1977 سے 2017 تک: ضیاء الحق نے پاکستان کو کیسے تبدیل کیا؟

اپ ڈیٹ 05 جولائ 2017

ای میل

— خاکہ ماریہ ہما
— خاکہ ماریہ ہما

چالیس سال پہلے ضیا نے اقتدار پر قبضہ کیا اور ملک میں تیسرا اور سب سے طویل مارشل لا نافذ کر دیا۔ اگلی دہائی کے دوران انہوں نے پاکستان کو ایک سیکولر اور جمہوری ریاست بنانے کے قائد اعظم کے خواب کو چھوڑ کر ملک کو مکمل طور پر ایک مذہبی ریاست میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ ان کے کاموں کے اثرات تین دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد بھی اپنی جگہ موجود ہیں اور مستقبل میں دور دور تک اس کا کوئی متبادل سیاسی ڈھانچہ نظر نہیں بھی آ رہا۔

پاکستان کا تشخص مکمل طور پر بدل ڈالنے اور اپنی اسکیم کو جاری و ساری رکھنے میں انہیں ملنے والی کامیابی کو سمجھنے لیے ہمیں ’تصورِ پاکستان’ کا جائزہ لینا ہوگا کیوں کہ انہوں نے لوگوں کے دو گروہوں کے درمیان اس بات پر لکیر کھینچ دی تھی کہ پاکستان کو کیسا ہونا چاہیے تھا۔

قرارداد لاہور 1940 میں گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 میں درج قانون ساز اسکیم کے متبادل کے طور پر ایک قانون ساز اسکیم پیش کی گئی تھی۔ 11 اگست 1947 کو قانون ساز اسمبلی میں قائد اعظم نے اپنے خطاب کے دوران تشکیل پاکستان اور تقسیمِ ہند کو ہی ہندوستان کے دستوری مسئلے کا واحد حل بتایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تحریکِ پاکستان مذہبی مقاصد سے پاک خالصتاً ایک سیاسی جدوجہد تھی۔

مگر برٹش انڈیا کے خطے کے دو حصوں کے لیے پیش کی گئی اس نئی دستوری اسکیم کی بنیاد یہ تھی کہ یہ مسلمان اکثریتی علاقے ہیں اور، جب مسلمان رہنما اپنی برادری کے لیے مناسب (آئینی و قانونی) تحفظ حاصل کرنے میں ناکام ہوئے اور انہیں ایک بڑی اقلیت قرار دیا گیا، تو آل انڈیا مسلم لیگ دو قومی نظریے کے لیے کافی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ اس نظریے کے مطابق ہندوستان کے مسلمان ایک قوم کی حیثیت تھے، اکثریتی (ہندو) برادری سے مکمل طور پر مختلف تھے اور اپنی الگ ریاست بنانے کا حق رکھتے تھے۔

جن لوگوں کے لیے اس نئی ریاست کا مطالبہ کیا جا رہا تھا، ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر پاکستان کے مطالبے نے اس خیال کو تقویت دی کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہوگا۔ اور قائد اعظم نے نہ مذہبی سیاست کی حمایت کی اور نہ ہی کبھی (اس تحریک کے پیچھے موجود) مذہبی جذبات سے انکار کیا۔ گاندھی نے پیش کش کی کہ اگر الگ ملک کا مطالبہ مذہبی بنیادوں پر نہ کیا جائے تو وہ پاکستان کا مطالبہ تسلیم کرنے کے لیے کانگریس کو منائیں گے، لیکن انہوں نے اس پیش کش کو بھی مسترد کر دیا۔

جناح اکثر اوقات فرماتے تھے کہ وہ ایک جمہوری ریاست کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اسلام بھی اس بات کی حمایت کرتا ہے۔ مگر چند علماء کو چھوڑ کر باقی تمام علماء دین مانتے تھے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست نہیں ہوگا.

