امریکی وزیرِ دفاع جنرل جیمز میٹس کی طرف سے سی پیک پر اُٹھائے جانے والے اعتراض کو پاکستانی میڈیا نے ’بھارتی بولی‘ قرار دے کر ایک طرح سے صورت حال کی سنگینی کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ امریکا بھارت کی بولی بولے تو "نان نیٹو" اتحادی کا درجہ رکھنے والے پاکستان کو دکھ تو ہوگا لیکن صورتِ حال اِس سے زیادہ سنگین ہے جو اب تک کسی نے سمجھنے یا سمجھانے کی کوشش نہیں کی۔

سی پیک کے آغاز پر ہی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں مستقبل کی کشیدگی کا الارم بجایا گیا لیکن پاکستان کے مقتدر حلقوں کو اندرونی سرپھٹول سے ہی فرصت نہ تھی۔ سی پیک پر امریکی اعتراض کے بعد مُلکی قیادت اور دانشور طبقہ چونکا ضرور ہے لیکن اب بھی حالات کو مکمل طور پر سمجھ کر ردِعمل دینے کے بجائے جذبات کا اظہار زیادہ کیا جارہا ہے۔

سی پیک پر امریکی اعتراض دراصل خطے میں ہونے والی اقتصادی اور فوجی کشمکش کا اہم حصہ ہے۔ اِسے صرف پاکستان اور چین کے تعلقات کے تناظر میں دیکھنا غلطی ہوگی۔ پاک امریکا بگڑتے تعلقات، بھارت اور چین کی ڈوکلام کی سرحدی کشیدگی، ساؤتھ چائنا سمندری تنازع، افغانستان میں امریکی عزائم، روس کی انگڑائی، امریکا کے لیے چین کی صورت میں اُبھرتے اقتصادی اور فوجی چیلنج سمیت کئی امور بھی اِس سے جڑے ہیں۔

پڑھیے: سی پیک سے ہمیں کتنے فوائد حاصل ہوں گے؟

امریکا نے سی پیک پر جو بنیادی اعتراض اٹھایا ہے وہ اِس راہ داری کے ایک مبینہ ’متنازع‘ علاقے، گلگت بلتستان سے گزرتا ہے۔ اِس اعتراض کی حقیقت کچھ بھی نہیں، جس کا ثبوت برٹش انڈیا کے معاہدوں اور فائلوں سے بھی ملتا ہے۔

برٹش انڈیا کے دور میں اِس علاقے کی حیثیت کیا تھی؟ انڈیا آفس لائبریری اینڈ ریکارڈز کی فائلز کے مطابق ہنزہ اور نگر کو خصوصی درجہ اور خودمختاری حاصل تھی، جبکہ پنیال، یاسین، کوہ، گزر اور اشکومان کو برطانوی حکومت کا پولیٹیکل ایجنٹ اور مہاراجہ کشمیر کا محکمہ "وزیرِ وزارت" مشترکہ طور پر کنٹرول کرتے تھے۔ اِن علاقوں کا انتظامی نام گلگت ایجنسی تھا تاہم اِن کی سیاسی حیثیت کو جان بوجھ کر ابہام میں رکھا گیا جبکہ اِن کی سرحدیں بھی متعین نہ کی گئیں۔

ہنزہ کے چین کے ساتھ آزاد سفارتی تعلقات 1937 تک برقرار رہے۔ 1935 میں مہاراجہ کشمیر نے گلگت ایجنسی 60 برس کی لیز پر برٹش انڈیا کو دے دی۔ اُس وقت برٹش انڈیا کو ڈر تھا کہ اِن سرحدی علاقوں کی طرف روس چھیڑ چھاڑ کرسکتا ہے جس وجہ سے اِن علاقوں کو باضابطہ طور پر لیز پر لیا گیا۔ اِس لیز معاہدے کے الفاظ بھی مبہم رکھے گئے اور مہاراجہ کی طرف سے لیز پر دیے گئے علاقے کی نشاندہی ’دریائے سندھ کے دائیں کنارے گلگت کی وزارت‘ کے الفاظ میں کی گئی۔

قیامِ پاکستان سے پہلے ’گلگت ایجنسی‘ کی لیز ختم کرکے برٹش انڈیا نے یکم اگست 1947 کو علاقہ مہاراجہ کشمیر کے حوالے کرنے کا اعلان کیا۔ مہاراجہ نے گلگت ایجنسی کے لیے اپنا گورنر مقرر کیا لیکن مقامی آبادی اور گلگت اسکاؤٹس نے بغاوت کردی۔ مہاراجہ کے مقرر کردہ گورنر گنسرا سنگھ کو قتل کردیا گیا۔ گلگت اسکاؤٹس کے انگریز کمانڈر میجر ولیم براؤن اور اُن کے نائب کیپٹن میتھیسن نے اِس بغاوت میں مقامی آبادی کا ساتھ دیا۔

