سزائے موت کے مجرم کے ' آخری 72 گھنٹے‘

اپ ڈیٹ 10 اکتوبر 2017

Email


’آج سینٹرل جیل میں 4 افراد کو پھانسی دے دی گئی‘

اِس طرح کی کئی خبریں ہم نہ جانے کتنی مرتبہ پڑھ اور سن چکے ہیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ اِس خبر نے ہمیں کبھی پریشان نہیں کیا، اور ایسی خبریں ہمیں پریشان کرے بھی تو کیوں کہ اِس سزا سے ہماری ذات کو کوئی نقصان تھوڑی ہورہا ہے۔

لیکن اہم بات یہ ہے کہ کیا کبھی ہم نے اُن لوگوں کے بارے میں سوچا ہے، جن کو موت کی سزا سنا دی جاتی ہے، اور جن کو پہلے سے ہی یہ بتادیا جاتا ہے کہ فلاں دن آپ کی زندگی کا آخری دن ہوگا؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم شاید ایسا سوچ بھی نہیں سکتے کیونکہ ایسا سوچنے سے ہی ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

آج ہم آپ کو ایسے ہی ایک مجرم کی کہانی بتانے جارہے ہیں جسے تین دن پہلے بتا دیا گیا ہے کہ اگلے 72 گھنٹے بعد اُس کی زندگی کا خاتمہ ہونے جارہا ہے۔ اُس فرد پر اور اُس کے اہلخانہ پر اب کیا گزر رہی ہے آئیے اُن کے بارے میں جانتے۔

چونکہ یہ ایک کہانی ہے اِس لیے ہم آپ کو پہلے کرداروں کے بارے میں بتاتے ہیں تاکہ کہانی پڑھنے میں آسانی ہو۔

کردار:

  • مجرم

  • پہلا قیدی

  • دوسرا قیدی

  • بیوی

  • بیٹا / بیٹی

  • پولیس

  • مدعی

(پھانسی میں 72 گھنٹے باقی ہیں)

تو اِس طرح شروع ہوتا ہے، پھانسی گھاٹ کی طرف سفر

مجرم: سب ختم ہوگیا ہے، اب میں کیا کروں، اب تو کوئی اپیل بھی باقی نہیں رہی اور وارنٹ بھی آ گیا ہے۔ سنا ہے بہت تکلیف ہوتی ہے، آنکھیں باہر نکل آتی ہیں، شکل پہچانی تک نہیں جاتی اور اگر، اگر پھندا ٹھیک سے نہ لگے تو گردن بھی کٹ جاتی ہے۔

پہلا قیدی: دیکھ پریشان نہ ہو، سب ٹھیک ہوجائے گا، بہت سے لوگوں کو معافی ملتے دیکھا ہے، بس رب جس پر کرم کردے۔

مجرم: مجھے لگتا ہے سب کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے، اِسی طرح ہی جھوٹی تسلیاں دیتے ہیں، میں بھی تو سب کو یونہی جھوٹے دلاسے دیتا رہا ہوں

(پھانسی میں 48 گھنٹے باقی)

پولیس اہلکار: چلو بھائی، سیل بدلنا ہے تیرا، چلو۔

پہلا قیدی: تیرے گھروالوں نے رحم کی نئی اپیل کی ہے صدر سے

دوسرا قیدی: تیرے وارث کوشش کر رہے ہیں اور رب نے چاہا تو صلح ہوجائے گی

(پھانسی میں 24 گھنٹے باقی)

بیوی روتے ہوئے: جس دن سے خبر آئی ہے، ہماری تو زندگی ہی ختم ہوگئی ہے، پتہ نہیں ہمارے ساتھ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے، گھر کی فکر مت کرنا، ہم سب تمہارے لیے دعا کر رہے ہیں۔

بیٹا: ہم سب آپ کو بہت یاد کرتے ہیں۔

پولیس اہلکار: او چلو بھائی، ملاقات کا ٹائم ختم ہوگیا ہے، چلو جلدی کرو۔

(پھانسی میں 2 گھنٹے باقی)

پولیس اہلکار: اوئے کپڑے بدلو اِس کے اور ہتھکڑی لگاؤ ۔۔۔۔ جلدی کرو، مجسٹریٹ صاحب اور سپرنٹنڈنٹ صاحب پہنچ گئے ہیں۔ دھیان سے ذرا، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے۔

مجرم: مجھے معافی دلادو، مجھے نہیں مرنا، مجھ سے غلطی ہوگئی۔

پولیس اہلکار مدعی سے: ابھی بھی وقت ہے، ایک بار پھر اچھی طرح سوچ لیں، اگر آپ چاہیں تو ابھی بھی اسے معاف کرسکتے ہیں۔

مدعی: نہیں

بس یہ ’نہیں‘ کہنے کی دیر تھی اور یوں ایک جیتے جاگتے انسان کی زندگی تمام ہوگئی۔

(پاکستان پریزن مینوئل میں درج اصولوں کے مطابق، ﭘﮭﺎﻧﺴﯽ ﭘﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ 30 ﻣﻨﭧ ﺗﮏ ﻟﭩﮑﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، جبکہ تختہ دار پر لٹکنے کے بعد صرف 3 منٹ کے اندر ہی موت واقع ہوجاتی ہے۔)

پھانسی پر پابندی ختم ہونے کے بعد دسمبر 2014 سے اگست 2017 تک 475 افراد کو پھانسی پر لٹکایا جاچکا ہے۔

آج پھانسی کی سزا پانے والوں کی تعداد 8000 کے لگ بھگ ہے، جنہیں پھانسی پر لٹکایا جانا ہے۔

قیدیوں اور اُن کے گھروالوں کو سزا کے بارے میں صرف 72 گھنٹے قبل ہی اطلاع دی جاتی ہے۔

زندگی کے حق کو تحفظ دینے میں مدد کرنی چاہیے، کیونکہ حیات سے بڑھ کر انسان کے لیے کوئی اور انعام اور خوشی ہو نہیں سکتی۔