کتب بینی کے شوقین خواتین و حضرات متوجہ ہوں

اپ ڈیٹ 23 جولائ 2017

ای میل

مختلف علمی، ادبی اور فکری موضوعات و شخصیات پر لکھی گئی 6 تازہ کتب کا جائزہ۔
مختلف علمی، ادبی اور فکری موضوعات و شخصیات پر لکھی گئی 6 تازہ کتب کا جائزہ۔
مختلف علمی، ادبی اور فکری موضوعات و شخصیات پر لکھی گئی 6 تازہ کتب کا جائزہ۔
مختلف علمی، ادبی اور فکری موضوعات و شخصیات پر لکھی گئی 6 تازہ کتب کا جائزہ۔

عہدِ حاضر کی تمام تر ٹیکنولوجی کے باوجود کتب بینی کارجحان اپنی جگہ برقرار ہے، ممکن ہے اس میں کچھ کمی آئی ہو مگر جس طرح تصور کیا جا رہا تھا کہ شاید ’’اِی بُک‘‘چھپی ہوئی کتاب کامتبادل ہوگی، ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

آج بھی کتابیں پڑھی اور لکھی جا رہی ہیں، ان کی فروخت کا عمل بھی جاری ہے البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ موضوع کے اعتبار سے کسی کتاب کی مقبولیت کم یا زیادہ ہو سکتی ہے مگر یہ سلسلہ قائم ضرور ہے۔ آئیے، دیکھتے ہیں کن موضوعات پر تازہ کتابیں شایع ہوئی ہیں۔


کتاب کا نام: گلزار، وہ جو شاعر ہے۔ ۔ ۔



- کتاب: گلزار، وہ جو شاعر ہے۔ ۔ ۔

- مصنفہ: شمع کاظمی

- صفحات: 236

- ناشر: بک کارنر، جہلم

- قیمت: 800 روپے

یہ کتاب ہندوستان کے معروف شاعر اور فلم ساز گلزار پر ایم فل کا تحقیقی مقالہ ہے جوشمع کاظمی نے سرگودھا یونیورسٹی سے مکمل کیا۔ پانچ ابواب پر مشتمل اس کتاب میں گلزار کی سوانح و شخصیت،شعری تخلیقات کا جائزہ، نظم کا فکری و فنی تنوع، غزل گوئی، دیگر شعری اصناف، جن میں تروینی اور گیت شامل ہیں، کو موضوعِ تحقیق بنایا گیا ہے۔

کتاب کا متن دیکھ کر تحقیق کی سنجیدگی کا احساس ہو جاتا ہے۔ ہرچند کہ گلزار کی شخصیت اور تخلیقات کے حوالے سے کوئی نئی بات دکھائی نہیں دی۔ ان کے تمام ماخذات پہلے سے موجود مواد سے لیے گئے ہیں، اس کے باوجود گلزار کے حوالے سے یہ کتاب اہم اضافہ اور اچھی کوشش ہے۔

مصنفہ کی موضوع سے جستجو اور موضوع سے لگاؤ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں گلزاریات میں مزید تحقیقی دریچے وا کریں گی۔ گلزار نے خود بھی ان کے کام کو پسند کرتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ جہلم گلزار کی جنم بھومی ہے، یہ کتاب بھی وہیں سے شایع ہوئی ہے اور کتاب کو سلیقے سے شایع کیا گیا ہے۔


کتاب کا نام: آوازِ عصر (تجزیاتی مضامین)



- کتاب: آوازِ عصر (تجزیاتی مضامین)

- مصنف: ارشد محمود

- صفحات: 158

- ناشر: فکشن ہاؤس، لاہور

- قیمت: 300 روپے

اس کتاب کے مصنف ارشد محمود ہیں، جنہوں نے مذہب، تعلیم اور ثقافت پر تین کتابیں لکھی ہیں۔ زیرِ نظر کتاب ان کے مضامین کا مجموعہ ہے جو انہوں نے فیس بک پر لکھے تھے۔ اس کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں طویل اور مختصر مضامین شامل ہیں۔

مصنف کی سماجیات اور سیاسیات پر گہری نظر ہے، جس کا اظہار وہ بدلتی صورتحال کے ساتھ ساتھ کرتے رہتے ہیں۔ اس کتاب میں 22 طویل اور 19 مختصر مضامین شامل ہیں، جن کے ذریعے انہوں نے پاکستان کے نظریاتی، فکری، اساسی مسائل پر کھل کر بات کی ہے۔

