دن بھر کام کرنے کے بعد کس طرح کی غذا کھانی چاہیے؟
ذیادہ تر لوگ تھکاوٹ اور سخت بھوک کے بعد اس بات کا کوئی خیال نہیں کرتے کہ وہ کیا کھا رہے ہیں یا انہیں کیا کھانا چاہیے؟
ویسے بھی شدید بھوک کے بعد کسے یہ احساس رہتا ہے کہ اسے فلاں غذا کے بجائے فلاں غذا کھانی چاہیے، اس وقت تو جو کھانا دستیاب ہوتا ہے، اسی پر ہی گزارا کیا جاتا ہے۔
تاہم غذائی ماہرین ایسا کرنے سے روکتے ہیں۔
ماہرین صحت اور غذائی ماہرین کے مطابق مسلسل کام اور تھکاوٹ کے بعد جب انسان کو بھوک لگتی ہے، تو اس وقت انسانی جسم کو خاص غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔
خاص غذا سے مراد ہرگز یہ نہیں ہے کہ انسان کو ایسا کھانا چاہیے جو اس کی دسترس میں ہی نہ ہو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذہانت سے کام لیتے ہوئے انسان کو اپنی غذا کا سوچ سمجھ کر انتخاب کرنا چاہیے، کیوں کہ غذا سے ہی انسانی صحت منسلک ہوتی ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ ذیادہ تر افراد کو خصوصی طور پر رات کے کھانے میں پروٹین، آئرن اور کاربوہائڈریٹس سے بھرپورغذائیں کھانی چاہیے۔
غذائی ماہرین کہتے ہیں کہ دن بھر کام میں مصروف رہنے والے ہر بالغ فرد کو یومیہ کھانے میں 15 سے 30 گرام پروٹین اور اتنی ہی مقدار میں آئرن، جب کہ 45 سے 90 گرام کاروبوہائڈریٹس کی حامل غذا کھانی چاہیے۔
پروٹین، آئرن اور کاروبوہائڈریٹس سے بھرپورغذائوں میں مچھلی، گوشت، دودھ، چکن، انڈے، دہی، ہری سبزیاں، لوبیہ، ٹماٹر اور سلاد میں استعمال ہونے والی چیزیں شامل ہیں۔
رات کے کھانے میں ’چکن گِرِل کباب‘، ’مچھلی‘ اور’بیف گِرِل کباب‘جیسی غذائیں کھائی جاسکتی ہیں۔












لائیو ٹی وی