سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیراعظم نواز شریف کوآئین کے آرٹیکل 62 کے تحت 'دیانت دار' نہ ہونے پر مملکت کے سربراہ کے عہدے سے نااہل قرار دے دیا۔

سرپیم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کی نااہلی کا حکم جاری کرنے کا سبب شریف خاندان کے مالی معاملات کی تفتیش کے لیے تشکیل دی گئی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے 10 والیم پر مشتمل رپورٹ کا مرہون منت نہیں تھا، درحقیقت ججز نے یہ کہتے ہوئے تقریباً ان سارے معاملات کو تفتیش اور جائزے کے لیے احتساب عدالت کو بھیج دیے ہیں کہ یہ اعلیٰ عدلیہ کے دائرے میں نہیں آتے۔

تاہم جے آئی ٹی نے متحدہ عرب امارات سے ججوں کے لیے نواز شریف کی نااہلی کا حکم صادر کرنے کے لیے ایک اہم ٹینکیکل پہلو نکال لایا کیونکہ یہ ایک ایسا الزام تھا جس کو نواز شریف کے وکیل مسترد نہ کر سکے۔

اقامہ نے نواز شریف کو گرادیا

جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ انھیں متحدہ عرب امارات کےجبل علی فری زون اتھارٹی (جافزا) سے براہ راست ثبوت ملے ہیں جو نواز شریف کے نہ صرف کمپنی کے چیئرمین ہونے کی تصدیق کرتے ہیں بلکہ 7 اگست 2006 سے 20 اپریل 2014 کے دوران وزیراعظم کا عہدہ حاصل کرنے کے ایک سال بعد بھی دس ہزار درہم تنخوا حاصل کی لیکن کاغذات نامزدگی میں اس کو شامل نہیں کیا۔

نواز شریف کی جانب سے ابتدا میں اس کو مسترد کیا گیا تھا۔

اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے سوالاٹ اٹھائے جانے کے بعد نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث احمد نے عدالت کے سامنے تسلیم کیا تھا کہ وزیراعظم کے چھوٹے بیٹے حسن نواز کیپٹل ایف زیڈ ای کے مالک ہیں اور نواز شریف اس کے چیئرمین ہیں تاہم ان کا زور اس بات پر تھا کہ وزیراعظم اس کے علامتی چیئرمین ہیں اور انھوں نے کوئی تنخوا حاصل نہیں کی۔

خواجہ حارث کا موقف تھا کہ اس انتظام کا مقصد متحدہ عرب امارات میں اقامہ حاصل کرنا تھا۔

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے قوانین کے مطابق تمام ملازمین کو متحدہ عرب امارات ویج پروٹیکشن سسٹم (ڈبلیو پی ایس) کے تحت بینک کے ذریعے تنخوا جاری کرنا لازمی ہے اور قانون کی پاسداری میں ناکام کمپنی کو بلیک لسٹ قرار دے کر ختم کردیا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم کے عہدے کو تیکنیکی اعتبار سے اسی نقطے نے گرادیا۔

سپریم کورٹ نے جمعے کو اپنے فیصلے میں تحریر کیا کہ 'اس عدالت کے لیے دوسرا نقطہ جو ابھر کر سامنے آیا وہ مدعا علیہ نمبر ایک (نواز شریف) بطور چیئرمین کیپٹل ایف زیڈ ای تنخوا کے حق دار تھے اور تنخوا کے حوالے سے 1976 کے پیپل ایکٹ (روپا) کے سیکشن 12(2) کے تحت ظاہر کرنا ضروی تھا اور اس میں ناکامی کی صورت میں وہ نااہلی کے حق دار ہیں'۔

روپا میں اصطلاح 'اثاثہ' کی تعریف نہیں کی گئی ہے اسی لیے عدالت کو اس کا مطلب نکالنے کے لیے بلیک لاز ڈکشنری پرانحصار کرنا پڑا جہاں سے انھیں درج ذیل نتائج موصول ہوئے:

1)نقد، مشینری، اشیا، زمین اور عمارت جو جنس کی صورت میں حاصل کی جائے۔

2)دوسروں کے خلاف نفاذ کے قابل دعویٰ جیسا کہ قابل وصول اکاؤنٹس۔

3)کاپی رائٹ اور ٹریڈ مارک جیسے حقوق وغیرہ۔

4) خیرسگالی جیسا ایک مفروضہ

عدالت کا کہنا تھا کہ 'لفظ 'قابل وصولی' کی تعریف بلیک لاز ڈکشنری میں اوپر بیان کیے گئے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب ہے کہ ایسی کوئی چیز جو حاصل کی جاسکتی ہو یا جو موجودہ وقت میں قابل ادا نہ ہو'۔

سپریم کورٹ نے لفظ 'قابل وصولی' کا مطلب بزنس ڈکشنری سے بھی حاصل کیا۔

یوں نواز شریف کی قسمت کا فیصلہ ہوگیا۔

عدالت کےمطابق 'اوپر دیے گئے بیان کے بعد اس کی تعریف نئے سرے سے وضع کی گئی کہ تنخوا کے حق دار چاہے وہ تنخوا وصول کرے یا نہ کرے وہ قانونی اور عملی مقاصد کے لیے اس کو اثاثہ تصور کیا جائے گا'۔

'جب یہ قانونی اور عملی طور پر اثاثہ قرار پایا تو مدعا علیہ نمبر ایک کو روپا کے سیکشن 12(2) کے تحت اپنے کاغذات نامزدگی میں اس کو ظاہر کرنے کی ضرورت تھی'۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف کے وکیل نے خود تصدیق کی کہ وزیراعظم نے ضرورت کے تحت اقامہ حاصل کیا اور وہ کیپٹل ایف زیڈ ای کے چیئرمین کے طور پر اور وہ تنخوا کے حق دار تھے تاہم وہ تنخوا حاصل نہ کرنے کے حوالے سے زور دیتے رہے۔

عدالت نے وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ 'مدعاعلیہ نمبرایک کی جانب سے انکار نہیں کیا گیا کہ وہ کپیٹل ایف زیڈ ای کے چیئرمین کے طور پر تنخوا کے حق دار تھے اس لیے ان کی جانب سے تنخوا کو ظاہر نہ کرنا باوجود اس کے کہ وہ قابل وصول تنخوا کوحاصل نہ کرنا بھی ان کے اثاثوں میں شمار ہوتا ہے'۔

عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو 2013 کے عام انتخابات میں روپا کے سیکشن 12(2) کے تحت اپنے کاغذات نامزدگی میں قابل وصول تنخوا کو ظاہر نہ کرنے پر 'بددیانت' قرار دیا۔

عدالت نے کہا کہ 'مدعاعلیہ نمبر ایک نے اپنے اثاثے ظاہر نہیں کیے اور قانون کی خلاف ورزی پر اس کو غلط معلومات فراہم کرنے کے زمرے میں شمار کیاجائے گا اس لیے وہ روپا کے سیکشن 99(1) (ایف) اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت دیانت دار نہیں رہے۔

پانچوں ججز نے مشترکہ طور پر فیصلہ دیا کہ نواز شریف کو جانا پڑے گا۔