چونکہ ان کا انداز بہت بے باک ہے، اسی انداز کی وجہ سے ان کی شہرت میں دن بدن اضافہ ہو رہاہے اور ان کی کتابیں بھی بہت فروخت ہوتی ہیں۔ بالخصوص نئی نسل ان کو پڑھنا چاہتی ہے، وہ تشنہ سوالات جن کا جواب معاشرے میں ناپید ہے، کسی حد تک اس کی تشفی ان کی کتابوں کے ذریعے ہوتی ہے۔

موجودہ کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ سرورق سعید ابراہیم کا بنایا ہوا ہے۔ ارشد محمود کی تمام کتابیں فکشن ہاؤس نے شایع کردی ہیں جو پہلے مختلف جگہوں سے شایع ہو رہی تھیں مگر سب کتابوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے، جو قارئین کے ساتھ ناانصافی ہے۔


کتاب کا نام: اسلام، پاکستان اور مغرب (علمی و ادبی تناظر)



- کتاب: اسلام، پاکستان اور مغرب (علمی و ادبی تناظر)

- مصنفہ: نجیبہ عارف

- صفحات: 290

- ناشر: ادارہ تحقیقات اسلامی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد

- قیمت: قیمت کتاب پر درج نہیں ہے

دورِ حاضر کے فکری مسائل پر ایک شاندار کتاب ہے۔ کتاب کے متن کی بات کرنے سے پہلے اس میں خاصے کی چیز دیباچہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں آج کے ہر نوجوان کو کم ازکم یہ دیباچہ ضرور پڑھنا چاہیے تا کہ معاشرے میں فکر و نظریات کے نام پر جعلسازی کو پہچان سکیں۔

کتاب کے تین مرکزی ابواب ہیں، جن میں اسلام اور عصر رواں، پاکستان: ماضی، حال، مستقبل، مرکز سے حاشیے تک: معاصر عالمی تحریکیں اور ان کا ردِ عمل شامل ہیں۔

ذیل میں درج حصے ہر ابواب میں موجود ہیں، جن میں ماضی، حال، مستقبل، پاکستان، اسلام، عالمی دنیا اوراردو ادب سمیت کئی گوشے ہیں، جن پر بات کی گئی ہے۔ ان موضوعات کا مطالعہ کرنے سے ذہن میں شعور کے کئی دریچے وا ہوں گے۔

کتاب بہت اہتمام سے شایع کی گئی ہے، اس طرح کی کتابوں کے لیے اگر مارکیٹنگ کو بھی مد نظر رکھا جائے تو تازہ افکار کی یہ روشنی بہت سے دماغ روشن کر سکتی ہے۔ ایسے ماحول میں جہاں اب کتاب لکھنے کا کام، عامیانہ رویوں کا شکار ہے، بالخصوص تحقیق کے شعبے میں زبوں حالی ہے، وہاں ایسی کثیر الجہتی اور عمدہ کتاب کو لکھنے پر مصنفہ مبارک باد کی مستحق ہیں۔


کتاب کا نام: لاریب (عقیدہ نوائی)



- کتاب: لاریب (عقیدہ نوائی)

- مصنف: نصیر ترابی

- صفحات: 144

- ناشر: پیراماؤنٹ بکس، کراچی

- قیمت: 300 روپے

زیر نظر کتاب پاکستان کے معروف اور اہم شاعر ’’نصیر ترابی‘‘ کی تازہ ترین کاوش ہے۔ یہ کتاب ان کے روحانی پہلو کو منکشف کرتی ہے۔ 54 عنوانات کے ساتھ حمد، نعت، مرثیہ اور دیگر روحانی اصناف کی شعر بندی ہے۔ پھر زبان کا برتاؤ انتہائی نستعلیق اور جاذبِ معنی ہے، جس کی وجہ سے ہر مصرعہ اورشعر کوزے میں دریا کو بند کیے ہوئے ہے۔

دورِ حاضر میں شاعری کے رجحان میں یہ روایت کا تازہ کلام ہے، جس کی گونج بہت دنوں تک سنائی دے گی۔ کتاب کو سلیقے سے شایع کیا گیا ہے، قیمت بھی مناسب ہے۔

