پاکستان کرکٹ بورڈ کی لاپرواہی اور غلطیوں کا سلسلہ جاری
قیادت کی تبدیلی بھی پاکستان کرکٹ بورڈ میں کوئی نمایاں تبدیلی نہ لا سکی اور بورڈ کی جانب سے لاپرواہی اور غیر ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بچگانہ غلطیاں کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
اگر ماضی میں کی گئی غلطیوں کی فہرست مرتب کی جائے تو یقیناً ایک کتاب ضرور تشکیل پا جائے گی لیکن حال ہی میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے چند نئی غلطیاں کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے پہلے ستمبر میں نیشنل ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کرانے کا اعلان کیا جس کے سبب کاؤنٹی کرکٹ اور کیریبیئن لیگ میں مصروف کھلاڑیوں کو فوری طور پر وطن واپس طلب کر کے کیمپ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی۔
تاہم ورلڈ الیون کے شیڈول میں تبدیلی کے باعث نیشنل ٹی20 ٹورنامنٹ ملتوی کر کے کھلاڑیوں کو فٹنس ٹیسٹ لینے کے بعد کیربین پریمئیر لیگ اور کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی گئی۔
اب بورڈ نے شیڈول میں از سرنو تبدیلی کرتے ہوئے سری لنکا سے متحدہ عرب امارات میں شیڈول سیریز کے بعد نومبر میں ٹی20 ٹورنامنٹ کے انعقاد کا فیصلہ کیا جس سے بورڈ کی لاپرواہی اور غیر ذمے داری کھل کر سامنے آ گئی ہے۔
گلوبل ٹی ٹوئنٹی لیگ اور بنگلادیش پریمیر لیگ کے باوجود نیشنل ٹی ٹوئنٹی کرانے کا اعلان کردیا۔۔ دونوں لیگز میں چوبیس پاکستانی کرکٹرز کے معاہدے ہیں۔
بورڈ نے نیشنل ٹی ٹوئنٹی چار نومبر سے 19نومبر تک کرانے کا اعلان کردیا تاہم اس سے پہلے نومبر میں بنگلادیش پریمیئر لیگ اور جنوبی افریقی لیگ کا اعلان ہوچکا ہے اور قومی ٹیم کے نامور کھلاڑی پہلے ہی دونوں لیگ میں کھیلنے کیلئے معاہدہ کر چکے ہیں اور اکثر کھلاڑی اس عرصے میں بہرون ملک مصروف ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق دو نومبرسے ہونے والی بنگلادیش پریمئیر لیگ میں پندرہ ٹاپ قومی کرکٹرز کے معاہدے ہیں جبکہ جنوبی افریقہ کی گلوبل ٹی ٹوئنٹی لیگ سے بھی آٹھ پاکستانی کھلاڑیوں کےمعاہدے ہوئے ہیں جو چار نومبر سے شروع ہوگی۔
اس صورتحال میں بورڈ میں منصوبہ بندی کے فقدان اور نیشنل ٹی20 ٹورنامنٹ کے حوالے سے غیر ذمے دارانہ رویہ کھل کر سامنے آ گیا ہے اور اگر بورڈ نے ایونٹ کا شیڈول ازسرنو مرتب نہ کیا تو قومی انٹرنیشنل کھلاڑیوں اس میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔
دوسری جانب اگر پی سی بی نے بی پی ایل اور جنوبی افریقی لیگ کیلئے کھلاڑیوں کو این او سی جاری نہ کیا تو ناصرف پلیئرز کو مالی نقصان ہو گا بلکہ اس سے دونوں بورڈز کے ساتھ تعلقات بھی خراب ہونے کا خدشہ ہے۔











لائیو ٹی وی