پاکستانی عدالتوں کے بڑے فیصلے

پاناما لیکس اسکینڈل کیس کےفیصلے کے علاوہ بھی کئی ایسے عدالتی فیصلے ہیں، جنہوں نے ملکی سیاست،تاریخ و حکومت پر اثر چھوڑا۔
اپ ڈیٹ 06 جولائ 2018 09:49am

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاناما اسکینڈل کیس سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ صرف حالیہ دور بلکہ ملکی عدالتی و سیاسی تاریخ کا بھی اہم فیصلہ ہے۔

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ خود دنیا کے بڑے اسکینڈل کا اعزاز حاصل کرنے والے پاناما لیکس کے حوالے سے بھی دنیا کا اہم ترین فیصلہ ہے، کیوں کہ آج تک دنیا میں کہیں بھی، کسی بھی ملک میں کسی وزیراعظم یا صدر کے خلاف کوئی عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

سپریم کورٹ نے پاناما اسکینڈل کیس سے متعلق اپنا فیصلہ 21 جولائی کو محفوظ کیا تھا، جسے 8 دن بعد 28 جولائی کو سنایا گیا اور وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے کا حکم دے دیا۔

بلاشبہ پاناما اسکینڈل سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ پاکستانی تاریخ و سیاست کے حوالے سے اہم ترین اور بڑا فیصلہ ہے، لیکن ملک کی سب سے بڑی عدالت کی جانب سے اس سے پہلے بھی بڑے فیصلے سنائے جاچکے ہیں۔

سپریم کورٹ نے تاریخ میں اپنا نام درج کرواتے ہوئے، حکومت وقت سمیت کئی اہم اور تاریخی معاملات پر فیصلے سنائے، جنہیں آج بھی پاکستان کے سب سے بڑے عدالتی کیسز کا درجہ حاصل ہے۔

حج اسکینڈل حامد سعید کی گرفتاری

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی گزشتہ حکومت کے دوران 2010 میں سامنے آنے والے حج کرپشن اسکینڈل کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں 6 سال تک جاری رہی۔

حج اسکینڈل کیس کے مرکزی ملزمان میں اُس وقت کے وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی سمیت ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) حج راؤ شکیل اور سابق جوائنٹ سیکریٹری مذہبی امور آفتاب الاسلام سمیت دیگر عہدیداروں کے نام سامنے آئے۔

عدالت نے پہلے ملزمان پر فرد جرم عائد کی، جس کے بعد جون 2016 میں حامد سعید کاظمی سمیت تمام ملزمان کو قید اور جرمانے کی سزا سنائی۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی اہلیہ بے نظیر بھٹو کے خلاف 1998 سے دائر سوئس کرپشن کیس میں سپریم کورٹ نے پیپلزپارٹی کے سابقہ دورِحکومت میں اُس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو اپنے صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئٹزرلینڈ کو خط لکھ کر کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر توہین عدالت کا مقدمہ چلایا گیا۔

عدالت نے یوسف رضا گیلانی کو 2012 میں توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں نااہل قرار دیا، جس کے بعد وہ فوری طور پر وزیراعظم کے عہدے سے الگ ہوگئے اور پانچ سال تک کوئی بھی الیکشن لڑنے کے لیے بھی نااہل قرار پائے۔

عدالت کے اس فیصلے سے اُس وقت کی حکومت مشکلات کا شکار ہوگئی اور پاکستانی سیاست لڑا کھڑا گئی، کئی لوگوں نے اس فیصلے کو جمہوریت مخالف فیصلہ بھی قرار دیا۔

پی سی او کیس

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

پروژنل کانسٹیٹیوشنل آرڈر (پی سی او) ججز کیس کا فیصلہ بھی سپریم کورٹ کی جانب سے جون 2009 میں سنایا گیا۔

اس فیصلے کو سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے آئینی فیصلوں میں نمایاں حیثیت حاصل ہے۔

پی سی او ججز کیس میں سپریم کورٹ نے سابق آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے 3 نومبر 2007 کو اٹھائے گئے اقدامات کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔

جنرل (ر) پرویز مشرف نے 3 نومبر کو ملک میں پی سی او کے تحت ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے، ملکی آئین کو بھی منسوخ کردیا تھا اور ججز کی نظربندی کا حکم دیا گیا تھا۔

پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت 7 معزز ججز کو ہٹاکر 24 نومبر2007 کو چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر سمیت 7 دیگر ججز کو پی سی او کے تحت تعینات کیا تھا۔

مارشل لاء کی توثیق

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب جمہوری حکومت کو 5 جولائی 1977 کو ختم کرکے مارشل لاء نافذ کرنے اور انہیں گرفتار کیے جانے کے خلاف ان کی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں اُس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیاء الحق کے خلاف آئین کے آرٹیکل 148 (3) کے تحت درخواست داخل کی تھی۔

انہوں نے درخواست میں اپنے شوہر اور منتخب وزیراعظم کی حکومت کا تختہ الٹنے اور انہیں گرفتار کرنے سے متعلق عدالت سے ریلیف مانگا تھا، تاہم نومبر1977 کو عدالت نے مارشل لاء کی توثیق کی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے ایسے فیصلوں کی وجہ سے کئی بار پاکستان کے عدالتی نظام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ذوالفقارعلی بھٹو ٹرائل کیس

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کرنے کے کئی دن بعد انہیں 1974 میں قتل کیے گئے سیاستدان اور صدارتی امیدوار احمد رضا قصوری کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

ابتدائی طور پر ذوالفقار علی بھٹو پر لاہور ہائی کورٹ میں مقدمہ چلایا گیا اور عدالت نے انہیں پھانسی کی سزا سنائی۔

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے پھانسی کی سزا کے خلاف ذوالفقار علی بھٹو کی قانونی ٹیم نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، تاہم عدالت نے فیصلہ دیا کہ پھانسی کی سزا صدر مملکت ہی تبدیل کرسکتے ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو نے اُس وقت کے آرمی چیف اور صدر جنرل ضیاء الحق کو درخواست کرنے سے پھانسی پر لٹکنا بہتر سمجھا، اس لیے انہوں نے صدر سے رحم کی اپیل نہیں کی۔

یوں پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کی جانب سے مداخلت نہ کرنے اور دوسری اعلیٰ ترین عدالت کی جانب سے منتخب وزیراعظم کو پھانسی کی سزا سنائے جانے پر آج تک عدالت کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

مولوی تمیز الدین کیس

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

یہ کیس سپریم کورٹ آف پاکستان سے پہلے کا ہے، اُس وقت ملک میں فیڈرل کورٹ کا نظام رائج تھا۔

مولوی تمیز الدین (ایم ٹی) خان جو پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی کے صدر (اسپیکر) تھے، انہوں نے 1954 میں گورنر جنرل غلام محمد کی جانب سے آئین ساز اسمبلی کو توڑنے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔

گورنر جنرل کی جانب سے اسی درخواست کے خلاف فیڈرل کورٹ میں درخواست دائر کی گئی، جس نے وفاقی حکومت اور گورنر جنرل کے حق میں فیصلہ دیا۔

ان کیسز کے علاوہ بھی پاکستان کی عدالتوں کی جانب سے کرپشن، قتل و غارت گری، دہشت گردی، حکومتی نااہلی اور لاقانونیت کے خلاف کئی اہم فیصلے دیے گئے ہیں۔

تاہم مندرجہ بالا کیسز کا شمار ملک کے بڑے، آئینی، قانونی و سیاسی کیسز میں ہوتا ہے، جن کے فیصلوں نے ملکی تاریخ، حکومت و سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے۔