بابر اعظم نے 131 گیندوں پر پانچ چوکوں کی مدد سے 103 رنز کی اننگز کھیلی— فوٹو: اے ایف پی
بابر اعظم نے 131 گیندوں پر پانچ چوکوں کی مدد سے 103 رنز کی اننگز کھیلی— فوٹو: اے ایف پی

دبئی: پاکستان نے بابر اعظم اور شعیب ملک کی عمدہ بیٹنگ اور باؤلرز کی عمدہ کارکردگی کی بدولت سری لنکا کو پہلے ون ڈے میچ میں 83 رنز سے شکست دے کر سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی۔

دبئی میں کھیلے جا رہے سیریز کے پہلے ون ڈے میچ میں سری لنکا کے کپتان اپل تھارنگا نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا تو احمد شہزاد بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔

پہلی وکٹ جلد گرنے کے بعد فخر زمان اور بابر اعظم نے ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے آہستہ آہستہ اسکور کو آگے بڑھانا شروع کیا لیکن اس دوران قومی ٹیم تیز رفتاری سے رنز کرنے میں ناکام رہی خصوصاً بابر نے روایتی انداز کے برعکس نسبتاً سست بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔

دونوں کھلاڑیوں نے دوسری وکٹ کیلئے 64 رنز جوڑ کر ابتدائی نقصان کا ازالہ کرے کی کوشش کی لیکن 43 کے انفرادی اسکور پر دھننجیا نے فخر زمان کی وکٹیں بکھیر کر اپنی ٹیم کو دوسری کامیابی دلا دی۔

محمد حفیظ نے وکٹ پر آتے ہی جارحانہ انداز اپنایا اور تیزی سے اسکور کرتے ہوئے 32 رنز کی اننگز کھیلی لیکن اسی کوشش میں وہ جیفری ویندرسے کی وکٹ بن گئے۔

تین وکٹیں گرنے کے بعد تجربہ کار شعیب ملک کی وکٹ پر آم ہوئی اور انہوں نے آتے ہی جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے سری لنکن باؤلرز کو دباؤ کا شکار کر دیا۔

بابر اور شعیب نے تیسری وکٹ کیلئے 139 رنز کی شاندار شراکت قائم کر کے پاکستان کے بڑے اسکور کی راہ ہموار کی۔

شعیب ملک 61 گیندوں پر دو چھکوں اور پانچ چوکوں کی مدد سے 81 رنز کی عمدہ باری کھیلنے کے بعد آؤٹ ہوئے۔

بابر اعظم نے ون ڈے کرکٹ میں اپنی بہترین کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے چھٹی سنچری اسکور کی لیکن سنچری کی تکمیل کے ساتھ ہی 103 کے اسکور پر ان کی اننگز اختتام پذیر ہوئی جبکہ سرفراز صرف ایک رن بنا سکے۔

سری لنکن بلے باز ملندا سری وردنا کے باؤلڈ ہونے کا منظر— فوٹو: اے پی
سری لنکن بلے باز ملندا سری وردنا کے باؤلڈ ہونے کا منظر— فوٹو: اے پی

اچھی پوزیشن کے باوجود اختتامی اوورز میں پاکستانی ٹیم تیز رفتاری سے بیٹنگ کرنے میں ناکام رہی اور مقررہ اوورز میں چھ وکٹ کے نقصان پر 292 رنز بنا سکی۔

سری لنکا کی جانب سے سورنگا لکمل دو وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باؤلر رہے۔

جواب میں سری لنکن اوپنرز نے جارحانہ انداز میں اننگز کا آغاز کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو 30 رنز کا آغاز فراہم کیا لیکن رومان رئیس کے ہاتھوں اس شراکت کے خاتمے کے ساتھ ہی وکٹیں گرنے کا تانتا بندھ گیا۔

34 رنز ہر دو وکٹیں گرنے کے بعد لہیرو تھری مانے اور اپل تھارنگا نے ٹیم کی نصف سنچری مکمل کرائی لیکن محمد حفیظ نے تھارنگا کی وکٹیں بکھیر کر قومی ٹیم کو تیسری کامیابی دلائی۔

جب حسن علی نے لگاتار دو گیندوں پر کشال مینڈس اور ملندرا سری وردنا کو آؤٹ کیا تو 67 رنز پر آدھی سری لنکن ٹیم پویلین لوٹ چکی تھی۔

اس موقع پر تھری مانے کا ساتھ نبھانے تھسارا پریرا آئے اور دونوں نے ٹیم کی سنچری مکمل کرائی تاہم اس سے قبل کہ یہ شراکت خطرناک ثابت ہوتی، شاداب نے پریرا کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔

تھری مانے اچھی فارم میں نظر آئے اور 53 رنز کی اننگز کھیل کر ٹیم کو سنبھالا دینے کی بھرپور کوشش کی لیکن رومان رئیس کی گیند پر وکٹوں کے سامنے پیڈ لانے کی پاداش میں آؤٹ قرار دیے گئے۔

132 رنز پر سات وکٹیں گرنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جلد ہی سری لنکن ٹیم کی بساط لپٹ جائے گی لیکن ویندرسے اور اکیلا دھننجیا پاکستانی باؤلرز کے خلاف ڈٹ گئے اور 50 اوورز کھیلنے کی حکمت عملی اپنائی۔

دونوں کھلاڑی تیز رفتاری سے تو رنز نہ بنا سکے لیکن انہوں نے پاکستانی باؤلرز کو وکٹ لینے سے باز رکھا اور آٹھویں وکٹ کیلئے 68 رنز کی شراکت قائم کی اور سری لنکن ٹیم کی ڈبل سنچری مکمل ہوتے ہیں حسن علی نے ویندرسے کو آؤٹ کر کے اس شراکت کا خاتمہ کردیا۔

دھننجیا نے اننگز کی آخری گیند پر ون ڈے کرکٹ میں اپنی پہلی نصف سنچری مکمل کی اور سری لنکن ٹیم مقررہ اوورز میں آٹھ وکٹ کے نقصان پر 209 رنز بنائے۔

پاکستان کی جانب سے رومان رئیس اور حسن علی نے تین تین وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستان نے میچ میں 83 رنز سے کامیابی حاصل کر کے پانچ میچوں کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی۔

شعیب ملک کو 61 گیندوں پر 81 رنز کی اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

میچ کیلئے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل تھیں۔

پاکستان ٹیم میں احمد شہزاد، فخر زمان، شعیب ملک، بابر اعظم، محمد حفیظ، سرفراز احمد، عماد وسیم، رومان رئیس، شاداب خان، حسن علی اور جنید خان شامل ہیں۔

جبکہ سری لنکن ٹیم میں نروشان ڈک والا، اپل تھرنگا، کاسل مینڈس، لاہیرو تھری مانے، دنیش چندی مل، ملنڈا سری وردنا، تھیسارا پریرا، سرانگا لکمل، اکیلا دانان جیا، وشوا فرنینڈو اور دشنمنتھا چمیرا شامل ہیں۔