اسلام آباد: سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا۔

ملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے کیس کا حتمی فیصلہ عدالت عظمیٰ کے کمرہ نمبر 1 میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے سنایا۔

فیصلہ سنانے سے قبل ججز نے اپنے چیمبر میں مشاورت کی۔

عدالت عظمٰی کے 5 رکنی بینچ کے سربراہ سینئر ترین جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ابتدا میں 20 اپریل کے فیصلے کا حوالہ دیا، جس کے بعد جسٹس اعجاز افضل نے فیصلہ پڑھ کر سنایا، جس کے تحت پانچوں ججوں نے متفقہ طور پر وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا۔

25 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ کے پانچ جج صاحبان کی جانب سے وزیر اعظم نواز شریف نااہل قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ نواز شریف نے ’کیپیٹل ایف زیڈ ای‘ سے متعلق کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپائے، نواز شریف عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 12 کی ذیلی شق ’ٹو ایف‘ اور آرٹیکل 62 کی شق ’ون ایف‘ کے تحت صادق نہیں رہے، نواز شریف کو رکن مجلس شوریٰ کے رکن کے طور پر نااہل قرار دیتے ہیں، الیکشن کمیشن نواز شریف کی نااہلی کا نوٹیفکیشن فوری طور پر جاری کرے، نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد نواز شریف وزیر اعظم نہیں رہیں گے۔

سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ اگر قومی احتساب بیورو (نیب) نے حدیبیہ پیپر ملز کی اپیل سپریم کورٹ میں داخل کی تو اسے سنا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے نیب کو نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف لندن کے 4 فلیٹس سے متعلق ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا جبکہ نواز شریف، حسن اور حسین نواز کے خلاف عزیزیہ اسٹیل ملز، ہل میٹل سمیت بیرونی ممالک میں قائم دیگر 16 کمپنیوں سے متعلق بھی ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ اسحٰق ڈار نے ظاہر آمدن سے زائد اثاثے بنائے اُن کے کے خلاف بھی ریفرنس داخل کیا جائے، فریقین کے اقدامات سے بلواسطہ یا بلاواسطہ تعلق ثابت ہو تو شیخ سعید، موسیٰ غنی، کاشف مسعود، جاوید کیانی اور سعید احمد کے خلاف بھی نیب کارروائی کرے۔

سپریم کورٹ نے تحریری فیصلے میں نیب کو تمام ریفرنسز دائر کرنے کے لیے ٹائم فریم بھی دیا گیا۔

عدالتی حکم میں کہا گیا نیب احتساب عدالت راولپنڈی میں عدالتی فیصلے کے ڈیڑھ ماہ کے اندر ریفرنسز داخل کرے، ریفرنسز جے آئی ٹی کی جانب سے جمع کردہ مواد، ایف آئی اے اور نیب کو حاصل دستاویزات کی روشنی میں داخل کیا جائے، جے آئی ٹی کے بیرون ممالک کو لکھے گئے خطوط کو بھی مدنظر رکھا جائے جبکہ احتساب عدالت ان ریفرنسز کا فیصلہ دائر کیے جانے کے 6 ماہ کے اندر کرے۔

عدالتی فیصلے میں قرار دیا گیا احتساب عدالت جعلی ٹرسٹ ڈیڈ، جھوٹی دستاویزات اور بیان حلفی کسی فرد کی جانب سے داخل کرانے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا حق رکھتی ہے۔

سپریم کورٹ کا فیصلے میں کہنا ہے کہ صدر مملکت جمہوری عمل کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے آئین و قانون کے تحت تمام ضروری اقدامات اٹھائیں۔

فیصلے میں چیف جسٹس کو یہ درخواست کی گئی کہ وہ سپریم کورٹ کے ایک جج کو نامزد کریں، جو عدالتی فیصلے کو اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کرانے کے ساتھ نیب اور احتساب عدالت کے معاملات کی نگرانی بھی کریں۔

