صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے پوش علاقے حیات آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے میجر اور ان کے گن مین شہید جبکہ متعدد اہلکار زخمی ہوگئے۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) آپریشنز سجاد خان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں ایف سی کے میجر جمال شیران اور ان کے گن مین ظاہر شاہ شہید ہوگئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں 10 سے 12 کلو باردوی مواد اور 125 موٹر سائیکل کا استعمال کیا گیا۔

بعد ازاں آئی ایس پی آر کی جانب سےجاری اعلامیے کے مطابق 'موٹرسائیکل پر سوارایک خودکش بمبار نے حیات آباد کے علاقے مین گشت میں مامور ایف سی کی گاڑی کو نشانہ بنایاجس کے نتیجے میں میجر جمال شیران شہید جبکہ چار جوان زخمی ہوگئے'۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) کنٹونمنٹ پشاور عمران ملک کے مطابق دھماکا حیات آباد میں باغ ناران چوک کے نزدیک سیکیورٹی فورسز کے گاڑی کے قریب ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ ایف سی کا قافلہ حیات آباد میں واقع اپنے کیمپ سے قلعہ بالا حصار کے ہیڈکوارٹرز کی جانب رواں دواں تھا کہ موٹر سائیکل سوار خودکش حملہ آور نے قافلے کو نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر ایجنسی میں دھماکا، سیکیورٹی اہلکارسمیت 4 افراد جاں بحق

دھماکے سے تباہ ہونے والی گاڑی—فوٹو: علی اکبر
دھماکے سے تباہ ہونے والی گاڑی—فوٹو: علی اکبر

ایس پی عمران ملک کے مطابق دھماکے میں ایف سی میجر سمیت 2 اہلکار شہید جبکہ سیکیورٹی فورسز کی دو گاڑیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔

دھماکے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ زخمیوں کو حیات آباد میڈیکل کمپلکس منتقل کردیا گیا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔

مزید پڑھیں: پشاور میں ججز کی گاڑی پر خودکش حملہ، ڈرائیور ہلاک

واضح رہے کہ حیات آباد پشاور کا ایک پوش علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔

رواں سال فروری میں بھی پشاور میں ججز کی گاڑی پر خودکش حملے کے نتیجے میں ڈرائیور جاں بحق جبکہ 4 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

اس حملے میں ایک موٹرسائیکل سوار خودکش حملہ آور نے پشاور کے علاقے حیات آباد فیز 5 میں سول ججز کو لے جانے والی گاڑی کو نشانہ بنایا تھا۔