زندگی میں ان چند غلطیوں کو اگر ترک کردیا جائے تو نہ صرف ہم خوشحال ہوں گے بلکہ معاشرہ بھی بہتری کی جانب گامزن ہوسکتا ہے —شٹر اسٹاک
زندگی میں ان چند غلطیوں کو اگر ترک کردیا جائے تو نہ صرف ہم خوشحال ہوں گے بلکہ معاشرہ بھی بہتری کی جانب گامزن ہوسکتا ہے —شٹر اسٹاک

ہم میں سے ہر کوئی اِس بات پر زور تو دیتا ہے کہ زندگی خوشگوار انداز میں گزارنی چاہیے لیکن شاید یہ ہم ہی ہوتے ہیں جو اپنی چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے ایسا نہیں ہونے دیتے۔ ہماری اپنی غلطیوں سے یا تو ہم خود پریشان یا دباؤ میں رہتے ہیں یا پھر دوسروں کو مشکل میں ڈال دیتے ہیں۔

ایسی ہی کچھ غلطیوں کا ذکر مندرجہ ذیل کیا جارہا ہے جن کو اگر ترک کردیا جائے تو نہ صرف ہم خوشحال ہوں گے بلکہ ہمارا معاشرہ بھی بہتری کی جانب گامزن ہوسکتا ہے۔ تو آئیے اُن اہم نکات پر بات کرتے ہیں۔

غیر جانبداری اچھی نہیں

اگر آپ ایک متعلقہ معاملے میں نیوٹرل رہتے ہیں تو سمجھ لیں کہ

  • یا تو آپ کم عقل ہیں، یعنی بیوقوف
  • یا کم حوصلہ رکھتے ہیں، یعنی بزدل یا پھر
  • مفاد پرستی

سو، کسی متعلقہ معاملے میں نیوٹرل رہنا بیوقوفی، بزدلی یا مفاد پرستی کی نشانی ہے، اِس لیے اپنی عقل کا استعمال کرتے ہوئے حوصلے کے ساتھ اور بے لوث ہوکر اپنی رائے ضرور دیں کیوںکہ بعض اوقات آپ کی بروقت دی گئی دیانتدارانہ رائے بہت بڑے نقصان سے بچ سکتی ہے اور بعض اوقات آپ کی احمقانہ، بزدلانہ یا مفاد پرستانہ خاموشی تباہی لا سکتی ہے۔

لہٰذا صاحب الرائے بنیے، مٹی کے مادھو نہیں

** مزید پڑھیں: زندگی کو بہتر اور خوشگوار بنائیں یہ 10عام عادتیں**

ٹھوکر

اِس اونچی نیچی دنیا میں ٹھوکر کسے نہیں لگتی؟ لیکن ٹھوکر کھانے کے بعد جو شخص زخمی حالت میں تکلیف سے گھبرا کر یکایک کسی انجانی سمت میں دیوانہ وار بھاگ اُٹھتا ہے، وہ جنگل میں گھس جاتا ہے

  • پھر اُسے شیر کھا جاتا ہے
  • یا بھیڑیے پھاڑ ڈالتے ہیں
  • یا وہ کتوں کی خوراک بن جاتا ہے

جبکہ عقلمند وہ ہوتا ہے جو

  • ٹھوکر کھا کر رک جاتا ہے
  • پہلے اپنے زخم ٹھیک کرتا ہے
  • پھر ٹھوکر کا سبب پوری دیانتداری سے تلاش کرتا ہے
  • اپنی اصلاح کرتا ہے
  • اپنی ضروریات کا اندازہ لگاتا ہے
  • باقی ماندہ زندگی کے لیے مقصد بناتا ہے
  • اس مقصد کے حصول کی حکمت عملی ترتیب دیتا ہے
  • ترتیب کردہ حکمت عملی پر عقلمندوں اور مخلصین سے مشورہ کرتا ہے
  • اپنی ذہن سازی کرتا ہے اور خود کو طے کردہ حکمت عملی پر چلنے کے لیے آمادہ کرتا ہے
  • پھر نہایت واضح سوچ کے ساتھ اپنی حکمت عملی پر مستقل مزاجی سے چلنے لگتا ہے
  • بوقت ضرورت، حسب حالات حکمت عملی کو تبدیل بھی کرتا ہے
  • اور آخر کار سکون کی منزل پا لیتا ہے

اگر آپ اپنی زندگی میں ٹھوکر کھا چکے ہیں تو جنگل کا رخ نہ کریں۔

نیت

نیت درست ہو تو انجانے میں بھی اگر ایک آدھ قدم اٹھ جائے تو بھی اس میں اعتماد جھلک رہا ہوتا ہے جبکہ نیت درست نہ ہو تو انسان کی ہر چال متزلزل اور ہر عمل منافقت و ڈھٹائی سے بھرپور ہوتا ہے لہٰذا

  • نیت ٹھیک کر لیجیے، عمل خود بخود ٹھیک ہوتے جائیں گے
  • عمل ٹھیک ہوں گے تو نتائج بھی اچھے نکلیں گے
  • نتائج اچھے نکلیں گے تو آپ کا نیک نیتی پر یقین پختہ ہوتا جائے گا
  • ایک بار یہ چکر چلا کر تو دیکھیں

