بھارت نے حریف پاکستان کو بالاطاق رکھتے ہوئے ایران کی چاہ بہار پورٹ کے ذریعے افغانستان کے لیے تجارت کا آغاز کرتے ہوئے گندم سے لدا پہلا جہاز روانہ کردیا۔

بھارت کی جانب سے یہ شپمنٹ افغانستان کے لیے ایک تحفہ ہے جس کو کنڈالا کی مغربی بندرگاہ سے بھیجا گیا تھا اور افغانستان کے ٹرک ایرانی پورٹ چاہ بہار سے گندم کو اٹھا لیں گے۔

خیال رہے کہ بھارت، ایران اور افغانستان کی جانب سے گزشتہ سال جون میں اس پورٹ کو متعارف کرایا گیا جس کا ایک بڑا مقصد افغانی مصنوعات کو بھارتی مارکیٹ تک رسائی دلانا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال اگست میں اپنی نئی پالیسی میں بھارت سے افغانستان کی ترقی میں مزید تعاون کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

پاکستان اپنی سرزمین سے بھارت کو افغانستان سے تجارت کی اجازت نہیں دے رہا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات اس وقت کشیدہ ہیں۔

بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج کا کہنا تھا کہ یہ شپمنٹ بھارت، افغانستان اور ایران کے درمیاں خطے میں تجارت اور کاروبار کو وسعت دینے کا آغاز ہے۔

انھوں ںے کہا کہ 'مجھے یقین ہے کہ یہ ثقافت سے تجارت تک کے ہمارے سفر کا نقطہ آغاز ہے جس میں اقدار سےٹیکنالوجی، سرمایہ کاری سے انفارمیشن ٹیکنالوجی، خدمات سے حکمت عملی اور لوگوں سے سیاست تک کا سفر ہے'۔

یاد رہے کہ بھارت افغانستان اور ایران نے گزشتہ سال یہ فیصلہ کیا تھا کہ وسطی ایشیائی ممالک تک مشترکہ تجاری روٹ ترتیب دیا جائے۔

بھارت نے چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر سمیت ریلوے لائن اور سڑکوں کی تعمیر کے لیے 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا تھا جس کا ایک مقصد پاکستان اور چین کےدرمیان ہونے والے بڑے منصوبے سی پیک کے مقابلے میں کھڑا کرنا تھا۔