اس کتاب کی سب سے خاص بات وہ زبان و بیان ہے جو اب خال خال دکھائی دیتا ہے۔ نصیر ترابی اس تہذیب اور زبان کے شاعر ہیں جو اب ہمارے معاشرے سے ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ ہمیں ایسی شخصیات کی قدر کرنی چاہیے کیونکہ یہ ہمارا تہذیبی اثاثہ ہیں۔

مہذب قوم اپنے حقیقی دانشوروں کی قدر کرتی ہے ورنہ ادبی میلوں اور کانفرنسوں کے نام پر پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس رقص جہالت سے ہم سب اچھی طرح واقف ہیں۔ یہ کتاب بار بار پڑھے جانے کے لائق ہے، آزمائش شرط ہے۔


کتاب کا نام: تحت اللفظ خوانی (ایک فنی مطالعہ)



- کتاب: تحت اللفظ خوانی (ایک فنی مطالعہ)

- مصنف: فرحان رضا

- صفحات: 248

- ناشر: پرنٹ ایکس، کراچی

- قیمت: 275 روپے

فرحان رضا کا تعلق ایک مشہور علمی و ادبی خانوادے سے ہے۔ کم عمری سے ہی انہوں نے تحت اللفظ خوانی کا آغاز کیا۔ نئی نسل میں ایسے نوجوان کا ہونا بہت خوش آئند بات ہے۔ یہ کتاب آٹھ ابواب پرمشتمل ہے، جس میں بالترتیب، تحت اللفظ مرثیہ خوانی کی تعریف، بنیادی تصورات، مختلف ادوار، جائزہ، تربیت اور اصطلاحوں سمیت دیگر پہلوؤں شامل ہیں جن پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

مصنف نے اس کتاب کے ذریعے "تحت اللفظ خوانی" کے فن پر ہر ممکن کوشش کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ علمی تحقیق کی جائے تا کہ قارئین اس سے استفادہ کر سکیں۔ کتاب کا متن، زبان و بیان اور پیشکش کا انداز دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں مزید تخلیقی سفر طے کریں گے۔

اس کتاب کی سب سے اہم بات زبان کی صحت اور فرحان رضا کا اس موضوع پر جذبے اور استقامت سے کام کرنا ہے جو پس منظر میں موجود ہے۔ لسانیات، مرثیہ نگاری، تحت اللفظ خوانی، صحت زبان پر یہ کتاب ایک اہم کاوش ہے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں اس فن پر یہ پہلی جامع کتاب ہے۔


کتاب کا نام: اذانِ فکر و ادب اور بوند بوند بوچھار (انجم فوقی بدایونی کی شخصیت اور خدمات)



- کتاب: اذانِ فکر و ادب اور بوند بوند بوچھار (انجم فوقی بدایونی کی شخصیت اور خدمات)

- مرتبہ: آصف انصاری

- صفحات: 350

- ناشر: ادارہ فوق الادب، کراچی

- قیمت: 500 روپے

ہندوستان کے ممتاز شاعر، دانشور اور مفکر انجم فوقی بدایونی کی شخصیت اورادبی خدمات کے تناظر میں یہ کتاب آصف انصاری نے مرتب کی ہے۔ اس کتاب کا انداز پیشکش سراپا عقیدت ہے۔

اس کتاب میں مذکورہ شخصیت کے تمام نمایاں پہلوؤں کو سمیٹا گیا ہے۔ اس کتاب میں ان کی شخصیت کے علاوہ ان کی تخلیقات کا تعارف، اقتباسات، ذاتی زندگی کے گوشے، ان پر ہونے والی تحقیق کے حوالے، مکتوبات اور ان کا شعری مجموعہ بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان اورہندوستان کے کئی قدآور شخصیات نے بھی انجم فوقی بدایونی کے علمی مقام کااعتراف کیا ہے۔ ان کے تاثرات بھی اس کتاب میں شامل ہیں۔

شعر و ادب اور بالخصوص زبان و لسانیات سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ کتاب بہت ہی اہم ثابت ہوگی، کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی عالم کی زندگی کیا ہوتی ہے اور وہ کس طرح اپنی فکر کی آبیاری کرتا ہے۔ اس عمدہ کتاب کی اشاعت پر آصف انصاری مبارک باد کے مستحق ہیں۔