— فوٹو: بشکریہ سی این این
— فوٹو: بشکریہ سی این این

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ان دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72ویں اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ہیں۔ وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کا پہلا دورہ امریکا ایک ایسے وقت میں ہوا، جب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق نئی پالیسی کے اعلان کے بعد سے پستی کا شکار ہیں۔

اپنے دورے کے دوران شاہد خاقان عباسی نے کئی بار امریکی میڈیا اور تِھنک ٹینکس سے گفتگو کی، جس میں انہیں چند مشکل سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین

فارن ریلیشنز کونسل (سی ایف آر) تھنک ٹینک کے اجلاس کے دوران ہیومن رائٹس واچ کے کین روتھ نے شاہد خاقان عباسی سے سوال کیا کہ کیا وہ بطور وزیر اعظم ملک میں توہین مذہب کے قانون کے خلاف کچھ کہیں گے، جس کے تحت حالیہ دنوں میں ایک مسیحی شخص کو واٹس ایپ پر گستاخانہ سمجھی جانے والی نظم بھیجنے پر سزا موت سنائی گئی۔

شاہد خاقان عباسی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے ملکی قوانین بلکل واضح ہیں اور صرف پارلیمنٹ ان میں ترامیم کرسکتی ہے، حکومت کا کام یہ ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ قوانین کا غلط استعمال نہیں کیا جارہا اور بے گناہوں کو سزائیں نہ ملیں۔‘

جب سیشن کے نگراں کی جانب سے وزیر اعظم پر زور دیا گیا کہ وہ اس معاملے پر مزید بات کر سکتے ہیں تو شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں کہ ملک میں قانون موجود اور رائج ہے، قانون پر عدالتیں تبصرہ کرسکتی ہیں، لیکن جب تک قانون موجود ہے وہ رائج رہے گا اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون پر عملدرآمد کرائے۔‘

ایئربلو کا قیام

وزیر اعظم سے سوال کیا گیا کہ وہ ایئربلو (نجی ایئرلائن) کے بانی کے طور پر پاکستان کی معیشت سے متعلق کیا اسباق سیکھنے میں کامیاب ہوئے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال سے یہ اب تک بہت اچھا چل رہا ہے، بنیادی طور پر یہ ایک ڈائنامک بزنس ہے، تو فیصلہ سازی کی قوت سے آپ کو مدد ملتی ہے۔ اس لیے میرے خیال میں چند حوالوں سے یہ سیاست کی اچھی ٹریننگ ہے، اگرچہ میرے خیال میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ایئرلائن نے اچھی کارکردگی نہیں دکھائی (قہقہے گونجے) اس لیے ہم اس سے واقعی میں سیکھ سکتے ہیں (پھر قہقہے لگے)۔

افغانستان میں بھارت کا کردار

سی ایف آر کے اجلاس میں حاضرین میں موجود ایک شخص نے شاہد خاقان عباسی سے پوچھا کہ ان کے خیال میں افغانستان میں بھارت کا کیا کردار ہونا چاہیے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ’صفر (قہقہے لگے)، ہم بھارت کے لیے افغانستان میں کوئی سیاسی یا فوجی کردار نہیں دیکھتے، میرے خیال میں اس سے صرف صورتحال پیچیدہ ہوگی اور کوئی معاملہ حل نہیں ہوگا۔

حافظ سعید سے متعلق

نیویارک ٹائمز کے صحافی ڈیوڈ سینگر نے شاہد خاقان عباسی سے سوال کیا کہ لاہور میں این اے 120 میں ہونے والے حالیہ ضمنی انتخاب کی مہم میں ایک آزاد امیدوار کو حافظ سعید کی تصویر والے پوسٹرز استعمال کرنے کی کیسے اجازت دی گئی۔

وزیر اعظم نے جواب دیا کہ ’ہم نے اس امیدوار کے خلاف کارروائی کی ہے اور وہ اس وقت نظر بند ہے، امیدوار نے انتخابی مہم کے دوران حافظ سعید کی تصویر والے پوسٹرز استعمال کیے جو غیر قانونی ہے اور الیکشن کمیشن بھی ان کے خلاف کارروائی کرے گا، لیکن انہوں نے انتخاب میں 4 فیصد ووٹ حاصل کیے اس لیے ہم اس طرح کی سرگرمی کو درگزر نہیں کرسکتے اور جہاں ضرورت ہوئی ہم کارروائی کریں گے۔ ہم نے ماضی میں بھی کارروائی کی ہے اور اب وہ دو سے تین سال کے لیے حراست میں ہیں۔

ٹائی نہ لگانے پر

پاکستان میں سوشل میڈیا پر کئی افراد نے اس بات کی نشاندہی کی کہ شاہد خاقان عباسی نے اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں حتیٰ کہ امریکی نائب صدر مائیک پینس سے ملاقات کے دوران بھی ’ٹائی‘ نہیں لگائی اور ان کے اس عمل کو ’غیر رسمی‘ اور ’غیر پیشہ ورانہ‘ قرار دیا۔

وزیر اعظم نے اس کی وجہ سی ایف آر کے سیشن کے آخر میں بیان کی۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’میں ٹائی سے متعلق صرف مختصر بات کروں گا۔ میں نے کیلیفورنیا کے اسکول میں تعلیم حاصل کی، کیلیفورنیا میں کہا جاتا ہے کہ آپ ٹائی صرف اس دن لگاتے ہیں جس دن آپ کی شادی ہو یا اس دن جب آپ کی وفات ہو (قہقہے گونجے)، اور یہ ان میں سے کوئی موقع نہیں تھا (پھر قہقہے لگے)۔

پاکستان میں امریکی فوجی اڈے

وزیر اعظم سے صحافی ڈیوڈ سینگر نے ایک اور سوال کیا کہ کیا پاکستان اس وقت کسی امریکی فوجی اڈے یا اپنی حدود میں کسی آپریشن کی میزبانی کر رہا ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے جواب دیا ’نہیں، بلکل نہیں، پاکستان کسی بیس کی میزبانی نہیں کر رہا۔‘