این اے 4 کے نتائج نے مستقبل کے اتحاد کی راہیں ہموار کردیں!

اپ ڈیٹ 27 اکتوبر 2017

ای میل

این اے 4 کے ضمنی انتخاب میں پاکستان مسلم لیگ ن، جمعیت علماء اسلام اور قومی وطن پارٹی کے انتخابی اتحاد سے ایک مشہور کہاوت یاد آگئی کہ اگر یہ گوشت ہے تو بلی کہاں ہے؟ اور اگر یہ بلی ہے تو گوشت کہاں ہے؟

کہاوت کچھ یوں ہے کہ ایک آدمی گھر میں ایک کلو گوشت لے کر آیا اور گھر میں موجود نوکرانی یا بیوی نے گوشت پکا کر کھالیا۔ آدمی نے جب گوشت کے بارے میں پوچھا تو اُس کو جواب ملا کہ گوشت تو بلی کھا گئی۔ آدمی کو بات ہضم نہیں ہوئی اِس لیے اُس نے فیصلہ کیا کہ بلی کا وزن کیا جائے گا۔ جب بلی کا وزن کیا گیا تو اُس کا کل وزن بھی ایک کلو ہی تھا، جس پر آدمی نے اپنی بیوی اور نوکرانی کو جواب دیا کہ اگر یہ گوشت ہے تو بلی کہاں ہے؟ اور اگر یہ بلی ہے تو گوشت کہاں ہے؟

2013 کے عام انتخابات کے نتائج پر ایک نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار ناصرخان موسیٰ زئی نے 20412 ووٹ لیے تھے جبکہ جمعیت علماء اسلام کے امیدوار نے 12519 ووٹ اور قومی وطن پارٹی نے 800 کے قریب ووٹ لیے تھے۔ اگر اِس بنیاد پر اِن ووٹوں کو جمع کیا جائے تو فیصلہ کرنا مشکل ہوجائے گا کہ ضمنی انتخاب میں ن لیگ کے حاصل کردہ 24790 ووٹ کس جماعت کے ہیں؟ اگر یہ ووٹ ن لیگ کے ہیں تو جمعیت علماء اسلام کے ووٹ کہاں ہیں؟ اور اگر یہ ووٹ جمعیت علماء اسلام کے ہیں تو ن لیگ کے ووٹ کہاں ہیں؟

ویسے حقیقت تو یہ ہے کہ گوشت کھانے والا بھی بخوبی جانتا ہے کہ یہ گوشت نہیں بلکہ بلی ہے اور دونوں سیاسی جماعتیں بھی خوب جانتی ہیں کہ یہ ووٹ کس کو پڑا ہے لیکن حقائق جانتے ہوئے بھی دونوں سیاسی جماعتیں معاملے کو اپنے حق میں لے جانے کے لیے ملنے والے ووٹ کو اپنا ووٹ کہہ رہی ہیں۔

بہرحال، معاملہ یہ ہے کہ تین جماعتوں کے مشترکہ اُمیدوار یعنی پاکستان مسلم لیگ ن کے ناصر خان نے اِس ضمنی انتخاب میں مجموعی طور پر 24790 ووٹ لے کر تیسری پوزیشن حاصل کی، لیکن 2013 کے مقابلے میں اِس جماعت نے کم و بیش 4 ہزار ووٹ کم لیے ہیں۔

اگر تحریک انصاف کے ووٹوں کا 2013 میں ملنے والے ووٹوں سے مقابلہ کیا جائے تو اِس جماعت نے بھی گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں تقریباً 9503 ووٹ کم حاصل کیے ہیں، لیکن اِس کے برعکس عوامی نیشنل پارٹی کے ووٹوں میں حیران کن طور پر اضافہ دیکھنے میں آیا۔

سیاسی جماعتوں کو 2013 کے عام انتخابات اور 2017 کے ضمنی الیکشن میں ملنے والے ووٹ

2013 میں عوامی نیشنل پارٹی کے اُمیدوار ارباب محمد ایوب جان نے 15795 ووٹ لیے تھے جبکہ اِس ضمنی انتخاب میں اِس پارٹی کے اُمیدوار خوشدل خان نے 24830 ووٹ حاصل کرکے دوسری پوزیشن حاصل کی، یعنی گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں عوامی نیشنل پارٹی نے اِس ضمنی انتخاب میں 9035 ووٹ زیادہ حاصل کیے، جو یقیناً اِس پارٹی کے لیے حوصلہ افزاء ہے۔

اِس ضمنی انتخاب میں بظاہر جس جماعت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے وہ جماعت اسلامی ہے کیونکہ 2013 میں اِس حلقہ میں جماعت اسلامی کی تیسری پوزیشن تھی اور اِس کے اُمیدوار صابر حسین اعوان نے 16493 ووٹ لیے تھے، مگر اِس انتخاب میں جماعت اِسلامی نے صرف 7660 ووٹ حاصل کیے جس کی وجہ سے اِس کی پوزیشن تیسری سے چھٹی ہوگئی ہے۔ اگر ووٹوں کے فرق کی بات کی جائے تو جماعت اسلامی نے گزشتہ عام انتخابات کے مقابلے میں اِس بار 8833 ووٹ کم حاصل کیے۔

