شمسی توانائی کی مدد سے سندھ کے دیہی علاقوں میں تبدیلی

اپ ڈیٹ 05 نومبر 2017

ای میل

اگر آپ کبھی نیشنل ہائی وے پر گھارو کے پاس سے گزریں ہیں تو آپ کو دھندھلے آسمان تلے بجلی کو ترستے گرڈ میں میگا واٹس کا اضافہ کرنے کی کوشش کرتی عظیم الجثہ ہوائی چکیاں دکھائی دیتی ہوں گی لیکن سندھ میں ہائی وے سے تھوڑا دورایک چھوٹے سے گاؤں اشک جوکھیو کے رہنے والوں کو بجلی کا انتظار نہیں، اگرچہ یہ گاؤں نیشنل گرڈ ٹرانسمیشن لائن سے زیادہ دور نہیں لیکن پھر بھی انہیں بجلی کا انتظار نہیں۔

کچھ ماہرین کا تخمینہ ہے کہ صوبہ سندھ میں توانائی کی فراہمی میں 1,000 میگا واٹ کی کمی ہے، جو گرمیوں میں مزید بڑھ جاتی ہے، جس کا مطلب بجلی کی کئی گھنٹوں کی لوڈشیدڈنگ اور بجلی کی فراہمی میں تعطل ہے اور اس سے زندگی کے تمام کاروبار ٹھپ ہوکر رہ جاتے ہیں۔

اشک جوکھیو گاؤں کے اکثر مرد دن کے وقت قریبی صنعتی علاقوں گھارو، دھابیجی، مکلی اور ٹھٹہ میں مزدوری کرتے ہیں، بعض تو روزی کمانے پاکستان کے معاشی حب کراچی تک چلے جاتے ہیں، جہاں روزگار کے بہتر مواقع موجود ہیں، لیکن کراچی میں زندگی سخت ہے، ملازمت کی تلاش میں آنے والے کچی بستیوں میں رہنے پر مجبور ہوتے ہیں جہاں نہ پانی ہے نہ بجلی جبکہ رہائش کے لیے مکانات گنجان اور گھٹن زدہ ہیں۔

اس کے علاوہ زندگی کی باقی ماندہ بنیادی ضروریات، خاص کر کھانا، گاؤں کے مقابلے میں زیادہ مہنگا ہے، جس وجہ سے وہاں کا رخ کم کرتے ہیں۔

سندھ کے ساحلی اور ڈیلٹائی علاقوں میں سرگرم عمل انڈس ارتھ ٹرسٹ (IET) ایسے پروگراموں کا حصّہ رہا ہے، جن میں گرین انرجی کو فروغ دے کر طرز زندگی بہتر بنایا جا رہا ہے، اسی مقصد کے لیے انڈس ارتھ ٹرسٹ نے ساحل سمندر کے نزدیک تجرباتی شمسی اور ہوائی نظام کے ذریعے گھارو، دھابیجی، مکلی اور ٹھٹھہ میں چھوٹے گرڈ بنائے ہیں۔

کم لاگت اور آسان تنصیب و دیکھ بھال کی وجہ سے شمسی توانائی ایک مقبول نعم البدل رہا ہے، پاکستان کے دور درازعلاقوں میں بجلی کے حصول کا واحد ذریعہ شمسی توانائی ہے، جس سے گھر اور سڑکیں روشن ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وقت کے ساتھ بدلتے سندھ کے دیہات

اس پروجیکٹ کا ماڈل انتہائی سادہ ہے، تشخیص برائے ضرورت کے سروے کے مطابق دیہاتوں کو منتخب کیا گیا، گاؤں والوں نے 19 کلو واٹ کے چھوٹے گرڈ کی تنصیب کے لیے زمین اور افرادی قوّت بھی فراہم کی، یہاں ہر گھر میں 2 بتیوں کے لیے کنکشن دیئے گئے ہیں، ساتھ ہی گاؤں کے مرکز اور سڑکوں کے لیے بھی روشنی کے کنکشن دیئے گئے جبکہ اس پروجیکٹ کی ابتداء پاکستان تخفیف غربت فنڈ نے IET کے ذریعے کی۔

اشک جوکھیو کی خواتین نے گھروں میں کاروبار شروع کردیا—فوٹو: لکھاری
اشک جوکھیو کی خواتین نے گھروں میں کاروبار شروع کردیا—فوٹو: لکھاری

جو لوگ کاروباری غرض سے اضافی کنکشن چاہتے ہیں ان کے لیے علیحدہ میٹر لگایا جاتا ہے اور انہیں استعمال شدہ یونٹ کے حساب سے بل ادا کرنا ہوتا ہے، بل جمع کرنے کے نظام کو "بیرونی ہاتھوں" میں جانے سے روکنے کے لیے، گاؤں میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کی ذمہ داری بل اکٹھے کرنا ہے۔

ایک تکنیکی سوجھ بوجھ والے شخص کو گرڈ کی دیکھ بھال، نمی صاف کرنے اور جانوروں کو گرڈ سے دور رکھنے کی تربیت دی گئی، کسی قسم کی پیچیدہ خرابی کی صورت میں IET انجنیئر کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔

نسرین محمّد کراچی میں پلی بڑھی ہیں، جب انہوں نے اپنے گاؤں میں چھوٹے گرڈ کے ذریعہ ذاتی کاروبار کے بارے میں سنا تو اپنے خاوند کو بجلی کے کنکشن کے لیے درخواست دینے پر زور دیا، کیونکہ وہ واشنگ مشین چلانا اور کپڑے استری کرنا جانتی ہیں، اب وہ اور ان کے شوہر صالح گھر سے لانڈری سروس چلاتے ہیں، جبکہ بجلی کا بل (قریباً 8 تا 10 ڈالر ماہانہ ) ادا کرنے کے بعد بھی ان کے پاس اتنا بچ جاتا ہے کہ صالح کو قریبی علاقوں میں مزدوری کے لیے نہیں جانا پڑتا، اس سے پہلے وہ کیروسین اور موم بتی پر ماہانہ 35 ڈالر خرچ کرتے تھے۔

اسی طرح محمّد رمضان کی زندگی بھی اب بدل گئی ہے، وہ روز گاؤں کے نزدیک چھوٹی نہروں سے چند کیکڑے پکڑتے اور ہائی وے پر تین ڈالر میں بیچتے تھے، اب چھوٹے گرڈ کی بدولت وہ موٹر چلا کر کیکڑوں کو ٹینک میں آکسیجن فراہم کرسکتے ہیں، جس سے ان کی صحت بہتر ہوتی ہے اور قیمت بھی اچھی ملتی ہے، اب ان کا ایک چھوٹا کاروبار چل پڑا ہے، انہوں نے چار ملازم بھی رکھ لیے ہیں، جنہیں وہ ماہانہ 100 ڈالر تنخواہ دیتے ہیں، ملازم کیکڑوں کو صاف کرتے، انہیں چھانٹتے اور بیچتے ہیں، جس سے ماہانہ 250 ڈالر کا منافع ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: توانائی بحران اور بدلتا ہوا سندھ

بچو کوہلی میں لوگ اب سورج غروب ہونے کے بعد بھی جاگتے رہتے ہیں، بچے اب اندھیرا ہوجانے کے بعد بھی پڑھ سکتے ہیں، اور عورتیں کڑھائی اور رلی کا کام کرسکتی ہیں جبکہ ایک اور اچھی بات یہ ہے کہ ایسا علاقہ جہاں رفع حاجت کھلے آسمان کے نیچے ایک عام بات ہے، مغرب کے بعد سڑکوں پر روشنی سے خواتین کے لیے باہر نکلنا محفوظ ہوگیا ہے۔

’جسٹ لائٹ از ناٹ انف‘ نامی یہ پروجیکٹ تمام فوائد کو ذہن میں رکھتے ہوئ تشکیل دیا گیا تھا۔

انڈس ارتھ کے سی ای او، شاہد سعید خان نے دی تھرڈ پول ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ’لوگوں کو بجلی کی ضرورت ہے تاکہ وہ اندھیرے میں دیکھ سکیں، لیکن انہیں اپنی زندگی بہتر بنانے کے لیے مزید توانائی کی ضرورت ہے، تاکہ وہ اپنے کاروبار کو بڑھا سکیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے کاروباری ادارے بنائے جانے کی حوصلہ افزائی کی ہے، کاروبار جیسے درزی کی دکان، مشروب اور دودھ کے اسٹال، ریسٹورانٹ جہاں ٹی وی بھی ہو، موٹر سائیکل مرمت کے لیے دکان اور کیکڑے پروسیسنگ پلانٹ، سب گاؤں میں لگائے گئے ہیں، خواتین نے اپنی خود کی سلائی کی دکان کھول لی ہے اور کمیونٹی میں کپڑے بیچتی ہیں، اب لوگ اپنی کوششوں سے زندگی کو مزید بہتر بنا رہے ہیں‘۔

شاہد سعید خان کے مطابق رفتار سست ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ گاؤں والوں کی زندگی بدل رہی ہے، اس کا سب سے واضح نشان نئے تعمیر ہونے والے مکانات ہیں، جنہیں وہی لوگ بنا رہے ہیں، جو بہتر ذریعہ معاش کی تلاش کے لیے اپنا گاؤں چھوڑ کر کراچی چلے گئے تھے۔

کراچی جانے والے لوگوں کے واپس آنے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دارالحکومت جانے والے لوگ بجلی کی بلاتعطل فراہمی کی وجہ سے ہی گاؤں میں واپس آئے، اور یہ واپسی ترقی کا واضح نشان ہے، اس سے شہری علاقوں سے آبادی کا دباؤ بھی کم ہوگا۔


یہ مضمون ابتدائی طور پر ’دی تھرڈ پول‘ میں شائع ہوا اور مذکوہ ویب سائٹ پر اسے اجازت سے شائع کیا گیا۔


عافیہ سلام فری لانس صحافی ہیں، وہ کرکٹ، ماحولیات، آب و ہوا کی تبدیلی، صنفی مسائل اور میڈیا کی اخلاقیات پر لکھتی ہیں- وہ ٹوئٹر @afiasalam کے نام سے لکھتی ہیں۔