سرخ گوشت کا کم استعمال خرابی صحت کا باعث

14 اگست 2017

ای میل

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو

جسم میں وٹامن ڈی کی کمی ہڈیوں کی کمزوری، دانتوں کے امراض، دمہ اور ذیابیطس جیسے امراض کا باعث بن سکتی ہے تاہم سرخ گوشت، کلیجی اور مغز وغیرہ کا استعمال اس سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

یوکے نیشنل ڈائیٹ اینڈ نیوٹریشن سروے کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ دن بھر میں چالیس گرام سے کم سرخ گوشت کھاتے ہیں، ان میں زنک، آئرن، وٹامن بی 12، پوٹاشیم اور وٹامن ڈی کی کمی دکھنے میں آتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ سرخ گوشت بہت کم کھانا اور اچھی صحت کے لیے درکار اجزاءکی کمی میں تعلق موجود ہے۔

مزید پڑھیں : کلیجی اور گردے کھانے سے صحت پر پڑنے والے اثرات

تحقیق کے مطابق سرخ گوشت غذائیت بخش اجزاءسے بھرپور غذا ہے جو کہ آئرن کے لیے بہترین ذریعہ بھی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل نیوٹریشنز میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ امپرئیل کالج لندن کی تحقیق میں بتایا گیا کہ آئرن کی جسم میں زیادہ مقدار خون کی شریانوں کے امراض سے تحفظ دیتی ہے جو کہ امراض قلب کا باعث بنتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : سرخ گوشت کا استعمال امراض قلب سے بچانے میں مددگار

تحقیق کے مطابق اگر جسم میں آئرن کی سطح کم ہو تو خون کی شریانیں سکڑنے لگتی ہیں۔

جیسا درج کیا جاچکا ہے کہ سرخ گوشت، کلیجی، گردے سمیت پالک، خشک میوہ جات اور دلیہ وغیرہ میں آئرن کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو ہارٹ اٹیک ہوچکا ہو اور آئرن کی سطح کم ہو تو ان کے لیے زیادہ خطرہ ہوتا ہے جس سے بچنے کے لیے آئرن سپلیمنٹ کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے سے کیا جاسکتا ہے، تاہم سرخ گوشت کا بہت زیادہ استعمال کرنا نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے۔