’مولا جٹ-2‘ کی کاسٹ کو پروڈیوسر کی دھمکی

اپ ڈیٹ 04 نومبر 2017

ای میل

1979 کی فلم ’مولا جٹ‘ کے پروڈیوسر نے بلال لاشاری اور ان کی ٹیم پر کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کا الزام عائد کردیا  —۔
1979 کی فلم ’مولا جٹ‘ کے پروڈیوسر نے بلال لاشاری اور ان کی ٹیم پر کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کا الزام عائد کردیا —۔

پاکستانی فلم ’وار‘ کے ہدایت کار بلال لاشاری کی اگلی فلم ’مولا جٹ 2‘ کا انتظار طویل عرصے سے لوگ کررہے ہیں، تاہم اب فلم کو ایک مسائل کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔

1979 کی فلم ’مولا جٹ‘ کے پروڈیوسر نے بلال لاشاری اور ان کی ٹیم پر کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کا الزام عائد کردیا۔

مزید پڑھیں: 'مولا جٹ' کی ڈیجیٹل واپسی

ڈان سے بات کرتے ہوئے فلم ’مولا جٹ‘ کے پروڈیوسر محمد سرور بھٹی نے بلال لاشاری اور معروف مصنف ناصر ادیب پر الزام لگایا کہ ان دونوں نے انہیں ’گمراہ‘ کیا، اور ساتھ میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی فلم ’مولا جٹ‘ کو دوبارہ بنانے کے رائٹس کبھی کسی کو فروخت کیے ہی نہیں گئے۔

اپنے نوٹس میں محمد سرور بھٹی نے فلم کی کاسٹ ماہرہ خان، فواد خان، حمزہ علی عباسی اور حمیمہ ملک کو خبردار کیا کہ ’وہ اس پروجیکٹ سے دور رہیں اور جلد سے جلد ایسی غیر قانونی طور ہر بننے والی فلم سے خود کو علیحدہ کرلیں‘۔

نوٹس میں مزید لکھا گیا کہ ’آپ سب کو اپنی فیلڈ میں کافی عزت ملی ہے اور وہ ٹیم جو اس فلم کو غیر قانونی انداز میں دوبارہ بنا رہی ہے اس کو آپ کی عزت کی کوئی پرواہ نہیں، ہمارے خیال سے آپ کو خود اپنے بارے میں سوچنا چاہیے‘۔

یہ بھی پڑھیں: 'مولا جٹ 2' کے مداحوں کیلئے ہدایت کار کا اہم پیغام

محمد سرور بھٹی نے مزید دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے خبروں میں سُنا کے بلال لاشاری ’مولا جٹ‘ کا ریمیک بنا رہے ہیں تو انہوں نے ان سے رابطہ کیا، تاہم بلال لاشاری نے یقین دہانی کروائی کہ ان کی فلم ’مولا جٹ‘ کا ریمیک نہیں ہوگی۔

انہوں نے بلال لاشاری کی وہ فیس بک پوسٹ بھی یاد دلائی جس میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ ان کی فلم نہ تو ’مولا جٹ‘ کا سیکوئل ہے اور نہ ہی اس کا ریمیک ہوگی، جس کے بعد سرور بھٹی نے اس معاملے کو وہیں ختم کردیا۔

ان کے مطابق ’تاہم بعدازاں میں نے بلال کا ایک نیوز چینل کو دیا انٹرویو سُنا جس میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنی دوسری فلم پر کام کررہے ہیں جس کا نام مولا جٹ ہے‘۔

اس کے بعد سرور بھٹی نے بلال لاشاری کے والد کامران لاشاری سے اس معاملے پر بات کی اور انہیں فلم کے کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کے حوالے سے اگاہ کیا اور بلال لاشاری کو سمجھانے کی درخواست بھی کی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’بعدازاں انہیں مجھ سے ایک میٹنگ کرنی تھی جو کبھی ہوئی نہیں، بلکہ میں نے ایکسپریس ٹریبیون پر ایک خبر پڑھی جس میں کہا گیا تھا کہ مولا جٹ کو بنانے کے رائٹس بلال لاشاری اور عمارہ حکمت خرید چکی ہیں‘۔

مزید پڑھیں: ’مولا جٹ 2‘ سے ’ہمسفر‘ جیسی امید نہ رکھیں

اس پر سرور بھٹی نے دعویٰ کیا کہ فلم ’مولا جٹ‘ کے رائٹس اس کے مصنف ناصر ادیب کے پاس بھی نہیں، تو وہ بھی اسے بیچ نہیں سکتے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ میری فلم ہے، میرا فخر ہے، میں انہیں سزا دینے کے لیے کچھ بھی کروں گا‘۔

دوسری جانب جب فلم کی ٹیم سے اس حوالے سے سوال کیا گیا تو ان کے قریبی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ انہیں اب تک کوئی قانونی نوٹس موصول نہیں ہوا اور اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ اسے دیکھتے ہوئے ردعمل دیں گے۔