گزشتہ روز ہونے والے انتخاب میں صرف عوامی نیشنل پارٹی نے ماضی کے مقابلے میں زیادہ ووٹ نہیں لیے بلکہ پیپلز پارٹی نے بھی خود کو سنبھالا ہے۔ پیپلز پارٹی نے 2013 میں اِس حلقے سے 12031 ووٹ لیے تھے جبکہ اب اِس کے ووٹوں میں اضافہ ہوا ہے اور تعداد 13200 تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب یہ ہوا پیپلز پارٹی نے 1169 ووٹ کا اضافہ کیا۔ لیکن اِس انتخاب میں جو مزید حیران کن فرق دیکھا گیا وہ تحریک لبیک پاکستان کا تھا جس نے پہلی مرتبہ اِس حلقے میں انتخاب لڑا اور 9934 ووٹ لیے۔

این اے 120 اور این اے 4 کا جائزہ

حال ہی میں منعقد ہونے والے لاہور کے حلقے این اے 120 کے ضمنی انتخاب اور پشاور کے حلقے این اے 4 کے ضمنی انتخاب کا جائزہ لیا جائے تو دونوں انتخاب میں کسی حد تک مماثلت موجود تھی۔ وہ ایسے کہ این اے 120 کا جب انتخاب ہوا تو سابق وزیراعظم نواز شریف کی سپریم کورٹ سے نااہلی ہوچکی تھی، اور جس دن این اے 4 میں انتخاب ہورہا تھا تو اُسی دن عمران خان الیکشن کمیشن میں معافی نامہ بھر رہے تھے جس کی وجہ سے جذباتی کارکنوں کو سخت دھچکا پہنچا تھا۔

دوسری مماثلت یہ کہ این اے 120 کے ضمنی انتخاب کے مہم کے دوران حمزہ شہباز شریف کے بیرون ملک جانے سے بھی انتخاب پر منفی اثر پڑا تھا جس سے انکار کرنا عقلمندی نہیں، اور ن لیگ کو بہرحال اِس مشکل صورتحال کا سامنا تھا، لیکن اتفاق دیکھیے کہ ایسی ہی پریشانی کا سامنا تحریک انصاف کو اُس وقت ہوا جب این اے 4 میں تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی گلزار کے انتقال کے بعد خالی ہونے والی نشست پر مرحوم گلزار کے بیٹے نے اعلان کیا کہ اب وہ تحریک انصاف کے ساتھ نہیں اور این اے 4 پر پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب میں حصہ لیں گے۔ اِس اعلان نے تحریک انصاف کے ووٹ بینک کو بہت حد تک نقصان پہنچایا کہ جب قیادت میں اختلاف ہیں تو بھلا ہم ووٹ کس کو اور کیوں دیں؟

این اے 120 اور این اے 4 کے نتائج کا جائزہ

2013 میں این اے 4 میں ہونے والے انتخاب میں تحریک انصاف کے ووٹوں کا تناسب 39 فیصد تھا جو اب 4 فیصد کم ہوکر 35 فیصد رہ گیا۔ اِسی طرح 2013 میں مسلم لیگ ن کے 14، جمعیت علماء اسلام کے 9 فیصد اور قومی وطن پارٹی کے ایک فیصد کو ملاکر یہ تناسب 24 فیصد بنتا ہے، لیکن اب تینوں جماعت کے مشترکہ اُمیدوار کے حاصل کردہ ووٹوں کا تناسب 19 فیصد بنتا ہے یعنی 5 فیصد کمی ہوئی ہے۔

اگر عوامی نیشنل پارٹی کی بات کی جائے تو اُس کو ملنے والے ووٹ کا تناسب 11 سے بڑھ کر 19 فیصد ہوگیا ہے، اسی طرح پیپلزپارٹی بھی دو فیصد اضافے کے بعد 8 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ جماعت اسلامی 11 فیصد سے 5 فیصد پر آگئی ہے۔

سیاسی جماعتوں کو ملنے والے ووٹوں کا تناسب

اگر این اے 120 کا ذکر کریں تو 2013 می مسلم لیگ ن کے ووٹوں کا تناسب 59 فیصد تھا جو 11 درجے کم ہوکر ضمنی انتخاب میں 48 فیصد ہوگیا ہے۔ اِسی طرح تحریک انصاف کے ووٹوں کا تناسب 34 فیصد تھا مگر اب یہ 3 درجے بڑھ کر 37 فیصد ہوگیا ہے، جبکہ پیپلزپارٹی کو ملنے والے ووٹوں کا تناسب 2013 میں بھی ایک فیصد تھا اور اب بھی اتنا ہی ہے۔ ضمنی انتخاب میں دو آزاد اُمیدواروں کو بھی اِس حلقے سے 4 اور 5 فیصد ووٹ ملے۔