1945-46 کے انتخابات نے پاکستان کے حامی حلقوں کے درمیان ایک نمایاں تقسیم کا انکشاف کیا۔ جہاں مسلم لیگ یہ واضح کیے بغیر کہ پاکستان کس طرح کا ہوگا، پاکستان کا مطالبہ کر رہی تھی (جیسے، خاص طور پر پنجاب اور خیبر پختونخوا میں مذہبی نعرے لگائے جا رہے تھے)۔ 'پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ' (ہندوستانی مسلمانوں کا) عمومی نعرہ تو نہیں تھا، لیکن چند مقامات پر باقاعدگی سے ضرور بلند کیا جاتا تھا۔ دیگر مذہبی نعرے جیسے، 'مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ' اور 'پاکستان میں مسلمان کی حکومت ہوگی' اکثر و بیشر بلند کیے جاتے۔

مذہب نے تحریکِ پاکستان میں اپنا کردار ادا کیا تھا، اس بات کی تصدیق تب ہوگئی جب پنجاب میں کانگریس کے مہم کاروں نے اپنی اعلیٰ کمان سے مدد کے لیے چند مسلمان دانشوروں کو بھیجنے کی درخواست کی تھی۔ یوں پاکستان کے حامی دو کیمپس میں تقسیم ہو گئے؛ ایک وہ جن کے بارے میں کسی حد تک یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ جمہوریت کے پکے حامی تھے جبکہ دوسرے وہ جو مبہم طور پر مذہبی ریاست کے تصور سے منسلک تھے۔ ضیا کے پاکستان کی جڑیں اسی تقسیم میں موجود ہیں۔

تشکیل پاکستان کے ساتھ دونوں گروہوں کے مزاج میں تبدیلی آئی۔ قائد اعظم نے محسوس کیا کہ اب مذہبی کارڈ کی کوئی ضرورت نہیں۔ پاکستان کے ایک ریاست بننے سے تین دن قبل انہوں نے دو قومی نظریے کو خدا حافظ کہہ دیا اور لوگوں کی پاکستانی شہریت کی بنیاد پر ایک نئی قوم تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔ جن مذہبی جماعتوں نے پاکستان کے مطالبے کی مخالفت کی تھی، انہوں نے مکمل طور پر اپنا مؤقف تبدیل کر لیا اور پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے کا مطالبہ کیا۔

دو عناصر نے اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا: انہوں نے پاکستان کی مخالفت کی تھی کیوں کہ انہیں کوئی امید نہ تھی کہ یہ ملک ایک اسلامی ریاست بننے جا رہا ہے اور یہ کہ اس ملک میں مسلمان برائے نام اکثریت حاصل کرنے جا رہے تھے اور یوں اسے ایک اسلامی ریاست قرار دینا تقریباً ناممکن ہونا تھا۔ مگر پنجاب اور بنگال کی تقسیم نے صورتحال کو بدل دیا۔ 6 کروڑ 50 لاکھ کی آبادی والے نئے پاکستان میں، غیر مسلموں کی تعداد قریب 2 کروڑ تھی، اور ان کی زیادہ تر تعداد مشرقی حصے میں موجود تھی۔ اس وقت جاری فسادات سے غیر مسلم آبادی مزید کم ہو گئی۔ علاوہ ازیں، مذہبی جماعتیں انتخابات میں مذہبی نعروں کی طاقت دیکھ چکی تھیں۔ ان دو عناصر نے پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے کے امکانات کو مزید روشن کر دیا تھا۔

مولانا مودودی ان اوّلین علماء میں سے تھے جنہوں نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ وہ پاکستان ہجرت کر کے آئے، اپنی ایک اہم کتاب 'مسلمان اور سیاسی کشمش' سے پاکستان مخالف نظریات کو خارج کر دیا، اور پنجاب حکومت کی جانب سے بیوروکریٹس کو اسلامی اقدار پر لیکچر کی دعوت کو قبول کیا جبکہ ان کی باتوں کو ریڈیو پر بھی نشر کیا گیا۔ لیکن انہوں نے تھوڑے ہی عرصے میں اس وقت حکومت کی خیر خواہی کھو دی جب انہوں نے یہ کہا کہ پاکستان کی کشمیر میں مداخلت کو جہاد نہیں کہا جا سکتا کیوں کہ یہ ملک ایک اسلامی ریاست نہیں ہے۔

