سپریم کورٹ کے فیصلوں کا مقصد حساب برابر کرنا نہیں ہوتا:چیف جسٹس
اسلام آباد: بظاہر پاناما پیپرز کیس کے فیصلے پر ایک مخصوص سیاسی جماعت کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ سپریم کورٹ کسی کو خوش کرنے یا حساب برابر کرنے کے لیے فیصلے نہیں سناتا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نئے عدالتی سال 18-2017 کے آغاز پر اپنے خطاب میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنی بہترین سمجھ اور صلاحیت کے مطابق پاکستان کے عوام اور آئینِ پاکستان کی خدمت کرتے ہیں،اور انصاف کے اصولوں کے مطابق فیصلہ پیش کرتے ہیں‘۔
گو کہ تقریب کے زیادہ تر مقررین نے پاناما پیپرز کیس فیصلے کا نام نہیں لیا لیکن اس تاریخی فیصلے کا سایہ تقریب پر قائم رہا اور کئی افراد نے اپنی تقاریر میں اشارتاً اس کا ذکر کیا۔
اپنے خطاب میں چیف جسٹس نے واضح کیا کہ آئین میں کس طرح ریاست کے تین اہم ستونوں — انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کے ذریعے گورننس کا نظام فراہم کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئین بالا دست ہے اور ریاست کے ہر ستون کو اپنی ذمہ داریاں اور افعال آئین کے مطابق سرانجام دینے ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اصل جمہوریت کا سب سے اہم پہلو قانون کی حکمرانی ہے جس کے لیے عدلیہ کا آزاد ہونا ضروری ہے۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے مطابق عدلیہ کی آزادی کا مطلب ججز کا انتظامیہ، کسی بھی شخص یا طاقتور اتھارٹی سمیت ہر قسم کے دباؤ سے آزاد ہونا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت عدلیہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ جب بھی ریاست کی کوئی اتھارٹی یا عہدے دار قانون اور آئین کے خلاف کام کرے تو عدالتی نظرثانی کی جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا
انہوں نے خبردار کیا کہ انصاف کی عدم فراہمی کے نتیجے میں عوام کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے جو معاشرے میں افراتفری اور انتشار کا سبب بنتا ہے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اس لیے ضروری ہے کہ قانون کو حکمرانی کو ہر صورت قائم رکھا جائے تاکہ معاشرے میں امن اور ترقی پروان چڑھ سکے۔
تاہم اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کا خیال ہے کہ حالیہ واقعات نے طاقت کی تقسیم کے حوالے سے اچھی پیش گوئی نہیں دی جو پاکستان میں آئینی جمہوریت کے فروغ کے لیے ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ 12 ماہ کے درمیان بین الاقوامی قانونی برادری کے سامنے ہمارے قانونی عمل کے استحکام پر اثرانداز ہونے والی تقسیم بھی سامنے آئی۔
انہوں نے کہا کہ ’بین الاقوامی عدالتوں اور ٹریبونلز کی جانب سے ہماری عدلیہ کے جاری کردہ فیصلوں پر تبصروں میں اضافہ دیکھا گیا‘۔
اٹارنی جنرل کے مطابق ہماری عدالتوں کے کچھ فیصلوں پر بین الاقوامی فورمز میں کارروائی ہوئی اور اس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کا کئی بلین ڈالرز کا نقصان ہوا، جبکہ ریاست کے خلاف کلیم میں کئی بلین ڈالرز باقی ہیں‘۔
میڈیا کے بڑھتے ہوئے کردار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ متوازی ’عوامی عدالت‘ میں تبدیل نہیں ہوگا۔
دوسری جانب پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین محمد احسن بھون نے پاناما پیپرز کیس کے فیصلے پر غور کیے بغیر اعلیٰ عدلیہ پر ہونے والی تنقید پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی حقائق ریکارڈ پر موجود تھے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ فیصلہ تاریخ میں مہر تصدیق ثبت کرے گا۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر رشید اے رضوی نے شریف خاندان پر منی لانڈنگ الزامات کی تحقیقات کے قائم کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) میں ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کی شمولیت پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
1996 کے عام انتخابات میں فوجی مداخلت پر روشنی ڈالنے کے لیے اصغر خان کیس کی مثال دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مقدمات میں کردار ادا کرنے کے لیے ملٹری ایجنسیوں کو دعوت دینا نہ صرف فوج بلکہ عدالت پر انگلیاں اٹھنے کا سبب بنتا ہے۔
یہ خبر 12 ستمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔











لائیو ٹی وی