یہ عام بات ہے کہ ضمنی انتخابات میں ووٹوں کا ٹرن آؤٹ کم ہوجاتا لیکن این اے 120 میں ضمنی انتخاب کے لیے سیاسی جماعتوں نے جس طر ح مہم چلائی تھی اور میڈیا نے جس طرح کوریج دی تھی، اُس کو دیکھ کر تو گمان ہو رہا تھا کہ اِس حلقے میں ووٹوں کا تناسب بڑھے گا لیکن حیران کن طور پر 2013 کے عام انتخابات میں یہاں جو ٹرن آؤٹ 51.85 تھا وہ ٹرن آؤٹ بھرپور مہم کے باوجود 12 فیصد کم ہوکر 39.42 رہ گیا۔ بالکل اِسی طرح این اے 4 پشاور میں عام انتخابات میں ووٹوں کا تناسب 40 فیصد تھا جبکہ ضمنی انتخاب میں اِس تناسب میں کمی آئی اور یہ 7 فیصد کم ہوکر 33 فیصد رہ گیا۔

لیکن یہاں جو سب سے اہم بات ہے وہ یہ کہ این اے 4 میں 7 جماعتوں کو 3 ہزار سے زیادہ ووٹ ملے ہیں اور اگر جمعیت علماء اسلام کا امیدوار بھی یہاں کھڑا ہوتا تو بلاشبہ 3 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کرنے والی جماعتوں کی یہ تعداد 8 ہوجاتی، لیکن اِس کے برعکس این اے 120 میں 3 ہزار سے زائد ووٹ لینے والی جماعتوں کی تعداد صرف 4 ہے۔

یہ سارے اعداد و شمار پیش کرنے کا بنیادی مقصد یہ بتانا ہے کہ پنجاب میں عوام کا رجحان دو جماعتوں کی طرف ہے یعنی پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف، اس لیے آئندہ عام انتخابات میں پنجاب میں کوئی بھی اتحاد پورے صوبے کے لیے کارگر ثابت نہیں ہوگا، اور سیاسی جماعتیں سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسمنٹ کی طرف زیادہ توجہ دیں گی، لیکن خیبر پختونخوا میں معاملہ بالکل مختلف ہے۔

این اے 4 کے ضمنی انتخاب کا جائزہ لینے کے بعد یہ کہنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آنی چاہیے کہ پختونخوا آئندہ عام انتخابات میں انتخابی اتحاد کے لیے زیادہ سازگار ہے۔ یہاں اگر پورے صوبے کی سطح پر سیاسی جماعتیں اتحاد کرلیتی ہیں تو اتحاد کے نتائج برآمد ہونے کے امکانات زیادہ ہیں کیونکہ ہر حلقے میں تمام جماعتوں کا ووٹ بینک موجود ہے۔

اگرچہ دونوں حلقوں یعنی این اے 120 اور این اے 4 کے موازنے کے بعد بھی حتمی رائے تو قائم نہیں کی جاسکتی لیکن اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ پنجاب میں شاید کوئی بڑا اتحاد نہ بن سکے کیونکہ وہاں اصل مقابلہ بہرحال ن لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان ہی ہونے والا ہے، لیکن این اے 4 میں ملنے والے ووٹوں کی روشنی میں یہ خیال ہے کہ خیبر پختونخوا میں وہی جماعتیں زیادہ کامیاب ہوں گی جو بہتر اتحاد کرسکیں گی۔

اِس حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن کی حکمت عملی بھی خوب معلوم ہوتی ہے جنہوں نے صوبے میں ہونے والے گزشتہ دو انتخابات میں اپنا نمائندہ کھڑا کرنے کے بجائے ن لیگ کی حمایت کی تاکہ اُن کے پتے کھل کر سامنے نہ آسکیں اور وہ آگے جا کر بہتر اتحاد بنانے میں کامیاب ہوسکیں۔

پختونخواہ میں اتحاد بنانے کے لیے سب سے زیادہ بہتر پوزیشن عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلزپارٹی کی معلوم ہورہی ہے کیونکہ دونوں ہی جماعتوں نے ماضی کے مقابلے میں زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں، لیکن اِس حوالے سے سب سے زیادہ مشکلات جماعت اسلامی کو رہے گی، لیکن پاکستان مسلم لیگ ن اور جمعیت علماء اسلام بھی مشکلات سے دو چار رہے گی۔

صورتحال یہ ہے کہ عام انتخابات میں 10 ماہ سے بھی کم وقت رہ گیا ہے اِس لیے اب بالعموم پورے ملک میں اور بالخصوص پختونخواہ میں سیاسی جماعتیں جوڑ توڑ کریں گی۔ لیکن جو اب تک کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے محسوس ہورہا ہے وہ یہ کہ پیپلزپارٹی کو اگلے آنے والے وقت میں فائدہ ہوگا کیونکہ وہ پختونخوا میں اکثریتی نشستوں پر عوامی نیشنل پارٹی کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی اِس کے بدلے کراچی میں عوامی نیشنل پارٹی کی حمایت کردے گی۔

لیکن یہ صرف ایک تجزیہ ہے جو ٹھیک بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی، اِس لیے ہمیں آنے والے وقت کا انتظار کرنا چاہیے کہ کون حالات کو اپنے حق میں بتانے ہوئے بہتر اتحاد کرتا ہے۔