تشکیل پاکستان کے چند ماہ کے اندر ہی، فروری 1948 میں مختلف مکاتب فکر کے علماء نے حکومت کے سامنے ایک چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا جس میں ایک مذہبی ریاست کو قائم کرنے کے لیے ضروری اقدامات درج تھے۔ ان مطالبات کو زیر غور لانے کے وعدوں کے ساتھ ایک جگہ رکھ دیا گیا۔ مگر مشرقی بنگال کی جانب سے اس کے ثقافتی حقوق کو تسلیم کرنے کے مطالبوں نے حکومت کو پریشان کر دیا تھا، چنانچہ حکومت نے اسلامی یکجہتی کے معیار کو بلند کرتے ہوئے ان مطالبوں کا سامنا کرنے کی کوشش کی۔ بالآخر حکومت نے مارچ 1949 کی قرارداد مقاصد میں جائے پناہ تلاش کی جس میں وہ تمام باتیں نظر آئیں جو آبادی کے مختلف حلقوں کے لیے موزوں تھیں۔

اس قرارداد کا سب سے اہم نکتہ یہ تھا کہ اللہ ہی کل کائنات کا بلا شرکتِ غیرے حاکمِ مطلق ہے۔ علماء خوش تھے۔ نعرے مارنے والوں نے جناح کی لابی کو شکست دے دی تھی۔ جماعت اسلامی نے اب پاکستان کو ایک اسلامی ریاست قرار دے دیا۔ قرارداد مقاصد پر ایک سب سے قابل ذکر تبصرہ ایک کانگریسی رکن اسمبلی کی جانب سے آیا جنہوں نے اسمبلی کو خبردار کیا کہ قرارداد نے کسی بھی ایسے مہم جو شخص کے لیے راستہ صاف کر دیا ہے جو خدا کا مقرر کردہ ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ اور جنرل ضیاء نے بالکل یہی کیا۔

6 جولائی 1977 کو شائع ہونے والا ڈان اخبار۔
6 جولائی 1977 کو شائع ہونے والا ڈان اخبار۔

اسی لیے 1947 اور 1953 کے درمیان ہم دیکھتے ہیں کہ ’مذہبی نعرے مارنے والوں کے گروپ’ نے سیاسی میدان میں اپنے قدم جما لیے تھے، کیوں کہ مذہب کو سیاست سے دور رکھنے کی جناح کی تجویز پر عمل پیرا ’جمہوری نظریات والا گروپ’ خود ناکام ہوا اور جمہوری معیار کو فروغ دینے میں بھی ناکام ہوا۔ مزید یہ کہ، اس گروپ نے جمہوری مطالبوں کی مزاحمت کے لیے مذہب کا سہارا لینے کی سنگین کوشش کی تھی۔ ‘مذہبی نعرے مارنے والوں کے گروپ' نے اپنی نام نہاد طاقت سے 1953 میں احمدی مخالف تحریک کا آغاز کرتے ہوئے حکومت کو للکارا۔ تحریک کو بری طرح شکست ہوئی کیونکہ ریاستی اداروں، خاص طور پر فوج، نے امن و امان کی قیمت پر کسی بھی مذہبی/مسلکی عناصر کو برداشت نہ کرنے کی انگریز دور کی پالیسی کو ترک نہیں کیا تھا۔ لیکن یہ وہ واحد فتح تھی جو ’جمہوری نظریات والے گروپ’ نے ’مذہبی نعرے مارنے والے’ گروپ کے خلاف حاصل کی تھی۔

