• KHI: Partly Cloudy 28.5°C
  • LHR: Clear 35°C
  • ISB: Partly Cloudy 25.5°C
  • KHI: Partly Cloudy 28.5°C
  • LHR: Clear 35°C
  • ISB: Partly Cloudy 25.5°C

’میرا نام کہاں ہے؟‘ شناخت کیلئے کوشاں افغان خواتین

شائع August 24, 2017 اپ ڈیٹ August 26, 2017
مہم کی سرگرم کارکن تہمینہ آرائیں اپنی ایک ساتھی سے پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے—فوٹو: اے ایف پی
مہم کی سرگرم کارکن تہمینہ آرائیں اپنی ایک ساتھی سے پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے—فوٹو: اے ایف پی

افغانستان جیسے قدامت پسند اور پدر شاہی ملک میں ایک سوشل میڈیا مہم تیزی سے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں مصروف ہے جس میں افغان مردوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ عوامی مقامات پر اپنی بیویوں کو اُن کے نام سے پکاریں۔

واضح رہے کہ افغانستان میں یہ معمول کی بات ہے کہ خواتین کو ’فلاں کی بیوی‘، فلاں کی بیٹی‘ کہہ کر پکارا جائے جبکہ اکثر اوقات خواتین کے نام شادی کے دعوت ناموں یہاں تک قبر کے کُتبوں پر بھی درج نہیں کیے جاتے۔

لیکن حال ہی میں #WhereIsMyName (#نامم_کجاست) کے نام سے شروع ہونے والی آن لائن مہم صدیوں پرانی اس روایت کو چیلنج کررہی ہے۔

افغانستان کی نوجوان خواتین پر مشتمل گروپ کی جانب سے شروع کی گئی اس مہم میں خواتین کی شناخت کے حق کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جارہی ہے۔

مہم کا حصہ 26 سالہ تہمینہ آرائیں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’میں اس مہم کا حصہ اس لیے بنی کیونکہ میں تبدیلی دیکھنا چاہتی ہوں، میں اس بات سے تنگ آچکی ہوں کہ ہم اکیسویں صدی میں بھی قرون وسط دور کی زندگی گزار رہے ہیں‘۔

ایک خاتون اپنے فون میں پروگرام کی ویڈیو ریکارڈ کرتے ہوئے—فوٹو: اے ایف پی
ایک خاتون اپنے فون میں پروگرام کی ویڈیو ریکارڈ کرتے ہوئے—فوٹو: اے ایف پی

اس تحریک کا آغاز گذشتہ ماہ جولائی کے آغاز میں افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں ہوا، جب مٹھی بار خواتین نے ’میرا نام کہاں ہے‘ کے ہیش ٹیگ کا استعمال کرتے ہوئے سماجی روابط کی مشہور ویب سائٹس ٹوئٹر اور فیس بک پر تصاویر اور اپنے خیالات پوسٹ کیے۔

جس کے بعد افغانستان کی ہزاروں خواتین اور کئی ایسے مرد جو اپنی بیویوں کے نام کا استعمال کیا کرتے تھے، مہم میں شامل ہوگئے۔

مقامی نیوز چینلز پر اہمیت حاصل کرنے والے اس معاملے پر افغانستان کی مشہور شخصیات بھی آگے آئیں۔

گذشتہ ہفتے اس مہم کا پہلا عوامی پروگرام افغان دارالحکومت کابل میں ہوا، جس میں درجنوں خواتین نے شرکت کی، اس پروگرام میں حکومتی وزراء اور متعدد اسکالرز نے بھی تقاریر کیں۔

اس پروگرام کے انعقاد میں مدد کرنے والی تہمینہ آرائیں کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک پرانی سوچ کے خاتمے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ہماری خواتین اپنے نام سے پکارے جانے کے بنیادی حق کے بارے میں جانیں‘۔