بیساکھیاں

  • بیساکھیاں کتنی ہی عمدہ کیوں نہ ہوں، یہ آپ کی چال درست نہیں کرسکتیں
  • یاد رکھیں، باوقار چال وہی ہوتی ہے جو اپنے قدموں پر چلی جائے خواہ اس میں لڑکھڑاہٹ ہی کیوں نہ ہو
  • سہاروں کی تلاش چھوڑیے اور اپنے دست و بازو پر تکیہ کرتے ہوئے سرتوڑ کوشش کیجیے۔ مدد عرش معلیٰ سے براہ راست اترے گی

مزید پڑھیں: ناخوش زندگی کا سبب بننے والی سات عادتیں

کیچڑ

  • دانا کہتے ہیں کیچڑ میں پتھر نہ مارو، اپنا ہی دامن داغدار ہوگا
  • احتیاط کا اگلا رائج درجہ یہ ہے کہ کیچڑ سے دور چلے جائیں ورنہ کسی اور کے پتھر مارنے سے بھی آپ داغدار ہو سکتے ہیں
  • ان دونوں خوبصورت احتیاطی اقدامات کے بعد آپ تو کیچڑ کے چھینٹوں سے بچ جائیں گے لیکن کیچڑ خود اور دوسروں کے دامن داغدار ہونے کا خطرہ وہیں موجود رہے گا
  • البتہ سب سے بہترین کام تو یہ ہے کہ کیچڑ میں مٹی بھر دیجیے اور اس پر پھول دار پودا لگا دیجیے تاکہ جہاں سے تعفن اٹھتا تھا اور چھینٹے اڑتے تھے وہاں سے مہکتی ہوئی خوشبو نکلے اور گرد و پیش کی فضا کو معطر کر دے۔

یقین کیجیے، اس سے بڑھ کر معاشرے کی کوئی خدمت نہیں ہو سکتی۔

نوٹ: کیچڑ سے مراد معاشرے کا برا انسان اور اس میں مٹی بھرنے سے مراد فرد سے نفرت کی بجائے اُس کی اصلاح کی کوشش ہے۔

خود غرضی

خود کی فکر سب کو ہوتی ہے، ہونی بھی چاہیے

لیکن "صرف" خود کی فکر کرنے والا آخر میں صرف "خود" ہی رہ جاتا ہے

لہٰذا خود غرضی چھوڑیے اور خلق خدا کے لیے قربانی دینے کا جذبہ پیدا دیجیے

یقین کیجیے آپ گھاٹے میں نہیں رہیں گے

راست گوئی

راست گو شخص ہمیشہ متنازعہ ہوتا ہے، ہر دلعزیز نہیں

اگر آپ راست گو ہیں اور تنازعات سے ڈرتے ہیں تو راست گوئی چھوڑ دیجیے کیونکہ تنازعات راست گو شخص کو نہیں چھوڑ سکتے

جبکہ ایسا شخص جو حق بات کے بجائے ہمیشہ مخاطب کی پسندیدہ بات کرتا ہو، وہ سب کو اچھا لگتا ہے

یاد رکھیں یہی شخص منافق ہے اور اُس کے مخاطب خوشامد پسند

ایسے شخص سے بچیں، یہ کبھی نہ کبھی آپ کو ضرور ڈبو دے گا

مزید پڑھیں: زندگی میں اصل خوشی کی کنجی

صفائی

اکثر تنازعات کی بنیاد غلط فہمی پر ہوتی جس کا واحد توڑ ہے "صفائی" لہٰذا جونہی تنازعہ جنم لے، فوراً

  • اپنی صفائی دیں
  • دوسروں کو صفائی کا موقع دیں
  • جو صفائی دی جائے، اس پر یقین کریں
  • ایک دوسرے کے بارے میں گمان اچھا رکھیں
  • آنکھیں کھلی رکھیں

یہ انسانوں کے بنیادی معاشرتی حقوق ہیں جن کو ادا کیے بغیر باہمی تعلقات زندہ نہیں رہ سکتے

دھوکہ دہی

دھوکہ دہی کی کثرت دھوکے بازوں کی کثرت سے نہیں بلکہ احمقوں کی کثرت سے ہوتی ہے۔

باشعور و ہوشمند بنیے اور معاشرے سے دھوکہ دہی کا خاتمہ کیجیے۔

پچھتاوا

پچھتاوا درحقیقت وہ نعمت ہے جو نادانوں کی نگاہ میں باعث اذیت و شرمندگی ہے۔

جبکہ یہ

  • ضمیر کی پکار ہے
  • اصلاح کی پہلی منزل ہے
  • خطاؤں کا خاموش اعتراف ہے
  • اور انسان میں انسانیت کا ثبوت ہے

ورنہ ڈھیٹ، انا پرست، متکبر اور بے ضمیر انسانوں کے مقدر میں پچھتاوے کہاں۔

پچھتاوے جہاں مستقبل کو بہتر بنانے کا جذبہ پیدا کرتے ہیں وہیں ماضی میں دفن ہونے پر بھی مجبور کرسکتے ہیں۔

لہٰذا

  • پچھتاوے اپنے پاس سنبھال کر رکھیں، یہ آپکا سرمایہ حیات ہیں،
  • ماضی پر ایک آخری نگاہ ڈالیں اور آگے چل دیں،
  • جہاں ابھی بھی بہت کچھ آپ کا منتظر ہے