1953 اور 1958 کے درمیان ’جمہوری نظریات والے گروپ’ کو ایک نئے چیلنجر سے مقابلہ کرنا پڑا— ایک سول اور فوجی بیوروکریٹس جن کے نزدیک اُس جمہوری شکل کے لیے احترام نہیں تھا جو کسی حد تک اب بھی ملک میں قائم تھی۔ دونوں میں سے کسی بھی فریق نے ’مذہبی نعرے مارنے والے’ گروپ پر زیادہ توجہ نہیں دی جسے 1953 میں لگے زخموں کے ساتھ تنہا چھوڑ دیا گیا تھا۔ لیکن، ملک کا پہلا دستور تیار کرنے کے دوران سول بیوروکریسی نے ریاست کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھ کر، مسلمانوں کے لیے صدارت کا عہدہ مختص کر کے، حکومت کو اس کے اسلامی فرائض اور قوانین کی ’اسلامائزیشن’ کے کام میں مشاورت کے لیے ایک بورڈ تشکیل دے کر، مذہبی جماعتوں کو کافی رعایت بخشی۔ ان قانونی اصولوں کو بعد میں ایک مذہبی ریاست کی بنیاد رکھنے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔

ایوب حکومت نے ’جمہوری نظریات’ اور ’مذہبی نعروں والے’ گروہ، دونوں کو کچلنے کی کوشش کی۔ جمہوری خیالات والوں کو ایبڈو قوانین کے تحت سیاسی اکھاڑے سے باہر نکال دیا گیا۔ (ایبڈو کا مطلب Elective Bodies Disqualification Order جس کے تحت سیاستدانوں کو دھمکایا گیا کہ اگر سیاستدان سات برسوں تک سیاست کا حصہ نہ بننے کا وعدہ نہیں کریں گے تو ان کے خلاف ’نامناسب رویے’ پر قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔)

دوسری جانب مساجد کو محکمہ اوقاف کے حوالے کر کے ‘مذہبی نعرے مارنے والے’ گروپ کو اپنے قابو میں کر لیا گیا۔ مزید یہ کہ، جماعت اسلامی کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کے ساتھ تنظیم کو ایک پروپیگینڈا مہم کا نشانہ بنایا۔ جب حکومت 1962 میں اپنا پہلا دستور پیش کیا تو اس میں ریاست کے نام سے ’اسلامی’ خارج کر دیا گیا۔ (جبکہ بنیادی حقوق پر مشتمل باب کو بھی خارج کر دیا گیا۔)

لیکن ایوب حکومت مذہبی جماعتوں کے قومی سیاست میں پیر مضبوط کرنے کی ذمہ دار تھی۔ جب تقریباً تمام سیاستدان گم نامیوں کا شکار بن گئے تب مساجد ہی وہ واحد پلیٹ فارم تھیں جہاں سے کسی قسم کی تحریک پیدا ہو سکتی تھی۔ 1965 کے صدارتی انتخابات میں اپنے امیدوار اتارنے کے لیے حزب اختلاف نے اپنے سر جوڑے، تو ان جماعتوں کے اتحاد میں جتنی مذہبی جماعتیں تھیں اتنی ہی نیم سیاسی جماعتیں بھی شامل تھیں اور انہوں نے فاطمہ جناح کی حمایت میں مہم کا حصہ بن کر عوامی مقبولیت حاصل کی تھی۔

ایوب مخالف تحریک سیکولر، جمہوری تحریک تھی اور اسی لیے یحیٰی خان نے ’ایک آدمی، ایک ووٹ’ کے اصول کو تسلیم کر کے اور ون یونٹ کو ختم کر کے لوگوں کی سیاسی محرومیوں کو دور کرنے پر پورا دھیان مرکوز کیا۔ ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے کی رات ایک نیا دستور جاری کرنے کی کوشش سے پہلے تک انہوں نے مذہبی لابی کو لبھانے کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا، لیکن ان سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس دستوری مسودے کی حمایت سے نہ تو یحیٰی کو کوئی فائدہ ہوا، نہ ہی انہیں خود کوئی فائدہ پہنچا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے مذہبی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں سے ان جماعتوں نے زبردست فائدہ اٹھایا۔ 73 کے آئین میں اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیا گیا اور اسلامی نظریاتی کونسل کے اختیارات میں توسیع کی گئی۔ فروری 1974 میں بھٹو نے عرب قوم پرستی کی فوج کا مقابلہ اسلامی قوم پرستی سے کرنے کی شاہ فیصل کی کوششوں کا ساتھ دیا اور اسلامی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ قریب 6 ماہ بعد، ان کی حکومت نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا۔ لیکن یہ تمام اقدامات ان کے لیے مددگار ثابت نہ ہوئے۔

ان کے مشیروں کے ہاتھوں 1977 کے انتخابات میں بدانتظامیوں کے بعد، مذہبی جماعتوں نے نظام مصطفیٰ کے نعرے کے ساتھ ان کی حکومت ختم کرنے کی تحریک شروع کی، جس کا مقصد ملک میں اسلامی قوانین کا نفاذ تھا۔ مذہبی علماء کو مزید رعایت — جیسے شراب پر پابندی اور جمعے کو ہفتہ وار چھٹی کا دن مقرر کرنے— دینے سے بھی بھٹو کو کوئی فائدہ نہ پہنچا کیوں کہ ضیا پہلے ہی ان کی حکومت ختم کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ اب ایسا کہا جاسکتا ہے کہ 77-1971 کی بھٹو حکومت ضیا کو پاکستان اپنے منصوبے کے مطابق ڈھالنے کے لیے ایک وسیع پلیٹ فارم فراہم کر چکی تھی۔ اور وہ نئے نئے جوش و خروش اور اعتماد کے ساتھ اپنے کام میں جت گئے۔

1978 اور 1985 کے درمیان ضیا نے پاکستان کو ایک مذہبی ریاست میں بدلنے کے لیے کئی اقدامات اٹھائے۔ مذہبی قوانین کے نفاذ اور اسلام کے منافی پائے جانے والے قوانین کو خارج کرنے کے لیے وفاقی شرعی عدالت قائم کی گئی اور اسے قانون سازی کے کچھ اختیارات بھی دیے گئے۔ ریاست نے زکوٰۃ اور عشر وصول کرنے کے اختیارات اپنے پاس رکھ لیے۔ احمدیوں کو اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کہنے، قرآن مجید اپنے پاس رکھنے اور تلاوت کرنے، ایک دوسرے سے مسلمانوں کی طرح سلام کرنے کا انداز اپنانے، اور اسلامی خطابات اور اپنی بیٹیوں کے نام رسول اللہ کے خاندان سے تعلق رکھنے والی خواتین پر رکھنے سے منع کر دیا گیا۔

قرآن مجید کی توہین کرنے کی سزا اور گستاخی کرنے پر موت یا عمر قید کی سزا دینے کے لیے تعزیرات پاکستان میں ترمیم کی گئی (بعد میں شرعی عدالت نے گستاخی کرنے پر موت کی سزا کو لازم قرار دے دیا)۔ پارلیمنٹ کو مجلس شوریٰ کا نام دیا گیا اور کہیں کہیں سے ترمیم شدہ قرارداد مقاصد — جسے اب تک صرف آئین کے دیباچے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا — کو اس کا ایک بنیادی حصہ بنا دیا گیا۔ مزید برآں، غیر جماعتی انتخابات کے انعقاد کے ذریعے جمہوری انتخابی نظام کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔

اس کے ساتھ ضیا نے اسمبلیوں میں ارکان کی رکنیت کی اہلیت اور نااہلی کے متعلق قانونی تقاضوں میں ترمیم کی تاکہ وہ مذہبی معیار کا احترام کریں۔ انہوں نے نظام تعلیم کو بھی الٹ دیا، پہلے تو انہوں نے مدرسوں کی تعداد بڑھانے میں سہولت فراہم کی (جبکہ عام تعلیم کی توسیع اور بہتری کو نظر انداز کیا گیا اور حقوق اور جمہوریت کے موضوعات پر لکھی گئی کتابوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔) اور تمام جماعتوں کی نصابی کتابوں میں مذہب سے منسلک اسباق کی تعداد بڑھا دی گئی۔ جبکہ انہوں نے اپنے اقدامات کو آئینی ترمیم (نویں ترمیم) کے ذریعے مستحکم کرنے کی کوشش کی لیکن اسے آئین میں شامل کرنے کی نوبت نہیں آ سکی. وہ نمازوں اور سخت گیر ضابطوں کے نظام کو نافذ کرنے کے لیے اخلاقی بریگیڈز بنانے کی کوششوں میں کامیاب نہ ہو سکے۔