یکم نومبر کو آزاد جمہوریہ گلگت کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ مختصر عرصے کے لیے بننے والی آزاد جمہوریہ گلگت نے دو نومبر کو پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کرتے ہوئے گلگت ریزیڈنسی پر پاکستان کا پرچم لہرا دیا۔ بعض مورخین کا کہنا ہے کہ اِس بغاوت کے لیے گلگت ایجنسی میں برٹش انڈیا کے آخری پولیٹیکل ایجنٹ لیفٹیننٹ کرنل روجر بیکن نے منصوبہ بندی کی تھی اور اپنی اِس بات کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ میجر ولیم براؤن کو اِس بغاوت پر سزا کے بجائے برطانوی حکومت نے اعلیٰ ترین اعزاز ’ممبر آف موسٹ ایکسیلنٹ آرڈر آف دی برٹش ایمپائر‘ (ایم بی ای) سے نوازا۔

پڑھیے: آئیے سی پیک کے حوالے سے کچھ چینیوں کی بھی سنیں

مہاراجہ کی طرف سے لیز کے معاہدہ میں نشاندہی کیے گئے علاقے ’دریائے سندھ کے دائیں کنارے‘ کو مہاراجہ سے بغاوت کرنے والوں نے چھین لیا تھا۔ ایک آزاد ریاست بنانے کے بعد اِسے پاکستان میں شامل کرنے کی درخواست کی گئی جس پر پاکستان نے فوری بندوبست کے طور پر محمد عالم خان کو پہلا پولیٹیکل ایجنٹ مقرر کرتے ہوئے علاقے میں ایف سی آر کا نفاذ کردیا۔ جس کے بعد ہنزہ اور نگر کی ریاستوں اور دیگر چھوٹی ریاستوں نے بھی پاکستان میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کی۔

اِن حقائق کی روشنی میں گلگت بلتستان پر جموں و کشمیر کے حوالے سے بھارت کا کوئی دعویٰ نہیں بنتا کیونکہ سی پیک 'دریائے سندھ کے دائیں کنارے' کے علاقے ہی میں ہے جو مہاراجہ گنوا چکا تھا اور جموں و کشمیر سے اِس کی حیثیت الگ ہوچکی تھی۔ بھارت کو حق جتانے کا موقع اب تک پاکستان کی پالیسیوں نے دیا کیونکہ پاکستان نے گلگت بلتستان کو پاکستان میں ضم کرنے کے بجائے خصوصی درجہ دیے رکھا۔

گلگت بلتستان کو خصوصی درجہ دیے جانے کے پیچھے پاکستانی پالیسی سازوں کی یہ حکمت کارفرما رہی کہ اِس علاقے کو جموں و کشمیر سے منسلک رکھا جائے تو رائے شماری کی صورت میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں ہوگا۔

گلگت بلتستان کو جب تک خصوصی درجہ حاصل رہا، بھارت نے کبھی اِس پر توجہ نہیں دی کیونکہ بھارت بھی پاکستان کی حکمت عملی کو سمجھتا تھا، لیکن گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دینے کی طرف پیش رفت اور چین کی دلچسپی پر بھارت نے اِس علاقے پر حق جتانا شروع کردیا ہے۔ بھارت کی یہ حکمت عملی اِس کے پہلے وزیرِاعظم جواہر لال نہرو کی پالیسی سے ملتی جلتی ہے۔

جولائی 1952 میں چین نے ہندوستان کو دعوت دی کہ برٹش راج کے خاتمے کے بعد جو معاملات زیرِ التوا ہیں اُنہیں باہم مل کر حل کرلیا جائے۔ بھارت کے لیے یہ موقعہ تھا کہ وہ چین کے ساتھ سرحدی معاملات طے کرلے لیکن نہرو نے اِس پہلے رابطے میں 'میک ماہن لائن' سمیت کوئی بھی سرحدی تنازع نہ اُٹھانے کا فیصلہ کیا۔

