بھی میری مدد کرتے ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں:میرا نے اڑایا مداحوں کی انگریزی کا مذاق

انھوں نے کہا، 'میری انگریزی بہت اچھی ہے،ایک وقت تھا جب میں زبان سیکھ رہی تھی، لیکن جب میں اٹکتی ہوں تو لوگ میرا مزاق اڑاتے ہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارا معاشرہ کتنا پیچیدہ اور احساس کمتری کا شکار ہے، میں اب بہت اچھی انگلش بولتی ہوں اور میں چاہتی ہوں کہ ایک دن کسی انٹرنیشنل انگلش چینل کو انٹرویو دوں جہاں میں مناسب طریقے سے بات کرسکوں۔'

'میں اگست میں شادی کر رہی ہوں'

ایک چیز جو میرا نے ٹوئٹر پر نہیں بتائی، وہ ان کی شادی کی خبر ہے، انھوں نے کہا، 'میں آپ کو سب سے پہلے بتا رہی ہوں، میں اس اگست میں شادی کر رہی ہوں، یہ ایک بہت شاندار شادی ہوگی، جس کے بعد میں نیو یارک منتقل ہوجاؤں گی'۔

مزید پڑھیں:میرا کی عمران خان کو شادی کی پیشکش

ساتھ ہی انھوں نے کہا، 'ابھی میں یہ نہیں بتا سکتی کہ میں کس سے شادی کر رہی ہوں، یہ میری پہلی شادی ہے، میں نے اس سے قبل کبھی شادی نہیں کی، شادی کی پہلے کی افواہیں جھوٹی تھیں، میں سمجھتی ہوں کہ میں اب ذہنی، سائنسی اور جسمانی طور پر شادی کے لیے بالکل تیار ہوں، میں ماں بننا چاہتی ہوں، میں اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے ویسے ہی ماں کی طرح ہوں، میں انھیں کریئر کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرتی ہوں اور یہ دیکھتی ہوں کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں، مجھے گھر کے کام کرنا اور اپنی فیملی کا خیال رکھنا پسند ہے، میں ایک خدا کا خوف رکھنے والی لڑکی ہوں اور میرا خیال ہے کہ میں شادی کے لیے تیار ہوں'۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہ شادی کے بعد ایکٹنگ کیریئر نہیں چھوڑیں گی، 'میرے فینز مجھ سے محبت کرتے ہیں، میں اپنا پروفیشن چھوڑ کر انھیں مایوس نہیں کروں گی، آخر کار میں اس ملک کی خوبصورت اور وہ اداکارہ ہوں، جس کی سب سے زیادہ ڈیمانڈ ہے'۔


یہ انٹرویو 2 جولائی 2017 کو ڈان آئیکون میں شائع ہوا