کئی عناصر نے ضیا کو لوگوں پر اپنے خیالات، بشمول ان اقدامات جن کا اسلام سے تعلق بھی نہ تھا، کو نافذ کرنے میں مدد فراہم کی۔ ضیا نے مذہبی جماعتوں کی ان سیاسی سہولیات کا بھرپور استعمال کیا جو ان جماعتوں نے کمزور نیم جمہوری حکومتوں سے حاصل کی تھیں۔ اور افغانستان میں تنازع نے بھی انہیں بڑی سطح پر حمایت دلوائی۔ ضیا نے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اس بات پر قائل کیا کہ انہوں نے اپنی افغان پالیسی کے ذریعے اسلام کے وقار کو بلند کیا ہے۔

آج پاکستان کی جو صورت ہے وہ ضیا کی مرہون منت ہے اور اس سے قطعی انکار نہیں کیا جا سکتا اور اس کی وجوہات ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔

پہلی بات، آئین اور قانون میں ضیا کی جانب سے کی گئی تبدیلیوں کو منسوخ کرنا ممکن نہیں ہو پایا۔ مذہبی لابی ضیا کی جانب سے کی گئی ہر معمولی تبدیلی کو مقدس مانتی ہے۔ چند ایسی جماعتیں جو کہ مذہبی تنظیموں میں شمار نہیں ہوتیں وہ ضیا کے تسلسل کی پرزور حمایت کرتی ہیں، اور وہ جماعتیں جو ان کی حامی نہیں، وہ مذہبی ہجوم کا مقابلہ کرنے سے خائف ہیں۔

سیکولر عناصر بہت پہلے ہی مذہبی شخصیات، بالخصوص مدرسہ حکام کے زیر اثر گروہوں کے ہاتھوں سڑکوں پر شکست کھا چکے۔ کبھی بھی مذہبی شدت پسندوں کے خلاف فیصلہ سنانے میں دلچسپی نہ لینے والی عدلیہ ضیا کی ترامیم کو اکثر اس بنیاد پر ہاتھ لگانے سے انکار کر دیتی ہے کہ منتخب ہونے والی حکومتیں ان کی حمایت کرتی چلی آ رہی ہیں۔

ضیا کی پاکستان کے ڈھانچے کے ساتھ کی گئی گڑبڑ میں مداخلت کرنے کی مشکلات کا اندازہ اس بات سے ہو جاتا ہے کہ آئین کی شق 270 اے سے ان کا نام اپریل 2010 — مطلب ان کی موت کے 22 سال اور پانچ انتخابات کے بعد — مٹایا گیا تھا۔

دوسرا یہ کہ، مذہبی منظرنامے پر سخت قدامت پسند عناصر غالب ہیں جو مذہبی باتوں پر کسی قسم کی بحث نہیں چاہتے اور جو ان کے خیالات کو چیلنج کرتا ہے وہ ملک میں رہنے کی ہمت بھی نہیں کر پاتا۔ مزید یہ کہ، مرکزی-بائیں بازو کی جماعتوں کی طاقت کے مراکز سے بے دخلی کی وجہ سے نام نہاد مرکزی دھارے کی جماعتیں قدامت پسند نظریات کے ہاتھوں یرغمال بن گئیں۔

اس صورتحال میں، اس غیر منصفانہ اور جابرانہ اسٹیٹس کو کے لیے مذہب کے غلط استعمال سے چھٹکارے کی بہت ہی کم امید دکھائی دیتی ہے۔ ضیا کے تسلسل کے ظلم و ستم کے اندھیرے سائے ریاست اور لوگوں پر اس وقت تک منڈلاتے رہیں گے جب تک عام شہریوں کو اس بات کا احساس نہیں ہو جاتا کہ اس تسلسل نے ماسوائے مصیبتوں کے اور کچھ نہیں دیا۔

یہ مضمون 2 جولائی 2017 کو ڈان اخبار کے سنڈے میگزین میں شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