پڑھیے: پاک چین اقتصادی راہداری کا ماسٹر پلان کیا ہے؟

بھارتی وزارت خارجہ کے ایک افسر جی ایس باجپائی نے نہرو کو خط لکھا کہ میک ماہن لائن کا معاملہ اُٹھایا جائے۔ نہرو نے اپنے معتمدین کے ساتھ مشاورت کے بعد جواب میں لکھا کہ میک ماہن لائن کا معاملہ اُٹھانے پر دو ہی صورتیں سامنے ہوں گی، پہلی یہ کہ چین اِسے تسلیم کرلے، دوسری یہ کہ وہ اِسے ماننے سے انکار کرتے ہوئے دوبارہ مذاکرات کے لیے کہے۔ پہلی صورت تو ممکن نہیں کیونکہ اِس سے پہلے تمام چینی حکومتیں 1914 کے شملہ ڈیکلریشن کو ماننے سے انکار کرتی آئی ہیں۔ دوسری صورت میں سرحدی تنازع اُٹھ کھڑا ہوگا۔ بہتر یہی ہے کہ ہم اِسے نہ چھیڑیں۔ نہرو کی یہ حکمتِ عملی ہندوستان کو لے ڈوبی اور بالآخر ہندوستان کو تبت پر بھی چین کا حق ماننا پڑا اور شملہ ڈیکلریشن میں حاصل تمام فوائد بھی ضائع ہوگئے۔

اگر پاکستان گلگت بلتستان کو مقامی اور کشمیری قیادت کے اتفاق سے آئینِ پاکستان میں اپنا حصہ بنالے تو گلگت بلتستان پر بھارت کو نہرو جیسی پالیسی کا اب بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اِس وقت پاکستان کو دقت صرف کشمیری قیادت کی طرف سے تحفظات کی وجہ سے ہے۔ یاسین ملک گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ بنائے جانے کو کشمیر کاز کی کمزوری کا باعث سمجھتے ہیں۔ اُنہیں زمینی حقائق کے ساتھ اِس کے دور رس نتائج پر قائل کیا جاسکتا ہے۔ کشمیر میں استصواب رائے کی خاطر گلگت بلتستان کو پاکستان سے الگ رکھنے کا فائدہ نہیں۔

گلگت بلتستان کے معاملہ پر 1963 کے پاک چین سرحدی معاہدے سے بھی فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے جس کا آرٹیکل 6 کہتا ہے کہ دونوں فریق اِس بات پر متفق ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بعد جو بھی اتھارٹی ہوگی، اُس کے ساتھ اِس معاہدے پر حتمی مذاکرات ہوں گے، حتمی اتھارٹی پاکستان ہونے کی صورت میں یہ معاہدہ بھی حتمی تصور ہوگا۔

امریکا سمیت کوئی بھی تیسرا فریق اگر سی پیک پر گلگت بلتستان کے حوالے سے سوال اُٹھاتا ہے، یا بین الاقوامی اداروں سے فنڈنگ کا معاملہ ہو تو یہ معاہدہ کارآمد ہے۔ اِس معاہدے کی موجودگی میں کسی بھی مالیاتی ادارے کی سرمایہ کاری خطرے میں پڑنے کا کوئی امکان نہیں۔ بھارت نے 2010 سے پہلے گلگت بلتستان پر اِس طرح سے کبھی حق بھی نہیں جتایا جس طرح وہ جموں و کشمیر کے حوالے سے عالمی سطح پر دعوے کرتا رہا ہے۔

پڑھیے: سی پیک: نہ من و سلویٰ، نہ ایسٹ انڈیا کمپنی

گلگت بلتستان کو متنازع علاقہ قرار دینے کا زیادہ شور امریکی اور یورپی میڈیا میں 2010 میں مچا، جب نیویارک ٹائمز میں سلیج ہیریسن کا کالم چھپا جس کا عنوان تھا "پاکستان کے شمالی سرحدی علاقوں پر چین کا کنٹرول"۔ اِس کالم کو بھارت سمیت دنیا بھر کے میڈیا نے اچھالا۔ اِس کالم میں دعویٰ کیا گیا کہ اِس علاقے میں چین کے 7 سے 11 ہزار فوجی موجود ہیں۔

اِس کالم کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ ستمبر 2008 میں ہندوستان، امریکا نیوکلیئر ڈیل کے بعد سے پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں سرد مہری آنا شروع ہوچکی تھی اور پاکستان کو خطے میں امریکا کے بدلتے رجحان پر شدید تحفظات تھے۔ پاکستان کے احتجاج کے باوجود امریکا نے کان نہ دھرے۔ اِس کے بعد سے بھارت امریکا دفاعی تعاون میں تیزی آتی چلی گئی۔