دوسرے درجے کا شہری؟

20 سالہ طالبہ صابرہ مددی کہتی ہیں کہ ایک بار مجھے اپنے ٹیچر سے متعدد بار کہنا پڑا کہ وہ کلاس میں مجھے میرے نام سے پکاریں، لیکن پھر بھی وہ خاندانی نام استعمال کرتے تاکہ ’لڑکوں کو میری شناخت نہ پتہ چل جائے‘۔

کابل میں مہم کے پہلے ایونٹ میں شریک افغان خواتین—فوٹو: اے ایف پی
کابل میں مہم کے پہلے ایونٹ میں شریک افغان خواتین—فوٹو: اے ایف پی

صابرہ کے مطابق ’جب کوئی مجھے میرے نام کے علاوہ کسی اور نام سے پکارتا ہے تو مجھے بہت برا لگتا ہے، جیسے میں انسان نہیں، معاشرہ مجھے کسی اور کی ملکیت کے طور پر دیکھتا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: افغان عورتوں کا مستقبل

دوسری جانب چند دیہی علاقے ایسے بھی ہیں جہاں تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے اور مرد تمام عورتوں کو ایک ہی نام سے پکارتے ہیں جس کا ترجمہ ’سیاہ سر والی‘ ہوتا ہے۔

عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان کے لیے خواتین کو نام نہ دیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ مردوں کے معاشرے میں خواتین کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔

ماہر عمرانیات کے مطابق یہ روایت افغان کے قبائل سے چلی آرہی ہے جن کا ماننا ہے کہ اگر کسی شخص کی بیوی کو اس کے اصل نام سے پکارا جائے تو اس کے خاوند کی عزت ختم ہوجاتی ہے۔

کابل یونیورسٹی میں سوشل سائنسز کے پروفیسر محمد عامر کماوال نے مذہب کو اس کا ذمہ دار قرار نہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ روایت صدیوں سے چلی آرہی ہے، ہمارا معاشرہ انتہائی قدامت پسند ہے اور اگر عورت کو اس کے نام سے پکارا جائے تو افغان افراد شرم محسوس کریں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’قرآن مجید میں ایسا کہیں نہیں لکھا کہ خواتین کو ان کے نام سے نہ پکارا جائے لیکن قدامت پسند مُلاؤں نے کچھ آیات کو غلط انداز میں پیش کیا ہے‘۔

مغربیت کا الزام

افغان خواتین کی اس مہم نے اُس وقت خصوصی توجہ حاصل کی جب افغان گلوکار فرہاد داریا نے اپنی اور اہلیہ کی تصویر انٹرنیٹ پر شیئر کی اور ساتھ ان کا نام بھی لکھا۔

لیکن اس مہم کو بہت زیادہ منفی ردعمل کا بھی سامنا ہے۔

مزید پڑھیں: افغانستان: خواتین کے حقوق میں مذہبی رہنما اہم رکاوٹ

ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا، ’بجائے یہ کہنے کہ میرا نام کہاں ہے؟ یہ کہنا بہتر ہوگا کہ میرا حجاب کہاں ہے، خدا عورتوں کو اتنا بے شرم کبھی نہ بنائے‘۔

ایک اور صارف نے مہم کو ’افغان خواتین کو گمراہ‘ کرنے کی وجہ اور انہیں مغربی بنانے کی کوشش قرار دیا۔

تہمینہ آرائیں کا کہنا تھا کہ مہم کے لیے کام کرنے والی خواتین کو ’طوائف‘ تک کہا جارہا ہے، انہوں نے تسلیم کیا کہ اپنی آواز بلند کرکے انہوں نے ایک رِسک لیا ہے۔

اس پیغام کو افغانستان کی تمام عورتوں تک پہنچانا آسان نہیں، بہت کم خواتین کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے جبکہ کئی علاقوں میں 16 سالہ طویل طالبان کی شورش کی وجہ سے رابطہ نہیں کیا جاسکتا۔

ماہر عمرانیات محمد عامر کماوال کے مطابق ’اس عادت کو بدلنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں‘۔

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026