ٹرمپ کی شمالی کوریا کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی دھمکی

اپ ڈیٹ 23 ستمبر 2017

ای میل

امریکی صدر نے اپنے خطاب میں ایران اور وینزویلا کو بھی شدید تنقید کانشانہ بنایا—فوٹو:اے پی
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں ایران اور وینزویلا کو بھی شدید تنقید کانشانہ بنایا—فوٹو:اے پی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) کے 72 ویں سالانہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انھوں نے جوہری ہتھیاروں کو نہیں روکا تو امریکا اس کو ' مکمل طورپر تباہ' کردے گا۔

یو این جی اے کے افتتاحی سیشن میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نےشمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ'اقوام عالم کو مقابلہ کرنا پڑتا ہے ' جبکہ دنیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ 'جوہری ہتھیاروں کا حصول پوری دنیا میں انسانی جانوں کے لیے سخت خطر ہ ہے'۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو ان کے عرفی نام راکٹ مین سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ'راکٹ مین اپنی اور اپنی حکومت کی خودکشی کے راستے پر گامزن ہے'۔

انھوں نے کہا کہ 'امریکا کے پاس بڑی طاقت اور صبر ہے تاہم جب اس کو دفاع کے لئے مجبور کیا جائے گا تو پھر ہمارے پاس شمالی کوریا کو مکمل طورپر تباہ کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچے گا'۔

یہ بھی پڑھیں:اقوام متحدہ اخراجات کم کرکے فعال کردار ادا کرے، ٹرمپ

اقوام متحدہ کے فورم میں پہلی بار خطاب کرنے والے ٹرمپ نے کوریا کے خلاف روایتی زبان استعمال کرتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس پر دیگر ممالک کے رہنماؤں نے تنقید کی۔

امریکی صدر نے تمام اقوام کو ایران کو اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے سے روکنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والا معاہدہ 'شرمناک' تھا اور یہ عالمی طور پر ' بدترین' معاہدہ تھا۔

انھوں نے ' اسلامی شدت پسند اوردہشت گردی' کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسلامی شدت پسندی اور اسلامی شدت پسندی کی حمایت کرنےوالوں کو بھی ختم کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت کیلئے وزیر اعظم نیویارک میں

ٹرمپ نے دنیا بھر کے رہنماوں کو اپنی 'قومی خودمختاری' کو یقینی بنانے کے لیے اپنے ملکوں میں سیکیورٹی کے اقداما کرنے پر زور دیا۔

امریکی صدر نے اقوام متحدہ میں موجود عالمی رہنماؤں اور مندوبین کے سامنے کھڑے ہوکر کہا کہ اقوام متحدہ کے اراکین کومشترکہ طور پر ذاتی دلچسپی کے لیے کام کرنے والی اقوام کی طرح عالمی خطرات سے نمٹنے کے لیے متحدہ ہونا چاہیے ۔

انھوں نے وینزویلا کے صدر نیکولس میڈورا کی حکومت کو 'تباہ کن حکمرانی' قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کو مداخلت کرنے پر زور دیا اور کہا کہ 'یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے، نہ ہی اس کی حمایت کی جاسکتی ہے اور نہ دیکھی جاسکتی ہے'۔