فنڈز کی عدم فراہمی: دادو ڈیم کی تکمیل 4 برس تاخیر کا شکار

ای میل

حیدرآباد: صوبہ سندھ کے ضلع دادو میں تعمیر ہونے والے ’نئی گج‘ ڈیم کی تکمیل مناسب فنڈنگ کی عدم فراہمی کی وجہ سے چار برس کی تاخیر کا شکار ہوگئی۔

تاہم دوسری جانب ضلع جامشورو میں دراوٹ ڈیم کا منصوبہ مکمل کیا جاچکا ہے جسے بہت جلد سندھ حکومت کے حوالے کر دیا جائے گا۔

نئی گج ڈیم کی تعمیر کا سلسلہ 25 اپریل 2012 کو شروع ہوا جسے اپریل 2015 تک مکمل ہونا تھا، لیکن غیر ضروری تاخیر کی وجہ سے اب یہ منصوبہ جون 2019 تک مکمل ہوگا۔

غیرضروری تاخیر کی وجہ سے ضلع دادو کے اس منصوبے کی لاگت جو مقررہ وقت پر مکمل ہونے کی صورت میں 16 ارب 92 کروڑ روپے تھی، بڑھ کر 26 ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔

مزید پڑھیں: چینی کمپنی کو داسو ڈیم پر کام کی اجازت مل گئی

واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے ڈیم کا دورہ کیا، جہاں انہیں ڈیم پر جاری کام کے حوالے سے آگاہ کیا گیا، اس کے علاوہ انہوں نے جامشورو کے دراوٹ ڈیم کا بھی دورہ کیا۔

اس موقع پر واپڈا چیئرمین کو ضلع دادو میں زیرِ تعمیر ڈیم کی تکمیل کی تاخیر کے حوالے سے آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ اگر فوری طور پر فنڈز جاری کر دیے جائیں تو یہ منصوبہ آئندہ 2 برس میں مکمل ہو جائے گا۔

اس موقع پر چیئرمین واپڈا کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور کم ہوتے پانی کے ذخائر وہ عوامل ہیں جو پاکستان کو قلتِ آب کی جانب دھکیل رہے ہیں، اگر اس معاملے کو نہیں اٹھایا گیا تو جلد پاکستان پانی کی کمی کا شکار ہوجائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ واپڈا ملک میں بڑھتی ہوئی پانی کی طلب کی وجہ سے پانی کے وسائل کو بڑھانے میں مصروفِ عمل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں سالانہ 25 ارب کا پانی ضائع ہونے کا انکشاف

انہوں نے کہا کہ واپڈا دیامیر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کو جلد سے جلد مکمل کرنے پر زور دیتا ہے جبکہ نئی گج جیسے منصوبوں پر بھی تیزی سے کام کرنے کی ضرورت کو محسوس کرتا ہے۔

واپڈا چیئرمین نے حکومت پر زور دیا کہ پاکستان میں چھوٹے اور درمیانی ڈیم بنانے کے بجائے ہر عشرے میں کم از کم ایک بڑا ڈیم تعمیر کیا جائے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے دراوٹ ڈیم کی تکمیل پر اطمینان کا اظہار کیا جسے جلد ہی سندھ حکومت کو دے دیا جائے گا جبکہ انہیں بتایا گیا کہ بارش کے بعد جلد ہی ڈیم میں پانی جمع ہو جائے گا۔


یہ خبر 16 اگست 2017 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی