شی جن پنگ کا نام اور نظریہ کمیونسٹ پارٹی کے آئین میں شامل

شائع October 24, 2017

چین کی حکمران جماعت کمیونسٹ پارٹی نے ملک کے صدر شی جن پنگ کو گزشتہ صدیوں کا طاقت ور ترین لیڈر مانتے ہوئے ان کے نام اور نظریے کو پارٹی کے آئین میں شامل کرلیا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق کمیونسٹ پارٹی کی ایک اہم کانفرنس کے دوران نئے دور کی چینی خصوصیات کے حامل شی جن پنگ کے سوشل ازم کے تصور کو پارٹی آئین میں شامل کیا گیا۔

پارٹی آئین میں ترمیم کرتے ہوئے شی جن پنگ کی مسلح فوج پر مطلق حکمرانی، ان کی خارجہ پالیسی کے مزید فروغ اور ’ون بیلٹ ون روڈ‘ کے نام سے مشہور منصوبے کے بنیادی ڈھانچے کے اقدامات کو آئین میں شامل کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: 'پاکستان نےمشکل وقت میں چین کاساتھ دیا'

ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی مدد سے چین دیگر خطوں جیسے جنوب مشرقی ایشیا، وسطی ایشیا، افریقہ اور یورپ تک کے علاقوں سے روڈ، ریلوے اور بندرگاہوں کے ذریعے منسلک ہوجائے گا۔

شی جن پنگ نے پارٹی وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ چینی عوام کا مستقبل روشن ہے، اس وقت ہمیں زیادہ با اعتماد اور بافخر ہونا چاہیے جبکہ ہمیں اپنی ذمہ داری کا بھی احساس کرنا چاہیے۔

بیجنگ میں ایک آزاد سیاسی تجزیہ نگار زینگ لفان نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہر طرح سے شی جن پنگ کا دورِ حکومت سنجیدگی سے شروع ہوا اور کامیابیوں کی جانب گامزن ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے قبل صرف چین کے بانی ماؤزے تنگ کا نام پارٹی نظریے میں شامل کیا گیا تھا جبکہ وہ زندہ تھے، تاہم شی جن پنگ کا نام پارٹی آئین میں شامل کر کے ہم ایک نئے دور کا آغاز کر رہے ہیں جو آج تک کسی نے نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں: چینی صدر کے کتاب کی پاکستان میں رونمائی

شی نے اپنے تصور کو مرکزی طور پر پیش کیا جس کی مدد سے چین دورِ جدید کا ایک اہم سوشلسٹ ملک بننے کی راہ پر گامزن ہوا۔

شی جن پنگ نے 2021 میں پارٹی کی صد سالہ سالگرہ تک چینی معاشرے کو ایک ترقی یافتہ معاشرہ بنانے کا ہدف مقرر کیا ہوا ہے۔

چین اس وقت دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے جبکہ انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق چین فی کس سالانہ آمدنی میں 79ویں نمبر پر موجود ہے۔

کارٹون

کارٹون : 7 فروری 2026
کارٹون : 6 فروری 2026