2010 میں ہی رینڈ کارپوریشن نے افغانستان میں طالبان کی بغاوت روکنے کے حوالے سے ایک ریسرچ پیپر شائع کیا جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ طالبان کو کچلنے کی ہر کوشش پاکستان کی وجہ سے ناکام ہو رہی ہے۔ 2010 سے امریکی دفترِ خارجہ کو ملنے والی ایسی لاتعداد رپورٹس اور ریسرچز کی بنیاد پر ہی ٹرمپ انتظامیہ نئی افغان پالیسی لائی ہے جس میں بھارت کو افغانستان میں کردار دینے کی بات ہو رہی ہے۔ پاکستان محسوس کرتا ہے کہ بھارت، افغانستان اور امریکا کی ٹرائیکا یا تثلیث کے ذریعے پاکستان کو گھیرنے کی کوشش ہو رہی ہے اور پاکستان اِن تحفظات میں حق بجانب ہے۔

اِس ٹرائیکا کے علاوہ ایک اور ٹرائیکا ایران، افغانستان اور ہندوستان کا بھی ہے۔ ہندوستان ایک طرف چاہ بہار میں سرمایہ کاری کرکے بظاہر گوادر کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اِس کی اصل اہمیت فوجی نوعیت کی ہے۔ کیونکہ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ گوادر صرف تجارتی مقاصد کے لیے نہیں ہوگی بلکہ چین کی بحریہ بھی یہاں موجود رہے گی جو بحر ہند میں اِس کے اثر کو کم کرنے کے ساتھ اِس کی ناکہ بندی پر بھی قادر ہوگی۔ چاہ بہار میں سرمایہ کاری کرکے بھارت اِسے دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ چین کا گھیرا توڑا جاسکے۔

پڑھیے: آئیے چینی باشندوں سے جان پہچان بڑھائیں

دوسری طرف ہندوستان نے افغانستان کے لیے فضائی کوریڈور کھولنے کے ساتھ افغانستان میں ایک ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت افغانستان کے جنگی طیاروں کی مرمت کے لیے 50 ملین ڈالر دے رہا ہے۔ افغانستان نے پاکستان کے ساتھ سرحد پر گولہ باری اور جھڑپوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چھیڑ رکھا ہے۔ بھارت نے عرب دنیا میں بھی پاکستان کے دوستوں کے ساتھ روابط بڑھائے ہیں۔ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ بھارت کے حالیہ معاہدے بھی خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔ ایران بھی بلوچستان کی سرحد پر گولہ باری کرتا رہتا ہے جبکہ مطلوب افراد کے لیے اندر گھس کر کارروائی کے بیانات بھی تشویشناک ہیں۔

امریکا کا بھارت کی طرف جھکاؤ ساؤتھ چائنہ سمندری تنازع کی وجہ سے بھی ہے۔ امریکا نے بھارت کو دفاعی معاہدوں سے اِس قدر لُبھایا کہ 2014 میں امریکا اور بھارت نے مشترکہ اعلامیہ میں ساؤتھ چائنہ سمندری حدود میں آزادانہ نیوی گیشن یقینی بنانے کا مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔ اِس طرح امریکا چین کو اُس کے بارڈر اور ہمسائے میں الجھائے رکھنا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنے وسیع عالمی عزائم سے ہٹ جائے۔

مودی کی "ایکٹ ایسٹ پالیسی" سے بھارت اور جاپان بھی قریب آئے ہیں اور دونوں کے درمیان سول نیو کلیئر ڈیل بھی ہوچکی ہے۔ پاکستان نے بھی اِس صورت حال میں نئے اسٹرٹیجک پارٹنر ڈھونڈنے شروع کر رکھے ہیں اور سرد جنگ کی دشمنی کو چھوڑ کر روس اور پاکستان قریب آئے ہیں، دونوں ملکوں نے 2016 میں دفاعی معاہدے پر دستخط کیے اور پہلی بار مشترکہ فوجی مشقیں بھی کیں۔

پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں مزید تبدیلیاں لاتے ہوئے دور اور نزدیک کے ہمسایوں سے تعلقات کی بہتری پر توجہ دینی ہوگی۔ ایران اور افغانستان کے ہندوستان کے ساتھ مذہبی و ثقافتی رشتے نہیں اِس کے باوجود وہ ہندوستان کے قریب کیوں جا رہے ہیں؟ پاکستان کے پالیسی سازوں کے لیے یہ سوال اہم ہے۔