عدالت نے حکم دیا کہ جے آئی ٹی ممبران کی ملازمتوں کو تحفظ فراہم کیا جائے، سپریم کورٹ کے علم میں لائے بغیر جے آئی ٹی ممبران کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔

فیصلے میں جے آئی ٹی ممبران اور ان کے عملے، پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی کے وکلاء کی تعریف بھی کی گئی۔

وزیراعظم اب بھی عہدے پر موجود، اٹارنی جنرل

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے وضاحت کی کہ وزیراعظم ابھی بھی عہدے پر موجود ہیں اور اس وقت تک اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیتے رہیں گے، جب تک صدرمملکت انہیں عہدہ چھوڑنے کے لیے نہ کہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 190 کے تحت صدر کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ اس بات کا فیصلہ کرسکیں کہ موجودہ وزیراعظم کو عہدہ چھوڑنا ہے یا نہیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں خاص طور پر اس بات کو واضح کیا ہے کہ 'صدر جمہوری عمل کی ہموار منتقلی کو یقینی بنائیں'۔

تاہم سابق وزیر احسن اقبال نے پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ نواز شریف نے سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلہ آتے ہی استعفیٰ دے دیا تھا اور اس وقت ملک میں وزیراعظم اور کابینہ موجود نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے اطراف ہائی الرٹ

سپریم کورٹ کے اطراف سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے—۔فوٹو/ اے پی
سپریم کورٹ کے اطراف سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے—۔فوٹو/ اے پی

اس موقع پر جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد میں ہائی الرٹ رہا، سپریم کورٹ کے اطراف سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے اور پولیس کے علاوہ رینجرز اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا تھا۔

دوسری جانب سپریم کورٹ میں رجسٹرار کی جانب سے جاری کیے گئے پاسز رکھنے والوں کو ہی داخلے کی اجازت دی گئی اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔

پاناما انکشاف

پاناما لیکس کے معاملے نے ملکی سیاست میں اُس وقت ہلچل مچائی، جب گذشتہ سال اپریل میں بیرون ملک ٹیکس کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی شخصیات کے 'آف شور' مالی معاملات عیاں ہو گئے تھے۔

پاناما پیپرز کی جانب سے انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل ہے، جس میں روس کے صدر ولادی میر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، شامی صدر اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سمیت درجنوں حکمرانوں کے نام شامل تھے۔

ویب سائٹ پر موجود ڈیٹا کے مطابق، پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں مریم، حسن اور حسین ’کئی کمپنیوں کے مالکان ہیں یا پھر ان کی رقوم کی منتقلی کے مجاز تھے‘۔

موزیک فانسیکا کے نجی ڈیٹا بیس سے 2.6 ٹیرا بائٹس پر مشتمل عام ہونے والی ان معلومات کو امریکی سفارتی مراسلوں سے بھی بڑا قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: پاناما کیس کا فیصلہ جاری کرنے والے ججز کون ہیں؟

ان انکشافات کے بعد اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا اور بعدازاں اس حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر سماعت کے بعد رواں سال 20 اپریل کو وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کی مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پاناما کیس کی سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے جے آئی ٹی کو حکم دیا تھا کہ وہ 60 روز کے اندر اس معاملے کی تحقیقات مکمل کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے جس کی بنیاد پر حتمی فیصلہ سنایا جائے گا۔

جے آئی ٹی نے 2 ماہ کی تحقیقات کے بعد رواں ماہ 10 جولائی کو سپریم کورٹ میں اپنی حتمی رپورٹ جمع کروائی تھی، 10 جلدوں پر مشتمل اس رپورٹ میں وزیراعظم سمیت شریف خاندان پر کئی الزامات لگاتے ہوئے مختلف شواہد سامنے لائے گئے تھے۔

جس کے بعد جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پانچ سماعتوں کے دوران فریقین کے دلائل سنے اور 21 جولائی کو پاناما عملدرآمد کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو آج سنایا گیا۔